Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

ہمیں متنازعہ کیوں بنایا گیا؟

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے نت نئی چیزیں وجود میں آرہی ہیں ۔جو چیزیں وجود میں آتی ہیں ان کے فائدوں کے ساتھ نقصانات بھی ہوا کرتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان ان چیزوں

حد ہوگئی یار

ڈوگروں کے انخلا   کے بعد  ہم کس بحث و مباحثے میں  مبتلا  رہے ذرا ملاحظہ کریں -ہم متنازعہ ہیں۔ ہم متنازعہ نہیں ہیں، ہم پاکستانی ہیں ،ہم پاکستانی نہیں ہیں، ہم آزاد ہیں ، ہم آزاد نہیں ہیں ، ہم

ٹامک ٹوئیاں

نہ ہم نے پہلے ٹامک ٹوئیاں ماری ہیں اور نہ اب ٹامک ٹوئیاں مارنے کا ارادہ ہے یہاں جو عنوان میں نے چُنا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو 1947 سے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں میں ماضی

فیصلہ محفوظ

فیصلے کا اعلان بعد میں کیا جائیگا ۔یہ وہ الفاظ  یا جملہ  ہے  جو اکثر عدالتیں  دلائل اور جرح مکمل کرنے کے بعد  فیصلہ تحریر کرنے کے بعدفیصلہ  کسی اور دن  سنانے کے لئے  عدالتی کاروائی  موخر  کرتے ہوئے   لکھتی

بھوپ سنگھ پڑی

بھوپ سنگھ کا نام  پڑھ کر عام قارئین جن کو  گلگت بلتستان  کی تاریخ  سے واقفیت نہیں   حیران  نہیں   تو ان کے ذہن میں  یہ  سوال ضرور ابھرے گا کہ کون  تھا یہ بھوپ سنگھ    اور  شینا سے نا بلد

اپریشن دتہ خیل

ماسٹر دولت شاہ جی ہاں ماسٹردولت شاہ کشروٹ گلگت کے رہنے والے۔کون تھے۔ میرا نہیں خیال کہ نئی نسل اس نام سے واقف ہو لیکن اتنا یقین ہے کہ ساٹھ ستر کی دہائی کے افراد بخوبی اس شخص کو جانتے

تنگ تائو قدیم شینا گیت اور کشمیر

قدیم زمانے میں گلگت میں شادی بیاہ کا اغاز ایک رسم سے ہوتا تھا جس کو رسم تائو کہتے تھے۔ یہ رسم اب بھی ہے لیکن اب اس میں جدیدیت پنجاب ثقافت عود کر گئی ہے۔قدیم زمانے کی یہ رسم

چلاس تعلیمی اداروں پر حملہ

گلگت یا راوپنڈی سے بذریعہ قراقرم ہائی وے جسے آج کل سی پیک کہا جاتا ہے سفر کرنے والوں نے  تھلیچی کے مقام پر روڈ میں نصب ایک  سائن بورڈ کو ضرور دیکھا ہوگا  اس سائن بورڈ پر کچھ الفاظ

گلگت بلتستان۔ایک موقف اپنانے کی ضرورت ہے

پاکستا نی سیاست اورسیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت ساری باتیں ہو چکی ہیں اس سلسلے کو یہی پہ منقطع کرنے سے پہلے ایک آخری بات جو میں کہنے والا ہوں وہ یہ کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے اندر شروع

دیامر بھاشا ڈیم اور چندہ

محترم چیف جسٹس صاحب کا ایک بیان نظر سے گزرا بات ڈیمز کے متعلق تھی اس لئے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی وہ اس لئے کہ گلگت بلتستان میں بھی پچھلے کئی سالوں سے یہ سن رہے ہیں کہ سکردو