بھارت میں آزادی کی تحریکیں

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی
بھارت دنیاکی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت ہے اور اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی ایسی ریاست ہے جہاں کی اقلیتیں بے حد پریشان اور ہر لحظہ مرکزسے علیحدگی کی راہ پر گامزن ہیں۔بھارت کے مشرق و مغرب میں چھوٹی اقوام اور چھوٹے مذاہب کے لوگ ملکی اکثریت کی پالیسیوں سے بے حد نالاں اور ناک تک تنگ آ چکے ہیں ،اکثر مقامات پر آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے آزادی کی جدوجہد جاری ہے تو کتنے ہی دوردراز کے مقامات ایسے ہیں جہاں کے لوگوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ہتھیاراٹھا رکھے ہیں جبکہ کوئی بہت زیادہ اہم خبر ہو تو مقامی اور بین الاقوامی میڈیاتک پہنچ پاتی ہے بصورت دیگر برہمن کی سیاسی و مذہبی اجارہ داری کی ظالم چکی میں بھارت کے نیچ،ملیجھ اوردیگرغیر عقائد کے پیروکارنسلوں اور صدیوں سے بری طرح پسے چلے آرہے ہیں اورکسی کو خبر تک نہیں ہونے پاتی۔بھارتی فوج کی چیرہ دستیاں اس پر مستزادہیں جس نے ریاستی دہشت گردی کی حد کررکھی ہے اور قانون سے بالاتر عقوبت خانوں میں مقامی شہریوں کو اغواکرکے انہیں صفحہ ہستی سے عنقا کر دیا جاتاہے جبکہ وارثین سالوں تک پیچھاکرتے کرتے تھک ہار جاتے ہیں۔سیکولرازم کے ان شاخسانوں سے دنیاکے ’’عالمی جگہ گیروں‘‘نے آنکھیں موند رکھی ہیں کیونکہ بنیادی طور پر وہ بھی اسی ’’سیکولرازم‘‘کے ماننے والے ہیں جس سے قبیلہ بنی آدم نے انسانیت کے نام پر خون سے غسل اور لاشوں کے تحفے ہی پائے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سنتالیسویں اجلاس میں دنیابھر کی علیحدگی پسند تنظیموں کی باقائدہ جائزہ لیاگیااور طے کیاگیاکہ جو علیحدگی پسند تنظیمیں اقوام متحدہ سے رابطہ کریں گی ان کی شنوائی کی جائے گی لیکن اس کے لیے کچھ ضوابط مقرر کیے گئے جن کے مطابق قوم کی تعریف کی گئی اوران بنیادوں کو بھی اس سیشن میں واضع کیاگیاجن پر کسی گروہ کو علیحدگی پسند کی حیثیت دی جاسکتی ہے۔اسی سیشن میں طے کیے جانے والے اصول و ضوابط کی بنیاد پر جہاں اور بہت سی علیحدگی پسند تنظیموں کے مسائل و مطالبات کو درخور اعتنا سمجھاگیاوہاں اس کی سب سے عمدہ مثال انڈونیشیاکا علاقہ ایسٹ تیمور بھی شامل تھاجہاں پربعد کے دنوں میں اقوام متحدہ نے یہاں اپنی افواج اتاردیں اور بندوق کی نوک پرنام نہاد ریفرنڈم کراکر اس علاقے کو انڈونیشیاسے کاٹ کرعلیحدہ ریاست بنادیاگیااور بغیر کسی تاخیرکے ایسٹ تیمور کواقوام متحدہ کی رکنیت بھی مرحمت کر دی گئی۔اس سارے عمل کی بہت ساری وجوہات کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی شامل تھی کہ انڈونیشیاکوئی سیکولر مملکت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست تھی ،اگر انڈونیشیابھی بھارت کی طرح کوئی سیکولر ملک ہوتا تو وہاں کی علیحدگی پسند اقوام بھی بھارتی اقلیتوں کی طرح گل سڑ رہی ہوتیں اور دنیابھر میں ان کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔
1881ء کی مردم شماری کے نتائج میں انگریزوں نے لکھا کہ اس سرزمین میں اتنے مذاہب اور پھر ان کے ذیلی مذاہب اور ان کے مزید ذیلی فرقے ،اور زبانین اور اقوام اور انکے ذیلی قبائل اور مزید ذیلی نسلین اور خاندان اور اور پھر اسی طرح زبانیں اور ہرہرزبان کے مختلف لہجے اور انکی مختلف پہچانیں اور مختلف رنگوں کی بنیاد پرانسانوں کی تقاسیم اس قدر ہیں کہ انہیں ایک صفحے پر لکھنااورجمع کرنا ممکن ہی نہیں۔اس وقت بھارت دنیا کا سب سے بڑا کثیرالثقافتی اور کثیرالقومی و لسانی ملک ہے شاید اسی وجہ سے 1976میں بھارتی آئین کے عنوان میں ’’سیکولر‘‘کا لفظ داخل کیا گیا جس کے تحت بھارت میں ہرقوم،ہرمذہب اورہر لسانی و علاقائی گروہ کوبرابر کے حقوق دیے گئے ہیں لیکن یہ صرف لکھے ہونے کی حد تک ہے تاریخ شاہد ہے کہ حقیقت کے دانت کچھ اور ہی ہیں۔مسلمانوں نے موجودہ بھارت سے کہیں بڑے رقبے پر سینکڑوں سال حکومت کی ہے لیکن کہیں بھی علیحدگی کی تحریک نہیں چلائی گئی اور غیر مسلم اکثریت آج بھی اس دور کو یاد کرتی ہے کہ مسلمان حکمران کس قدرہندؤں پر اور دیگر مذاہب پر مہربان تھے لیکن 1947کے بعد سے ایک طویل داستان الم ہے جو ان اقوام و اہل مذاہب کی ساتھ بپتاکی یاد تازہ کرتی ہے۔تحریک آزادی کے دوران کانگریس نے وعدہ کیاتھا کہ آزادی کے بعدلسانی بنیادوں پرصوبے بنائے جائیں گے 1922میں کانگریس کی ذیلی شاخیں اسی فارمولے کے تحت بنا دی گئی تھیں،1928میں موتی لعل نہرو کی زیرصدارت ایک کمیٹی نے ان لسانی بنیاد پر صوبوں کی تجویزکو حتمی شکل بھی دے دی تھی لیکن بنئے کے وعدے کی حقیقت سراب سے زیادہ نہیں ہے کہ آزادی کے بعد 1948میں لسانی صوبہ جاتی کمشن نے جوسفارشات پیش کیں وہ اس وعدے سے یکسر مختلف تھیں اور آج بھی کانگریس کا یہ وعدہ تشنہ تکمیل ہے اور علیحدگی کی تحریکوں کی ایک بہت بڑی تعدادصرف زبان کے مسئلے کوہی علیحدگی کے جوازکے طورپر پیش کرتی ہیں۔
بھارت میں خود ہندؤں میں ملیجھ اور اچھوت ایک ایسی اقلیت ہیں جن کے مطابق انہیں گزشتہ تین ہزارسالوں سے اپنے ہی مذہب میں کوئی قابل ذکر مقام نہیں مل سکا۔مذہبی اصطلاح میں انہیں ’’شودر‘‘ بھی کہتے ہیں لیکن اچھوتوں میں شودروں کے علاوہ ان میں کچھ اور نیچ ذات کی اقوام بھی شامل ہیں۔بھارت میں یہ قبائل کم و بیش ایک چوتھائی آبادی کے حامل ہیں اور ان کی تعداد ایک اندازے کے مطابق دوسوپچاس ملین سے متجاوز ہے۔مختلف عالمی اداروں کے سروے کے مطابق اس وقت ماضی کی رسم غلامی ’’اچھوت‘‘کی شکل میں بھارت کے اندر زندہ و جاوید ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بے شمار مرتبہ ان اقوام کے حق میں آواز بلند کر چکی ہیں لیکن چونکہ ’’سیکولرازم‘‘کالاحقہ و سابقہ بھارت کے ساتھ پیوست ہے اس لیے اب تک عالمی ’’جگہ گیروں‘‘کویہاں کے انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آتی لیکن اگر اس کا عشر عشیر بھی کسی اسلامی ملک میں ہوتا تو اقوام متحدہ کی پابندیوں کا کوڑا ایک عرصہ سے برس رہا ہوتا۔اب ان اچھوتوں نے The Dalit Freedom Networkکے نام سے آزادی کی تحریک شروع کررکھی ہے،کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے مقتدر ہندوطبقے ان سے غیرانسانی سلوک روارکھتے ہیں ۔اچھوت اگر کسی ہوٹل میں جائیں تو انہیں شیشے اور چینی کے برتنوں کی بجائے مٹی کے برتن میں سامان اکل و شرب پیش کیے جائے جاتے ہیں اور پھراس برتن کو زمین پر پھینک کر توڑ دیا جاتاہے تاکہ اس میں کوئی اور کھاناپینانہ کر سکے۔اس رویے کے باعث انہوں نے مٹی کے پیالے کو اپنی تحریک آزادی کے نشان کے طور پر اپنا لیاہے۔اچھوتوں کی اس تحریک آزادی کا نعرہ ہے کہ ہم اپنی اقوام کو آزادی،انصاف اور انسانی حقوق دلواکررہیں گے۔ڈاکٹر بی آر اس تحریک کے بانی تھے جنہوں نے کم و بیش پچاس برس قبل اس کا نجی آغاز کیا تھا لیکن 2003سے اس نام سے باقائدہ اس تحریک آزادی کا آغاز کیاگیا۔اچھوتوں کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 17میں مکمل تحفظ فراہم کیاگیاہے لیکن عملاََ اس کی کوئی شکل پورے ہندوستان میں نظر نہیں آتی اور برہمن کا خوف اس قدر ہے کہ بھارتی اچھوتوں کی تحریک آزادی کا دفتر ’’گرین ووڈ ویلیج‘‘کلوراڈو کی ریاست واقع امریکہ میں قائم ہے جبکہ ہندوستان کے تقریباََ تمام علاقوں میں اس کی شاخیں قائم ہیں اور ان شاخوں کے تحت اچھوتوں کے اسکولزاور طبی امداد کے ادارے کام کررہے ہیں۔
بھارت کے شمال مشرقی خطے ایک عرصے سے احساس محرومی کا شکار ہیں،یہ خطے بنگلہ دیش اورنیپال کے درمیان سے اکیس سے چالس کلومیٹرچوڑے مختصر سے راستے کے ذریعے اس خطے کو باقی بھارت سے ملاتے ہیں۔اس خطے میں سات ریاستیں ہیں جو تاریخی طور پر سات بہنیں بھی کہلاتی ہیں،آسام،میغالیہ،تری پورہ،آرنچل پردیش،میزورام،مانی پوراور ناگالینڈ۔یہ ریاستیں جہاں مرکزسے بری طرح نالاں ہیں وہاں ان کے درمیان باہمی تناؤ بھی بہت زیادہ ہے۔ان علاقوں کی بعض تنظیمیں اور گروہ داخلی خودمختاری چاہتی ہیں ،کچھ علیحدہ ریاست کی حیثیت کا مطالبہ رکھتی ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو بھارت سے مکمل طور پر آزادی کے خواہاں ہیں اور خود مختارمملکت کے طورپر اپنا وجود دنیاکے سامنے رکھناچاہتے ہیں۔ان گروہوں میں اکثر نے اب ہتھیار بھی اٹھا رکھے ہیں اور بھارتی افواج اور نیم فوجی دستوں سے نبرد آزما ہیں۔
O۔آسام کا علاقہ علیحدگی پسندوں کا گڑھ ہے،یونائٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام(United Liberation Front of Asom )یہاں کا سب سے بڑا منظم گروہ ہے جو مرکزکے خلاف برسرپیکار ہے۔یہ آسام کو ایک خود مختاریاست بنانے کی منزل رکھتاہے اور اس مقصد کے لیے مسلح جدوجہد کے راستے پر گامزن ہے۔اس گروہ کی تاسیس ’’رنگ گھر‘‘کے مقام پر 1979میں ہوئی،1998سے بھارتی حکومت نے اس گروہ پر پابندی لگارکھی ہے اور اسے دہشت گرد گروہ قرار دے دیاگیاہے۔1990میں اس گروہ نے اپنی گوریلا کاروائیوں کا باقائدہ آغاز کیااور تب سے ان کے خلاف بھارتی حکومت کا فوجی آپریشن جاری ہے جس میں اب تک کم و بیش دس ہزار کی کثیر تعداد میں افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن ان کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔
