سوشل میڈیا فوائد و نقصانات

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: حافظ امیر حمزہ، سانگلہ ہل
دنیا میں جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ نے وجود بخشا ہے، وہ سب چیزیں حضرت انسان کے لیے ہیں اور اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے پیدا کی گئی چیزوں کو احاطہ تحریر میں لانا چاہیں تویہ ناممکن بلکہ حضرت انسان کے بس کی بات نہیں، کیونکہ قر آن مجیدمیں باری تعالیٰ کا فرمان ہے: 146146 اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کر سکتے145145(القرآن)۔ یہ رب العزت کی ہم لوگوں پر بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں گنہگار ، سیاہ کار الغرض بے تحاشہ نافرمانیاں کرنے کے باوجوداپنی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے اور ہم عطاکی ہوئی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر لوگ بعض نعمتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں ، مثال کے طور پر مال و دولت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اگر کوئی اس مال و دولت کو اچھے کاموں میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہے اور اگر کوئی اس مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے دونوں جہانوں میں ندامت و شرمندگی کا باعث ہے۔
ایک چاقو ہے اگر اس سے کوئی پھل اور سبزی وغیرہ کاٹتا ہے تو یہ اس کا صحیح استعمال ہے لیکن اگر کوئی اسی چاقو کو کسی کے پیٹ میں مارتا ہے تو یہ اس کا غلط استعمال ہے۔اس مثال سے یہ پتہ چلا کہ کوئی چیز بھی بذات خود بُری نہیں ہوتی بلکہ اس چیز کاغلط استعمال بُرا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور سے نوازا ،پھر ساری مخلوق سے ممتاز بنا کر اسے اشرف المخلوقات کا سرٹیفکیٹ عطا کردیا کہ انسان ہر چیز کے فوائد اور نقصانات کو مدنظر رکھ کراس دنیا میں اپنی زندگی کے شب و روزگزارے۔ جو بندہ بھی کسی چیز سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ رب العالمین کی بے پناہ نعمتوں میں سے ایک نعمت جو عنوان میں مذکور ہے اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں وہ ہے146146 سوشل میڈیا 145145آج کے دور میں ہر ملک ایک دوسرے سے ترقی کے میدان میں سبقت لے جارہا ہے اور ترقی اپنے عروج پر ہے،ہر ملک کے ہر طبقہ میں146146 سوشل میڈیا 145145کو کثرت سے استعمال کیا جارہا ہے اور دن بدن اس کا استعمال بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔146146 سوشل میڈیا 145145کے استعمال کو ہر طبقہ کے لوگ اپنے اپنے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں۔آج سے کچھ سال پہلے لوگوں کے خیر خواہ علماء کرام اس کے استعمال کے بارے میں منع کرتے تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور انہیں اس کے فوائد کا علم ہوا توانہوں نے سوچا کہ اس کے ذریعے بھی دین اسلام کی تبلیغ و نشرو اشاعت کا کام کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے اس کو صحیح استعمال کی شرط سے جائز قرار دیا۔
میں نے ایک مرتبہ ایک عالم دین سے کوئی مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فوراً اپنی جیب سے موبائل فون نکالا اور موبائل کے کی پیڈ سے کچھ لکھ کر سرچ کیا اور چند ہی سیکنڈ بعد کچھ پڑھنا شروع ہو گئے، تھوڑی دیر بعد مجھے اس مسئلے کے بارے میں اچھی طرح جواب دے دیا،جس سے دل مطمئن ہو گیا۔ میں نے پوچھا آپ نے مجھے اسی وقت جواب کیوں نہیں بتایا ؟ کہنے لگے مجھے آپ کے سوال کے بارے میں معلومات کم تھی میں نے پہلے نیٹ پر سرچ کر کے اپنی تسلی کی پھر آپ کو جواب دیااور پھر کہنے لگے اگر اس 146146سوشل میڈیا145145 کا استعمال درست کیا جائے تویہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے اور اس کے ذریعے دین اسلام کے بارے بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔اس بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ146146 سوشل میڈیا145145 پر بہت بڑامعلومات کا ذخیرہ موجود ہے ، لاکھوں کروڑوں نایاب اور فائدہ مندکتب موجود ہیں، جس سے اگر ایک طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھانا چاہے تو یہ کوئی بعید نہیں بلکہ اس کے لیے یہ146146سوشل میڈیا145145 فائدہ مند ، دل کا قرار اور سکون کا باعث بن سکتا ہے اگر کوئی کہیں سفر کے لیے جارہا ہے اور اسے راستہ بھول گیا ، وہ انٹرنیٹ پر سرچ کرکے اپنی منزل مقصود تک آسانی سے پہنچ سکتاہے۔ایسے ہی پہلے کسی کی خیریت اور حال احوال پوچھنے کے لیے کال صرف آڈیو ہوا کرتی تھی اب سینکڑوں لاکھوں میل دور اس سوشل میڈیا کی مدد سے ویڈیو کال ہو جاتی ہے اور اپنے محسنوں کی خیرو عافیت دریافت کرنے میں آسانی ہو گئی ہے وغیرہ۔
اس بے مثال نعمت خداوندی یعنی 146146سوشل میڈیا145145 کو اگر ضرورت کی حد تک استعمال کیا جائے تو اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے، وگرنہ اس کا نقصان بھی بہت زیادہ ہے ۔ نقصان اس طرح کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے146146 سوشل میڈیا145145 کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنا لیا ہے، چاہے دن ہو یا رات ہر وقت اسی میں مگن اور مصروف نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے قریبی رشتوں کو نظر انداز کیا جا رہا،بچے اپنے والدین کے پاس نہیں بیٹھتے اور نہ ہی ان کی باتوں کو دھیان سے سنتے ہیں ، والدین اپنی اولاد کے ایسے رویوں کی وجہ سے پریشان ہیں کہ ہماری اولاد کو کیا ہو گیا،بات نہیں مانتے اور ہر وقت موبائل فون میں مصروف رہتے ہوئے146146 سوشل میڈیا 145145پر بے ہودہ ویڈیوز اور تصاویر دیکھنا یہ بھی ایک معمول بنتا جارہا ہے اور پھر ایسی ویڈیوز اور تصاویر کواپنے دوستوں میں شیئر کرنا یہ بھی عروج پر ہے ،ایسی قبیح حرکات کی وجہ سے گھروں میں شرم و حیا ختم ہوتی جارہی ہے کہ جس حیا کے بارے میں پیارے نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:146146 حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے145145(مسنداحمد)۔ اگر کسی میں شرم و حیا ختم ہو جائے تو گویا پھر اس انسان میں ایمان کی کمی واقع ہو جاتی ہے،اسے اپنے ایمان کی کمی کو دور کرنے کے لیے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
غور و فکر اور ملحوظ خاطر رکھنے والی بات یہ ہے کہ146146 سوشل میڈیا145145 معاشرے میں ہر فرد کی ضرورت بنتا جا رہا ہے، اب اس کے جہاں فوائد بہت زیادہ ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی اسی طرح ہیں اگر ہم دنیا و آخرت میں اللہ کریم کی رضامندی اور کامیابی چاہتے ہیں توپھر اس کے فوائد کو مدنظر رکھ کرصرف ضرورت کی حد تک استعمال کریں ۔وماتوفيق الا بالله

171 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/yxqdsc9p
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *