بذریعہ اُردو تعلیم

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف اقبال انصاری، کراچی
تاریخ کے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھیں تو یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ کسی بھی قوم نے آج تک جتنے بھی ترقی کے منازل و مدارج طے کیے ہیں، اس میں اس ملک کی قومی زبان کا نہایت اہم کردار رہا ہے۔         دنیا کی تمام تر ترقی یافتہ قومیں، اپنی قومی زبان میں ہی تعلیم و تدریس کرتی ہیں اور اسی کو اپنی ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ مثال کے طور پر: جرمنی ،جاپان، روس ،چین اور دیگر ممالک اپنی تعلیم و تدریس میں اپنی ہی زبان استعمال کرتے ہیں۔ لیکن!! پاکستان میں اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے تجربات میں ہی اپنا قیمتی وقت گزار دیا گیا ہے۔ جب کہ ہمارے بعد آزادی سے فیض یاب ہونے والی قومیں اپنی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی بدولت ہم سے کہیں زیادہ ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔      اردو ہماری قومی زبان ہے۔ اور یہ ایک ایسی جامع و مانع زبان ہے کہ جس کے ذریعے غیر ملکی زبانوں کی تعلیم بھی دی جاسکتی ہے، کوئی بھی مضمون پڑھا یا پڑھایا جائے، اگر اردو زبان سے آشنائی ہے تو اس کی مشکلات آسانیوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔اس زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے سے تعلیمی معیار اور بھی پروان چڑھ سکتا ہے۔ دوران تعلیم طلبہ باآسانی استاد کی گذارشات کو سمجھ سکتے ہیں اور اگر کوئی خلجان ہو سوالات کے ذریعے دور کر سکتے ہیں ۔ اس طرح طرز تعلیم پر اساتذہ اور طلبہ دونوں ہی مطمئن ہونگے ۔ تعلیم و تدریس یک طرفہ عمل کا نام نہیں بلکہ جانبین سے جہد مسلسل کی ایک عظیم صورت ہے۔ “علم” ایک بحر ذخار ہے اور ایک ایسا خزانہ ہے جس پر بڑے بڑے تخت و تاج کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ علم کی شمع اپنے نور سے حیات انسانی کا ہر گوشہ روشن کردیتی ہے اور اور علم کے چراغ کو فروزاں کرنے کے لیے “زبان” ایندھن کا کام دیتی ہے۔        اردو زبان بحیثیت ” ذریعہ تعلیم ”  ہر دو فریق ( معلم اور متعلم) کی کامیابی کا ضامن ہے۔دونوں اس زبان کو بحیثیت تعلیم جانتے اور اچھی طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ جہاں تک غیر ملکی زبان کا تعلق ہے اس کے ذریعے اپنی بات کو سمجھانا تو کافی دور کی بات ہے ،پہلے پہل تو اس زبان سے مکمل آشنائی ضروری ہے۔ جب اس زبان سے واقفیت ہو جائے گی تو پھر اس کو ذریعہ تعلیم بنانا ممکن ہو پائے گا وگرنہ یہ بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہوگا۔       یاد رہے!! اردو زبان کو ہمارے ملک کے تعلیمی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، اگر غیر ملکی زبان کو فروغ دلانے اور قومی زبان کو پس پشت ڈالنے کا یہ سلسلہ اگر تھم نہ سکا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب تعلیمی نظام کی بربادی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی شخصیت کی تعمیر میں تعلیم کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اگر تعلیمی نظام میں دراڑیں پڑ جائیں تو عموما پوری قوم اور خصوصاً نسل نو اپنے ہاتھوں سے اپنے مستقبل کا قلع قمع کر بیٹھے گی۔ اس لیے تعلیمی نظام کا بہتر ہونا،  اس ملک کی ساخت کی بہتری کے لیے از حد ضروری ہے۔ اور بہتری کے من جملہ طریقوں میں سے ایک طریقہ ” تعلیم بذریعہ اردو” ہے۔

60 total views, 9 views today

Short URL: //tinyurl.com/y2aahdf6
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *