Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

تنگ تائو قدیم شینا گیت اور کشمیر

قدیم زمانے میں گلگت میں شادی بیاہ کا اغاز ایک رسم سے ہوتا تھا جس کو رسم تائو کہتے تھے۔ یہ رسم اب بھی ہے لیکن اب اس میں جدیدیت پنجاب ثقافت عود کر گئی ہے۔قدیم زمانے کی یہ رسم

چلاس تعلیمی اداروں پر حملہ

گلگت یا راوپنڈی سے بذریعہ قراقرم ہائی وے جسے آج کل سی پیک کہا جاتا ہے سفر کرنے والوں نے  تھلیچی کے مقام پر روڈ میں نصب ایک  سائن بورڈ کو ضرور دیکھا ہوگا  اس سائن بورڈ پر کچھ الفاظ

گلگت بلتستان۔ایک موقف اپنانے کی ضرورت ہے

پاکستا نی سیاست اورسیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت ساری باتیں ہو چکی ہیں اس سلسلے کو یہی پہ منقطع کرنے سے پہلے ایک آخری بات جو میں کہنے والا ہوں وہ یہ کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے اندر شروع

دیامر بھاشا ڈیم اور چندہ

محترم چیف جسٹس صاحب کا ایک بیان نظر سے گزرا بات ڈیمز کے متعلق تھی اس لئے اس میں دلچسپی پیدا ہوئی وہ اس لئے کہ گلگت بلتستان میں بھی پچھلے کئی سالوں سے یہ سن رہے ہیں کہ سکردو

شندورپولو

میاں صاحب اور اس کی صاحبزادی کے بارے خبر یہ ہے کہ وہ لندن سے روانہ ہوچکے ہیں اور شام چھ بجے لاہور ایئر پورٹ پر اترینگے اب وہ اتر جائینگے یا جہاز کا رخ کسی اور رخ مُڑ جاتا

ریاست جموں و کشمیر بشمول گلگت بلتستان متنازعہ خطے

گلگت بلتستان کے باسیوں کے لئےکچھ کھٹی کچھ میٹھی باتیں ۔۔۔۔پاکستان آرمی نے ریاست جموں و کشمیر کے بارے اپنا دو ٹوک اور اصولی موقف کا نہ صرف اعادہ کیا بلکہ گلگت بلتستان والوں پر بھی یہ واضح کیا کہ

دودھ نہیں ملنے والا

مجھے پینے کا شوق نہیں۔پیتا ہوں غم بھلانے کو۔اب یہ پینے سے انسان غم کیسے بھول جاتا ہے یہ تو اس شعر کا خالق ہی بتا سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ شاعر نے یہ شعر کس کیفیت میں

انصاف کب ملے گا

میں لفظوں کی ہیرا پھیری اور لفاظی کرنے کے فن سے نا اشنا ہوں ۔ثقیل الفاظ کا استعمال اس لئے اچھا نہیں سمجھتا کہ اس کو سمجھنے کے لئے لغت کی تلاش رہتی ہے اس لئے اپنا مدعا سیدھے سیدھے

جی بی ٹیکس معطل

جی بی میں ٹیکس معطل ہونے کے بعد ایک شخص مٹھائی کا ڈبہ ہاتھ میں لئے گدھے کے قریب کھڑا گدھے سے یوں گویا ہوا۔ ابے گدھے کھا مٹھائی۔ کیوں مجھے گدھا سمجھتے ہو جو مٹھائی کھائوں ۔ کیا مجھے

سٹی پارک گلگت میں یوم حسین

آج جب سٹی پارک سے گزر ہوا تو اپنے دوست منظور کشمیری ارے بابا یہ کشمیر کے نہیں ہیں بلکہ گلگتی کشمیری ہیں اور بلدیہ گلگت میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔پر نظر پڑی جو بڑے ہی جوش