O’’بوڈو‘‘قبائل کے لوگوں نے آسام کے اندر ایک اور گروہ منظم کررکھاہے جسے ’’نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ‘‘(National Democratic Front of Bodoland)کانام دیاگیاہے۔یہ گروہ بھی برہمن کی جان لیوا آزاریوں سے تنگ آکراپنے علاقے بوڈولینڈ کی مکمل خودمختاری کی جنگ لڑ رہاہے۔3اکتوبر1986کو’’اوڈلا خاصی بای‘‘کے مقام پر اس گروہ کی باقائدہ تشکیل عمل میں آئی،اسے بوڈو سیکورٹی فورس کے نام سے بھی مقامی علاقوں میں یادکیاجاتاہے۔بھارت اور بھوٹان کے سرحدی علاقوں میں اس عسکری گروہ آزادی کے تربیتی کیمپس قائم ہیں۔دسمبر2003میں بھارتی اور بھوٹانی افواج نے مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان تربیتی کیمپوں کو ختم کرنے کوشش کی،لیکن جن تحریکوں کو عوامی حمایت حاصل ہو انہیں کوئی بڑی سے بڑی قوت بھی کیونکر دبا سکتی ہے ۔24مئی 2005کو بھارتی حکومت نے اس گروہ کے ساتھ معاہدہ صلح کیالیکن بھارتی حکومت نے اسے کس حد تک نبھایاہوگا یہ نوشتہ دیوار ہے جو چاہے پڑھ لے کہ ہندو بنیے کے کس وعدے کاکیا اعتبار ہوجیسا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے ساتھ نبھایاجارہا ہے۔
O۔آسام کے مسلمانوں نے بھی ’’مسلم یونائٹڈ لبریشن ٹائگرزآف آسام‘‘(Muslim United Liberation Tigers of Assam )کے نام سے اپنی علیحدہ تنظیم بنارکھی ہے۔1996میں بننے والی یہ مسلمان تنظیم اس وقت دیگر علیحدگی پسندتنظیموں کے ساتھ مل کربرہمن راج کے خلاف اپنی کاروائیاں کرتی ہے۔
O۔’’مانی پور‘‘شمالی بھارت کی ایک اور محروم ریاست ہے ،ناگااور کوکی قبائل کی اکثریت یہاں آباد ہے اور اور ایک بہت بڑی تعداد میں مسلمان بھی یہاں پر صدیوں سے قیام پزیر ہیں۔یہاں کے لوگ بھی بنیے کے مرکزی کردارسے سخت خائف اور نالاں ہیں چنانچہ ’’پیپلزلبریشن آرمی مانی پور‘‘(Peoples Liberation Army (Manipur))کے نام سے یہاں کے لوگ بھی اپنے حقوق کی مسلح جدوجہد میں مصروف پیکار ہیں۔25ستمبر1978کو اس گروہ کاباقائدہ اجتماعی آغاز ہواجس کے مقاصد میں مانی پور کی مکمل آزادی شامل ہے۔1989میں اس گروہ نے اپنا سیاسی پلیٹ فارم بھی تشکیل دیا جس کانام ریلولوشنری پیپلزفرنٹ(Revolutionary People146s Front (RPF). )رکھاگیا۔بعض اطلاعات کے مطابق ان لوگوں نے اپنی متوازی ریاست بھی قائم کررکھی ہے جس میں ان کا صدر نائب صدر اور متعدد وزارتوں سمیت دفاع کے طور پر ان کا عسکری گروہ بھی متحرک ہے۔’’چالام‘‘کی پہاڑی وادیوں میں ان کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
O۔مانی پور کی ہی ایک اور عسکری تنظیم یونائٹد نیشنل لبریشن فرنٹ(United National Liberation Front )ہے جو مانی پور کو برہمن کے خونین پنجوں سے آزاد کراکے تو سوشلسٹ ریاست بنانا چاہتی ہے۔24نومبر1964کو اس تنظیم کا آغاز ہوا جب سرخ سورج کی گھمبیرتاریکی ایشیا کے متعدد علاقوں پر پوری قوت سے طاری تھی اور ہندوبنیااس سورج کی آغوش میں خوب پھل پھول رہاتھالیکن تاریخ کے دھارے نے بہت جلداس سرخ سورج کی خون آشام تمازت کوافغان جہاد اسلامی کی بھینٹ چڑھتاہوادیکھ لیااور بہت جلد اسلامی جہاد کی صبح نواس سیکولرازم کی تاریک رات کو بھی نگل لے گی انشاء اﷲ تعالی۔ستراور اسی کی دہائیوں میں اس تنظیم نے افراد کو اپنے اندر جذب کرکے تو اپنی تنظیم کو مضبوط تر کیااور 1990میں مانی پور پیپلزآرمی کے نام سے انہوں نے برہمن کی چیرہ دستیوں کے خلاف باقائدہ اعلان جنگ کرتے ہوئے میدان میں اترنے کا فیصلہ کرلیا۔’’جری بام‘‘کی وادی اور آسام کا ضلع ’’کاچر‘‘ان کی سرگرمیوں کا مرکزو محورہے۔یہ عسکری تنظیم دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف کاروائیاں کرتی ہے۔
O۔’’نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ‘‘(National Socialist Council of Nagaland)یہ ناگالینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک گروہ ہے۔ناگالینڈ تقسیم ہند سے قبل کی ایک بہت بڑی ریاست ہے جسے بھارتی حکومت نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے اندر ضم کرلیا۔31جنوری1980کو اس تنظیم کا آغاز ہوا،جس کے مقاصد میں سرفہرست ’’عوامی جمہوریہ ناگالینڈ‘‘کاقیام ہے ۔یہ گروہ جمہوریہ چین کے راہنما ’’ماوزے تنگ‘‘کے افکار سے بے حد متاثر ہے اور انہیں خطوط پراپنی آزادریاست کا مطالبہ رکھتاہے،اخبارات میں انہیں ’’ماؤنوازباغی‘‘لکھااورپڑھاجاتاہے۔ان کے اثرات آسام اور آرنچل پردیش تک بھی پہنچ چکے ہیں جبکہ مانی پور کے چار اضلاع پر ان کا گہرا تسلط قائم ہے۔30اپریل 1988کو بھارتی حکومت سے اس گروہ کے مزاکرات بھی ہوئے لیکن ان کا وہی نتیجہ نکلاجو بھارت پاکستان مزاکرات کا نکلتاہے۔
O۔تری پورہ یہاں کی ایک اور بہت بڑی ریاست ہے جہاں ’’نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پورہ(National Liberation Front of Tripura )کے نام سے تحریک آزادی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔اس تحریک کے مقاصد میں بھی سرفہرست بھارتی تسلط سے مکمل طور پر خلاصی کا حصول ہے جس کے باعث حال ہی میں اس عسکری گروہ کو مرکزی حکومت کی طرف سے دہشت گرد قراردے دیاگیاہے ۔ایک اطلاع کے مطابق اس گروہ میں زیادہ تر عیسائی افرادشامل ہیں اور انہیں اپنے مذہبی راہنماؤں کا مکمل اعتماداور سرپرستی حاصل ہے۔12مارچ1989کو اس گروہ کی تاسیس ہوئی ،1993میں اس گروہ نے اپنی فوج بھی تشکیل دے دی لیکن 1997میں اس فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔بھارتی سرحدی علاقوں میں ان کے تربیتی کیمپس اور ہیڈ کوارٹر قائم ہیں۔
O۔’’آل تری پورہ ٹائگرفورس‘‘(All Tripura Tiger Force )کے نام سے ایک عسکری گروہ بھی اس وادی میں موجود ہے۔11جولائی 1990میں اس گروہ کی بنیاد رکھی گئی،اس میں بھی اکثریت مسیحیوں کی ہی ہے اور یہ مقامی افرادکے حقوق کے تحفظ کے لیے اور باہر سے آکر وہاں مستقل سکونت اختیارکرنے والوں کو نکالنے کے لیے حکومت وقت سے برسرپیکارہیں۔
O۔’’میغالیہ‘‘میں’’ہنی ویترپ نیشنل لبریشن کونسل‘‘(Hynniewtrep National Liberation Council)کے نام سے تحریک آزادی پنپ رہی ہے،1992میں اس تنظیم کی تشکیل ہوئی اور2000ء میں اسے غیرقانونی قرار دے دیاگیاکیونکہ برہمن کی لغت میں دوسروں کو کوئی حق دینے کا لفظ نہیں پایا جاتااور وہ صرف لینا ہی لینااور وصولناہی جانتا ہے خواہ زندہ بیوی کو مردہ شوہر کی چتاکے ساتھ جلاکراس کا زیور ہی ہتھیانا پڑے۔یہ گروہ اپنے علاقے کو الگ سے صوبہ بنانے کے مطالبے کا دعوے دار ہے کیونکہ ان کے خیال کے مطابق باہر سے آئے لوگ ان کے نوجوانوں کا حق مارتے ہیں اور الگ صوبائی انتظامیہ کے تحت ان کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
