٭ تبصرہ کتب ٭

نوک نوک۔۔کامیابی ہے منتظر

تبصرہ کار : حسیب اعجاز عاشرؔ ’’آؤ کسی مقصد کے لئے جیتے ہیں،آؤ کسی مقصد کے لئے مرتے ہیں۔۔۔میری سوچ کا محور اسلام امت اور پاکستان۔۔۔سب کچھ نہ سہی کچھ نا کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ہاں میرا دل بار بار مجھ

نصرت عزیزاور”اک ذرا سی بات”۔

تبصرہ کار: شاہداقبال شامی میں نے اپنی زندگی میں ایسے بہت سے لکھنے والے دیکھے ہیں وہ جو لکھتے ہیں کرتے اس کے برعکس ہیں،ان کے قول فعل میں تضاد واضح جھلکتا ہے ،لکھتے وہ رشوت کے خلاف ہیں لیکن

میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے

تبصرہ کار: اختر سردار چودھری ،کسووال دوسال قبل سوشل میڈیا پر جبارواصف سے اِن کے دکھ درد بھرے،غموں سے لپٹے اشعار پڑھ کر دوستی ہوئی ،اسی دوران میں نے اجازت لے کر ان کی بہت ساری شاعری کو اپنے کالموں

صحافت کی مختصر تاریخ (قوانین و ضابطہ اخلاق)۔

صحافت کا خاص طور پر اردو صحافت کا علمی ، ادبی ،تعلیمی، ثقافتی اور تہذیبی پہلو بھی ہے۔ہم عام طور پرعلمی پہلو کو دیکھیں تو اخبار ہی واضح دیکھا جاسکتا ہے۔جس میں علم کے حوالے سے بہت ساری معلومات میسر

صدائے علم

مصنف: سمیع اللہ خان تبصرہ کار: اختر سردار چودھری، کسووال کتاب سے دوستی مگر کس کتاب سے ، یہ درست ہے کہ کتاب انسان کے ذہن کو کھولتی اور اچھی دوست بھی ہے لیکن کو ن سی کتاب؟ سب سے

جبار واصف کا شعری مجموعہ ’’میری آنکھوں میں کتنا پانی ہے‘‘۔

تبصرہ: سید انور محمود دوستو! بروز بدھ 20 جولائی 2016 خوبصورت اور جدید لہجے کے شاعر جناب جبار واصف صاحب کے لیے ایک بہت ہی یاد گار دن تھا، اس دن جبار واصف صاحب کے شعری مجموعے’’میری آنکھوں میں کتنا

قفس میں رقص!۔۔۔۔ تبصرہ نگار: اختر سردار چودھری ،کسووال

مختصر اور منتخب افسانوں اورکہانیوں کا مجموعہ’’قفس میں رقص‘‘ کا میں گزشتہ چنددن سے مطالعہ کر رہا ہوں ۔اس میں کل 26کہانیاں ہیں، اور26 ہی لکھاری ہیں ۔چند ایک کے سوا سب نئے لکھاری ہیں ۔مجموعی طور پر کتاب قابل

مجھے تتلیوں سے پیار ہے۔۔۔۔ تبصرہ نگار:شہزاد حسین بھٹی

ممتاز شاعرہ صفیہ انور صفی کا پہلا شعری مجموعہِ کلام “مجھے تتلیوں سے پیار ہے”میرے ہاتھوں میں ہے۔ الفاظ کے خوش رنگ لباس میں ہر سو ہجرو فراق کا رقص کرتی ہوئی تتلیاں اپنے تمام تر توانا ادبی رنگوں کے

بونا نہیں بے وقوف۔۔۔۔ تبصرہ نگار: اختر سردار چودھری ،کسووال

۔’’بونا نہیں بے وقوف ‘‘جناب حافظ مظفر محسن کی کتاب ہے۔جسے حسن عباسی صاحب نے مرتب کیا ہے ۔اس میں کل 68مضامین ہیں۔ جو 368 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں ۔بلکہ کہنا چاہئے کہ محسن صاحب نے زبردستی پھیلائے ہیں

میرا کیمبل پور۔۔۔۔ تبصرہ نگار: امجد ملک

اٹک , سابقہ کیمبل پور سے دلچسبی رکھنے والوں کو ایسی کتابیں ضرور پڑھنی چاہیں. اٹک کی سب سے خاص روایت جو بہت متاثر کن تھی. وہ اسکے باسیوں کا آپس میں ملنا ملانا , ہنسی مذاق , محفلیں ,