٭ تبصرہ کتب ٭

ذوق ۔ ادبی مجلے کا اجراء

تبصرہ: شہزاد حسین بھٹیکالم: سین ادب کی ترویج و اشاعت میں جو کردار رسائل کا رہا ہے وہ کتاب کلچر یا دیگر ادبی سرگرمیوں سے کہیں بڑھ کے ہے۔خوش قسمتی سے اْردو میں بہت سے اہم جرائد و رسائل اس اہم

وصالِ یار

تحریر و تبصرہ: شہزاد حسین بھٹی ایک ایسے معاشرے میں جہاں تہذیب کے سبھی دائرے زنجیریں بن کر صنف نازک کو جکڑ لیتے ہیں وہاں پر خواتین بھی ادب تخلیق کرتی ہیں لیکن معاشرتی حالات کے مطابق انکی آواز ایک

رُودادِ زیست ( صفیہ انور صفی بحیثیت خطہ تھل کی پہلی ناول نگار)

تحریر و تبصرہ: شہزاد حسین بھٹیناول ادب کی ایک انتہائی اہم صنف ہے۔ جو ہماری زندگی کی مختلف گتھیوں کو سلجھانے میں مدد دیتی ہے۔ ناول میں پرانے قصوں ، افسانوں اور داستانوں کے برعکس انسانی زندگی کا قصہ ہوتا

سجاد سرمد بحثیت خاکہ نگار

تحریر : شہزاد حسین بھٹیخاکہ کسی شخصیت کا معروضی مطالعہ ہے۔ سوانح نگاری کی بہت سی صورتیں ہیں، ان میں سے ایک شخصی خاکہ ہے۔ دراصل یہ مضمون نگاری کی ہی ایک قسم ہے، جس میں کسی شخصیت کے ان

سپہ وطن

محمد طاہر تبسم درانی ایک جانے پہچانے کالم نگار ہیں ، طاہر درانی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ وطن کی آن سے جُڑے ہوئے ہیں اُن کے اندر بھی ایک سپاہی کا جذبہ پنہاں ہے جو

شگوفہ سحر

تبصرہ: نبیلہ خان ابن ریاض کا نام ادب کی دنیا میں جانا پہچانا نام ہے۔وہ اپنے شگفتہ انداز بیاں کی وجہ سے لوگوں میں کافی مقبول ہیں۔ان کے مزاحیہ کالموں کی وجہ سے فیس بک اور اس کے ارد گرد

کمرہ نمبر 109

تبصرہ نگار : مجید احمد جائی کمرہ نمبر109اپنے اندر بہت سے طوفان لئے ہوئے ہے۔یونہی کمرہ نمبر109کا لفظ پڑھتے ہیں تو فوراذہن پوری دُنیا کا نقشہ اپنے اندر لے آتا ہے اور پھر متلاشی نظروں کو ،کسی ہسپتال ،جیل کی بیرک

ایک اندھی دلہن کا گیت

تبصرہ کار: اختر سردار چودھری ،کسووال  معروف ماہر تعلیم ،رائٹر ،شاعر،بہاالدین زکریا یونیورسٹی لیہ کیمپس کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈی نیٹرظہور حسین کی انگلش شاعری کی پہلی کتاب۔اے سانگ آف بلائنڈ برائڈ ۔کے بارے میں ایک تحریر ظہور حسین بہاالدین

اکرم قریشی!شخصیت و فن! ایک مستند ادبی دستاویز

تبصرہ کار :منشاء فریدی ’’اپنے سرخروجانشین جناب منشاء فریدی کے ذوق مطالعہ کے لیے ۔۔۔! جی ہاں ۔۔۔ یہ وہ جملہ ہے جو ایک تحقیقی و تاریخی اہمیت کی حامل کتاب پر میرے استاد محترم فرید ساجد نے اس وقت

اک ذرا سی بات

تبصرہ نگار: حسیب اعجاز عاشرؔ پرنٹ میڈیا ہویاالیکٹرانک میڈیا،یاپھرسوشل میڈیاہی کیوں نہ ہو،ادبی،قلمی،سیاسی،فلاحی،علمی، ہر طبقہ فکر سے وابستہ شخصیات کے مابین اپنے ہنر،اعزازات ،کمالات،صلاحیتیں گنوا کر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ نظر آ رہی ہے ۔جیت جانے کی