Posts By: Syed Anwer Mahmood

پاکستان کا کماوُ مگر لاوارث شہر کراچی

عام پاکستانیوں اور خاص طور پر کراچی میں رہنے والوں کےلیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کیوں پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ یہ کچرا سات سال سے نہیں اٹھایا گیا ہے اور

سعودی قطر اختلافات اور پاکستان

سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا،یمن اور مالدیپ نے دہشتگرد گروہوں کی مدد کرنے اور ہمسایہ ملکوں میں تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بہت ہی جارحانہ انداز میں قطر سے اپنےسفارتی تعلقات ختم کرلیے

پھلوں کے بائیکاٹ کی کامیاب تحریک

دو جون سے چار جون یعنی تین دن کراچی میں مہنگے پھل نہ خریدنے کا آئیڈیا کس کا تھا اس کا تو نہیں پتہ ، لیکن یہ آئیڈیا سوشل میڈیا پر جس تیزی سے پھیلا اور عام لوگوں نے اس

نواز شریف گارڈ فادر سےسسلی مافیا تک

پورئے سندھ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا وجود نہیں ہے،  اس لیے  کہ غوث علی شاہ نواز شریف  سے برابری سے بات کرتے ہیں، ممتاز بھٹو کا بھی یہ ہی حال ہے اور نواز شریف کو ایسے لوگ قطعی

کابل پھر لہولہان

گذشتہ چند ماہ میں افغان دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں بڑے حملے ہوئے ہیں جو افغانستان کی خراب سکیورٹی کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔ کابل میں بدھ 31 مئی 2017 کو سفارتی علاقے میں بم دھماکے سے

عرب اسلامک امریکن کانفرنس اور پاکستان

وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ پاکستان کے عوام  بھی پڑوسی ملک ایران کے اعتدال پسند صدر ڈاکٹرحسن روحانی کو 2017  کے انتخابات میں دوسری مرتبہ ایران کا صدر منتخب ہونے پر ان کو دلی طور مبارکباد دیتے ہیں۔شروع سے ہی

مسلم لیگ (ن) کا پانچواں عوام دشمن بجٹ

کسانوں اور غریبوں کی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2017-18 کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے ایک کارنامہ یہ انجام دیا کہ اسلام آباد میں جمع ہوکر اپنے مسائل پر احتجاجی ریلی نکالنے والے

پاکستان اور بھارت کی محبت کی داستان

پاکستان   کے طاہرعلی  اور بھارت کی ڈاکٹرعظمیٰ ایک دوسرئے سے ملائشیا میں ملے اور پھر بھارتی فلم ’پی کے‘ کی طرح ایک دوسرئے سے محبت کربیٹھے لیکن یہ فلم نہیں اصل اور حقیقی زندگی تھی، ملائشیا میں دونوں نے ایک

وزیراعظم پاکستان کے ساتھ غیر سفارتی رویہ

پوری دنیا میں سفارت کاری کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی  ہے  کیونکہ دو ملکوں کے تعلقات کا محورسفارت کاری ہی ہوتی ہے اور اس میں سفارتی آداب کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے  لیکن افسوس  ریاض میں ہونے

ایران اور سعودی عرب کے لیے سوچنے کا مقام

انیس مئی 2017 کو ایران میں مجموعی طور پر چار کروڑ اہل ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جس کے  باعث ایرانی حکام کوپولنگ کے اوقات میں چار گھنٹے کا اضافہ بھی کرنا پڑا، ووٹروں کی شرکت کی