Posts By: Hidayat Ullah Akhtar

گوپس قلعہ میں فرانس کی شام

آپ میں سے بہت ساروں نے قلعہ گوپس ضرور دیکھا ہوگا۔۔ مجھے اس قلعہ کی یاد اس لئے آئی کہ پچھلے چند ہفتوں میں اس قلعہ اور اس کی مخدوش صورت حال کے بارے کچھ خبریں پڑھنے کو ملی اور

معاہدہ بیئرچی(بیارچی)1842

ایک تحریر نتھے شاہ   گلگت کا دماد  کے عنوان سے لکھا تھا۔آج پھر   یہ نتھے شاہ  یا د آیا ۔جی وہی نتھے  شاہ   جو خالصہ سرکار کشمیر  کا جرنیل  تھا۔وجہ اس کی   غذر جاتے ہوئے بیئرچی جسے آج کل لوگ

ہم سب ایک ہیں

پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کی مخالفت کرنے والے در اصل اپنی حمایت میں اٹھنے والی آواز اور سہارے کو کھو رہے ہیں ۔یا دوسرے لفظوں میں انڈیا کے مظالم کو اون کر رہے ہیں۔جو وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ

سوال ہینزل پاور پراجیکٹ کا ۔ سیخ پا کیوں؟

بعض اوقات   انسان کی نظروں سے  ایسے الفاظ  گزرتے ہیں یا دکھائی دیتے ہیں  جن کو پڑھنے کے بعد انسان کے اندر  ایک   عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ایک احساس  جاگ اٹھتا ہے اور کچھ الفاظ ایسے

مہاراج کی جے ، راجکمار کی جے

فیس بک پر ایک صاحب کے کمنٹس پڑھ رہا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ وہ صاحب قوم پرست نہیں بلکہ گلگت بلتستان پرست ہیں ۔ ہمارے لئے یہ نام بلکل نیا لگا ممکن ہے کسی صاحب نے پہلے

منزل کاحصول یقینی بنائیں

کہانیاں اور افسانے   بڑے مزے دار  اور طویل  ہوتے ہیں  ۔کہانی کو طول اور افسانے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے  لکھنے والے دور کی کوڑیاں بھی لاتے ہیں۔میرا نہ دور کی کوڑیاں لانے کا ارادہ ہے اور نہ

ہمیں متنازعہ کیوں بنایا گیا؟

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے نت نئی چیزیں وجود میں آرہی ہیں ۔جو چیزیں وجود میں آتی ہیں ان کے فائدوں کے ساتھ نقصانات بھی ہوا کرتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان ان چیزوں

حد ہوگئی یار

ڈوگروں کے انخلا   کے بعد  ہم کس بحث و مباحثے میں  مبتلا  رہے ذرا ملاحظہ کریں -ہم متنازعہ ہیں۔ ہم متنازعہ نہیں ہیں، ہم پاکستانی ہیں ،ہم پاکستانی نہیں ہیں، ہم آزاد ہیں ، ہم آزاد نہیں ہیں ، ہم

ٹامک ٹوئیاں

نہ ہم نے پہلے ٹامک ٹوئیاں ماری ہیں اور نہ اب ٹامک ٹوئیاں مارنے کا ارادہ ہے یہاں جو عنوان میں نے چُنا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو 1947 سے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں میں ماضی

فیصلہ محفوظ

فیصلے کا اعلان بعد میں کیا جائیگا ۔یہ وہ الفاظ  یا جملہ  ہے  جو اکثر عدالتیں  دلائل اور جرح مکمل کرنے کے بعد  فیصلہ تحریر کرنے کے بعدفیصلہ  کسی اور دن  سنانے کے لئے  عدالتی کاروائی  موخر  کرتے ہوئے   لکھتی