چراغِ مردہ سے امیدِ انقلاب نہیں

Print Friendly, PDF & Email

کھلا ہے شمس کہ اس پر کوئی نقاب نہیں
حقیقتوں کا ہے منظر کوئی سراب نہیں

ہمارے دن میں اندھرا ہے آفتاب نہیں
ہماری شام کے حق میں بھی ماہتاب نہیں

یہ سیدھا سادھا سا فطرت کا اک تقاضا ہے
جہاں پہ خارنہیں ہیں وہاں گلاب نہیں

میری نگاہوں سے اوجھل کرو چراغوں کو
کہ ان میں پہلی سی برقیلی آب و تاب نہیں

بجھے چراغوں پہ پروانے طنز کرتے ہیں
چراغِ مردہ سے امیدِ انقلاب نہیں

یہ ظلمتوں کے پجاری ہیں ان سے دور رہو
یہ ننگ عقل ہیں جن کا کوئی نصاب نہیں

یہ وہ چراغ ہیں جن پر کبھی تھا ناز ہمیں
نثارِ جان ہوں پروانوں کا حساب نہیں

***
شاعر : احمد نثار
ممبئی، مہاراشٹرا

1,049 total views, 2 views today

Short URL: Generating...
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...