٭ تبصرہ کتب ٭

شگوفہ سحر

تبصرہ: نبیلہ خان ابن ریاض کا نام ادب کی دنیا میں جانا پہچانا نام ہے۔وہ اپنے شگفتہ انداز بیاں کی وجہ سے لوگوں میں کافی مقبول ہیں۔ان کے مزاحیہ کالموں کی وجہ سے فیس بک اور اس کے ارد گرد

ایک اندھی دلہن کا گیت

تبصرہ کار: اختر سردار چودھری ،کسووال  معروف ماہر تعلیم ،رائٹر ،شاعر،بہاالدین زکریا یونیورسٹی لیہ کیمپس کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈی نیٹرظہور حسین کی انگلش شاعری کی پہلی کتاب۔اے سانگ آف بلائنڈ برائڈ ۔کے بارے میں ایک تحریر ظہور حسین بہاالدین

اکرم قریشی!شخصیت و فن! ایک مستند ادبی دستاویز

تبصرہ کار :منشاء فریدی ’’اپنے سرخروجانشین جناب منشاء فریدی کے ذوق مطالعہ کے لیے ۔۔۔! جی ہاں ۔۔۔ یہ وہ جملہ ہے جو ایک تحقیقی و تاریخی اہمیت کی حامل کتاب پر میرے استاد محترم فرید ساجد نے اس وقت

اک ذرا سی بات

تبصرہ نگار: حسیب اعجاز عاشرؔ پرنٹ میڈیا ہویاالیکٹرانک میڈیا،یاپھرسوشل میڈیاہی کیوں نہ ہو،ادبی،قلمی،سیاسی،فلاحی،علمی، ہر طبقہ فکر سے وابستہ شخصیات کے مابین اپنے ہنر،اعزازات ،کمالات،صلاحیتیں گنوا کر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ نظر آ رہی ہے ۔جیت جانے کی

عکاس انٹرنیشنل 25 عباس خان نمبر

تبصرہ کار: اختر سردارچودھری، کسووال عکاس انٹرنیشنل ادبی کتابی سلسلے کا پچیس واں ایڈیشن عباس خان نمبر اس وقت میرے ہاتھوں میں ہے جو کہ ایک عمدہ کا وش ہے۔عکاس انٹرنیشنل کسی علمی وادبی دستاویز سے کم نہیں ہے۔ 232صفحات

۔”قفس میں رقص“میں رقاص کہانیاں

تبصرہ کار:حسیب اعجاز عاشرؔ شناسائی سے بات کا آغاز ہو تو میری یاداشت اتنی اچھی تو نہیں مگر جو دل میں گھر کرلیتے ہیں تو اُنکی ہر ادا ہر بات کسی نہ کسی بہانے یاد رہ ہی جاتی ہے۔یہ10جون 2014کی

واقعات لاہور

تبصرہ کار: اختر سردار چودھری ، کسووال ادب و صحافت ،سیاحت و ثقافت ،ماضی اور حال کی تاریخ بتاتی ہے کہ جس قدر لاہور کے حوالے سے کتابیں ،مضامین ،یاد داشتیں لکھی گئی ہیں ۔کسی اور شہر کے بارے میں

عہد راحیل شریف، پاک فوج کے کارہائے نمایاں

تبصرہ کار: اختر سردار چودھری ،کسووال پاک فوج کی جرات ودلیری،عزم وحوصلے، ایمان ویقین ، ایثار وقربانی کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ،وطن عزیز کی سرحدوں کا دفاع ہو یا قدرتی آفات ، امن و امان کا مسلہ ہو

۔’’صدائے علم‘‘۔۔خزانہِ علم

ازقلم: حسیب اعجاز عاشرؔ میرے محسن دوست اخترسردار چوہدری کی جانب سے خوبصورت تحفہ سمیع اللہ خان کی مرتب کردہ کتاب’’صدائے علم‘‘میرے سامنے ہے۔مطالعہ کے بعد سوچ و قلم اِس کشمکش میں ہیں کہ اپنے تاثرات کو کیا عنوان دوں؟

نوک نوک۔۔کامیابی ہے منتظر

تبصرہ کار : حسیب اعجاز عاشرؔ ’’آؤ کسی مقصد کے لئے جیتے ہیں،آؤ کسی مقصد کے لئے مرتے ہیں۔۔۔میری سوچ کا محور اسلام امت اور پاکستان۔۔۔سب کچھ نہ سہی کچھ نا کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ہاں میرا دل بار بار مجھ