Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

فیصلہ محفوظ

فیصلے کا اعلان بعد میں کیا جائیگا ۔یہ وہ الفاظ  یا جملہ  ہے  جو اکثر عدالتیں  دلائل اور جرح مکمل کرنے کے بعد  فیصلہ تحریر کرنے کے بعدفیصلہ  کسی اور دن  سنانے کے لئے  عدالتی کاروائی  موخر  کرتے ہوئے   لکھتی

بھوپ سنگھ پڑی

بھوپ سنگھ کا نام  پڑھ کر عام قارئین جن کو  گلگت بلتستان  کی تاریخ  سے واقفیت نہیں   حیران  نہیں   تو ان کے ذہن میں  یہ  سوال ضرور ابھرے گا کہ کون  تھا یہ بھوپ سنگھ    اور  شینا سے نا بلد

اپریشن دتہ خیل

ماسٹر دولت شاہ جی ہاں ماسٹردولت شاہ کشروٹ گلگت کے رہنے والے۔کون تھے۔ میرا نہیں خیال کہ نئی نسل اس نام سے واقف ہو لیکن اتنا یقین ہے کہ ساٹھ ستر کی دہائی کے افراد بخوبی اس شخص کو جانتے

تنگ تائو قدیم شینا گیت اور کشمیر

قدیم زمانے میں گلگت میں شادی بیاہ کا اغاز ایک رسم سے ہوتا تھا جس کو رسم تائو کہتے تھے۔ یہ رسم اب بھی ہے لیکن اب اس میں جدیدیت پنجاب ثقافت عود کر گئی ہے۔قدیم زمانے کی یہ رسم

چلاس تعلیمی اداروں پر حملہ

گلگت یا راوپنڈی سے بذریعہ قراقرم ہائی وے جسے آج کل سی پیک کہا جاتا ہے سفر کرنے والوں نے  تھلیچی کے مقام پر روڈ میں نصب ایک  سائن بورڈ کو ضرور دیکھا ہوگا  اس سائن بورڈ پر کچھ الفاظ

گلگت بلتستان۔ایک موقف اپنانے کی ضرورت ہے

پاکستا نی سیاست اورسیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت ساری باتیں ہو چکی ہیں اس سلسلے کو یہی پہ منقطع کرنے سے پہلے ایک آخری بات جو میں کہنے والا ہوں وہ یہ کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے اندر شروع

دیامر بھاشا ڈیم اور چندہ

محترم چیف جسٹس صاحب کا ایک بیان نظر سے گزرا بات ڈیمز کے متعلق تھی اس لئے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی وہ اس لئے کہ گلگت بلتستان میں بھی پچھلے کئی سالوں سے یہ سن رہے ہیں کہ سکردو

شندورپولو

میاں صاحب اور اس کی صاحبزادی کے بارے خبر یہ ہے کہ وہ لندن سے روانہ ہوچکے ہیں اور شام چھ بجے لاہور ایئر پورٹ پر اترینگے اب وہ اتر جائینگے یا جہاز کا رخ کسی اور رخ مُڑ جاتا

ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت بلتستان متنازعہ خطے

گلگت بلتستان کے باسیوں کے لئےکچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں ۔۔۔۔پاکستان آرمی نے ریاست جموں و کشمیر کے بارے اپنا دو ٹوک اور اصولی موقف کا نہ صرف اعادہ کیا بلکہ گلگت بلتستان والوں پر بھی یہ واضح کیا کہ

دودھ نہیں ملنے والا

مجھے پینے کا شوق نہیں۔پیتا ہوں غم بھلانے کو۔اب یہ پینے سے انسان غم کیسے بھول جاتا ہے یہ تو اس شعر کا خالق ہی بتا سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ شاعر نے یہ شعر کس کیفیت میں