O۔’’آرنچل ڈریگن فورس‘‘(Arunachal Dragon Force )تنظیم کا دوسرانام ’’ایسٹ انڈیالبریشن فرنٹ ‘‘بھی ہے۔یہ تنظیم آرنچل پردیش کی تحریک آزادی کے طور متحرک ہے۔اسکا وجود 1996کا مرہون منت ہے جب دیگر بھی بہت سی علیحدی پسندتنظیموں نے جنم لیا۔ان کا مقصد اپنے علاقے کو تقسیم ہند سے پہلے والی صورتحال ’’تیولا‘‘مملکت پر دوبارہ قائم کرنا ہے۔آرنچل پردیش کے طیرپ اور چنگلانگ کے اضلاع اس تنظیم کا مرکز ہیں۔یہ تنظیم بھی اس وقت تک دوسری آزادی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر برہمن کے خلاف اپنے مقاصد کا دفاع کرتی ہیں۔
ان کے علاوہ شمال مشرقی ہندوستان میں بے شمارآزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں ،بنتی ہیں ٹوٹ جاتی ہیں ،بھارت افواج ان کی قیادت کو صفحہ ہستی سے غائب کرنے میں دیر نہیں لگاتی ۔کتنی ہی بار معاہدے اور وعدوں کے بہانے انہیں بلاکر غائب کیاگیااور پھر کبھی ان کا سراغ نہ مل سکا۔ یہ علاقے جہاں معلوم دنیاسے بہت دور ہیں وہاں دورحاضر کی بہت سی جملہ مراعات سے بھی ناواقف حال ہیں بمشکل ایک دوفیصدواقعات کی خبریں وہاں سے نکل پاتی ہیں اور اس بے خبری اور سادہ لوہی سے برہمن ذہن پوراپورا فائدہ اٹھا رہاہے۔بھارتی شمال مشرقی سرحدوں سے ملحق ممالک بھی بھارتی خارجہ پالیسی کے زیراثر ہیں اور بڑی مچھلی جس طرح چھوٹی مچھلی کو کھاجاتی ہے اسی طرح جنگل کے قانون کے تحت چکاچوند روشنیوں کے اس دور میں بھی بھارت نے اپنی ان پڑوسی ریاستوں پر جبرواستبدادکا پہرہ بٹھارکھاہے شاید اسی لیے پاکستان کے مسلمان بھارت کو چھبتے ہیں کہ وہ اس فاشسٹ ریاست کے خلاف جنگیں بھی لڑ چکے ہیں اور آئے روز یہاں کی سیاسی و مذہبی قیادت بھارت کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار بھی کرتی رہتی ہے۔
کشمیر یوں کی تحریک آزادی اور الحاق پاکستان کا جذبہ تو اب عالمی مسائل کی جگہ لے چکاہے ،بھارتی افواج کم و بیش ایک لاکھ مسلمانوں کے لاشے یہاں پر گراچکی ہے اور کتنی ہی نوجوان خواتین کے توہین زدہ مقدس وجود دریائے جہلم کی لہروں کے ساتھ بہتے ہوئے پاکستانی فوج کے علاقوں تک پہنچے ہیں یہ باورکرانے کے لیے کہ ہندوستان کی دیگر آزادی کی تحریکوں کے ساتھ تو کسی ملک و قوم کی ہمدردیاں نہیں ہیں ہم تو اپنے آپ کو پاکستان کا جزولاینفک سمجھتے ہیں اس کے باوجود پاکستانی قیادت صرف اسی کو اپنی کامیابی کیوں سمجھتی ہے کشمیرکو بین الاقوامی مسئلہ مان لیاگیاہے؟؟بھلا اپنے گھرکے مسائل کا گلی محلے تک پہچناکامیابی ہوتی ہے یا ذلت و رسوائی کاسامان ہوتاہے۔پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک بھی کرے کشمیریوں کے دل اور پاکستانیوں کے دل لاالہ الااﷲ کے خالق پاکستان نعرے کے باعث اکٹھے دھڑکتے ہیں۔کشمیری قیادت ایک بار نہیں باربارواشگاف الفاظ میں کہ چکی ہے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور ان کے اس دعوے کا بین ثبوت ان کی تیسری نسل کا تسلسل ہے جو تکمیل پاکستان کے لیے اپنے خون سے قربانیوں کی ایک شاندار تاریخ رقم کررہی ہے۔
خالستان کی تحریک بھارت کی شکست و ریخت کاایک اور تشنہ تکمیل باب ہے۔1971میں ’’جگجیت سنکھ چوہان‘‘نے امریکہ کے ایک مشہوراخبارنیویارک ٹائمز میں خالصتان کے نام پر چندے کی اپیل کی اور سکھوں کے بے پناہ مثبت رویے نے اس کے ارادوں کے لیے مہمیزکاکام کیا۔12اپریل1980کو اس نے نیشنل کونسل آف خالصتان کی بنیادرکھ دی۔مئی1980میں اس نے لندن میں خالصتان کے قیام کا اعلان کیااور ادھرامرتسر میں بلبیرسنکھ سندھونے خالصتان کا پرچم اور مستقبل کی اس ریاست کے سکے اور ڈاک ٹکٹیں بھی متعارف کرادیں۔سکھوں کے جذباتی پس منظر کے باعث بعض نوجوانوں نے اس ریاست کی خاطر ہتھیاربھی اٹھا لیے تاکہ برہمن سے جلدازجلدآزادی حاصل کی جا سکے ۔خالصتان کی تحریک کازورپکڑنے سے سیکولرازم کپڑے اتارکراپنی اصلیت پر آگیااور مذہبی اداروں کی بے حرمتی کرتے ہوئے 5جون1984کو’’سیکولر‘‘فوج کے ٹینک اور ناپاک بوٹ گولڈن ٹیمپل جیسی مقدس عبادت گاہ میں گھس گئے اور سینکڑوں سکھوں کو تہ تیغ کرڈالا جن میں ان کے تحریک آزادی کے راہنما سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ بھی شامل تھے۔آفرین ہے آزادی کے ان اسپوتوں کو کہ انہوں شیر کی ایک دن کی زندگی گزاری اور گیدرکی سوسالہ زندگی پر لات مار دی۔شہیدٹیپوسلطان رحمۃ اﷲ علیہ کی شہادت کے بعد اسی نوعیت کا یہ دوسراواقعہ ہندوستان کی سرزمین نے رقم کیا۔اس خونین واقعے کے بعد’’دل خالصہ‘‘کے نام سے ابھی بھی بیرون بھارت سکھ اپنے آزادخالصتان کے لیے سرگرم ہیں جبکہ بھارت کے اندر آئینی حدود میں رہتے ہوئے سکھوں کی تنظیمیں بھارت سرکار سے اپنی برات کااظہار کرتی رہتی ہیں۔ان سب کے علاوہ بھی لاوہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوااور خالصتان کمانڈو فورس،ببرخالصہ انٹرنیشنل،خالصتان زندہ بادفورس،انٹرنیشنل سکھ یوتھ فیڈریشن اور خالصتان لبریشن فورس بالکل اسی طرح اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں جیسے کبھی تو دریا آبشاریں بن کر خوب شورمچاتاہوااورچٹانوں سے ٹکراتاہواگزرتاہے تو کبھی گھاس کے اندرہی اندراس خاموشی سے جانب منزل بہتاچلاجاتاہے کہ ساتھ سونے والے کو بھی سرزنش تک نہیں ہوتی۔
تامل ناڈو بھارت کی رقبے کے اعتبار سے گیارہویں بڑی ریاست ہے جس کا مشہور شہر ’’مدراس‘‘ہے اور یہ ملک کے انتہائی جنوب میں واقع ہے۔یہاں ’’تامل‘‘قوم 1500قبل مسیح سے آباد ہے۔’’تامل نیشنل ریٹریول ٹروپس‘‘(The Tamil National Retrieval Troops )یہاں کا علیحدگی پسند گروہ ہے جو برہمن راج سے انتہائی نالاں ہے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتاہے۔ان کا مقصد اٹھارویں صدی کے اواخر میں قائم تامل سلطنت کو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں لانااور اسے تامل قوم کے ایک الگ مادروطن کی حیثیت سے دنیاکے سامنے پیش کرناہے۔اس گروہ کو بھی بدنام زمانہ بھارتی قانون ’’پوٹا‘‘کے تحت غیرقانونی قرار دے دیاگیاہے۔بھارت اور اس سے ملحق تامل زبان بولنے والے علاقوں میں یہ تحریک بڑی شدومد سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ایک سو سے بھی زائد تحریکیں ہیں جو بھارت سے علیحدگی کا مطالبہ اور پروگرام رکھتی ہیں اور ان میں سے بہت سی تنظیموں نے مسلح کشاکش بھی شروع کررکھی ہے اور بھارتی فوج اپنے ہی ملک کے اندر مسلسل حالت جنگ میں ہے۔کوئی زبان بولنے والے اور کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے اور کسی رنگ و نسل کا بنی آدم اس برہمن کے سیکولرازم سے مطمئن نہیں ہے۔پورے ملک میں مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک محرومیوں اور استحصال کی ایک آگ ہے جو کل انسانوں کو نگلے جارہی ہے ،فسادات کا ایک نہ ٹوٹنے والا تسلسل ہے جس نے کل مملکت کی آبادی کو اپنے دائرہ خوف میں لپیٹ رکھاہے کسی ملت اور کسی گروہ کا مستقبل محفوظ نہیں ہے اس سب کے باوجود یہ مملکت ’’عالمی جگہ گیروں‘‘کی آنکھ کا تارہ ہے کہ ’’سیکولرازم‘‘کا اشتراک فکروعمل ان کو یک جان کیے ہوئے ہے۔حکومتیں کفرسے تو قائم رہ سکتی ہیں لیکن ظلم سے ان کا قائم رہنا ناممکنات عالم میں سے ہے اگر بھارتی برہمن نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ایک صدی کتنی ہی دفعہ دنیاکے جغرافیے تبدیل ہونے کا منظر دیکھ پاتی ہے!!یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ماضی قریب کی دنیا میں سب سے بڑاUSSRباقی نہیں رہاتو ظلم وجبرواستبداد کاتسلسل دنیاکی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت کو نگلنے میں بھی دیر نہیں کرے گی۔
آج سے ایک ہزار سال پہلے بھی امت مسلمہ کے ایک سپوت محمد بن قاسم ؒ نے اس خطے کی سسکتی انسانیت کو برہمن کے دست استبداد سے نجات دلائی تھی اس کے بعد مسلمان خاندانوں کے صدیوں کے اقتدار نے اس سرزمین کو تہذیب و تمدن اور امن و آشتی سے سرسبزوشاداب کیے رکھااور برہمن کو اپنے کھیل نہ کھیلنے دیے ۔سیکولر مغربی تہذیب کے شاخصانے برطانوی سامراج کے بوئے ہوئے کانٹے اگرچہ آج تک اپنا رنگ جمائے ہیں لیکن مسلمان قیادت نے ہی اس بدیسی تسلط سے خطے کے عوام کو آزادی دلائی اور آج بھی فرزندان توحید ہی اس بات کے اہل اور مدعی ہیں کہ اس سرزمین برصغیرپاک و ہند ان ہی کی قیادت کی امین و نگہبان ومقروض ہے۔کوئی برہمن اور کوئی سیکولزازم اور سوشلزم اور کوئی کیمونزم اورکوئی نیشنل ازم انسانیت کو بام عروج تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا یہ حق صرف دین مکمل کا ہی ہے کہ اس کے ماننے والے برسراقدار آکر اس دنیائے انسانیت کو آلائشوں اور گندگیوں سے پاک کریں اﷲ کرے کہ ایک بار پھر امت مرحوم کی کوکھ سے قائداعظم محمد علی جناح ،علامہ اقبال اورمولانا مودودی جیسی قیادت نکلے جو اس جنوبی ایشیا کی عوام سمیت کل انسانیت کو آگ کے اس گڑھے سے نجات دلا کر اس قبیلہ بنی آدم کوخطبہ حجۃ الوداع کی برکتوں سے ہم آشنا کرے اورپاکستانی قوم اس قیادت کا ہراول دستہ بنے،آمین۔

 1,880 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y3y4hon9
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *