٭ شیخ خالد زاہد ٭

کیا دنیا کے حالات سنبھل جائینگے؟

تحریر: شیخ خالد زاہدکسی بھی مسلئے کے حل کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہوتا ہے کہ اس مسلئے کے بنیادی ماخذ کیا ہے یعنی یہ مسلۂ ، مسلۂ کیوں بنا ہے ،بنیادی ماخذ جانے بغیر کسی بھی مسلئے کا عبوری

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

تحریر: شیخ خالد زاہددنیا ایسے ہی لوگوں سے بھری پڑی ہے جواپنی دانست میں دنیا کیلئے ، اپنے ملک کیلئے، اپنے گھر کیلئے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی بھلائی کیلئے کچھ کررہے ہیںیا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

اب وہ وقت نہیں ہے

تحریر: شیخ خالد زاہداب وہ وقت نہیں ہے ،یہ وہ جملہ ہے جوعمر کے ہر حصے میں سماعتوں کی زینت بنتا ہے کبھی تلخ لئے ہوتا ہے تو کبھی طنز کے زہر میں بجھا ہوا ہوتا ہے اور شائد کبھی

انسانیت بقاء کی تلاش میں

تحریر: شیخ خالد زاہددنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے سات ارب سے تجاوز کر چکی ہے، دنیا میں لوگوں کی بہتات ہے ۔یہ افراد کی بھیڑ ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، یہ جانے بغیرکہ آگے کیا

پاکستان نے خیر سگالی کی تاریخ رقم کردی

تحریر: شیخ خالد زاہدیہ پاکستا ن اور ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے درمیان کشیدگی آج کی بات نہیں ہے ۔ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان دیکھیں تو اسمیں بھی اس

کشیدگی اور میڈیا کا کردار

تحریر: شیخ خالد زاہداس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ آج دنیا میں میڈیا کی حیثیت ملکوں اور ریاستوں کے اہم ترین ستون کی طرح ہے ۔دنیا میں ہونے والی ترقی سے میڈیا نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا

محکوم سوچ کی عکاسی

تحریر: شیخ خالد زاہدہمیں یہ بات کبھی بھی گوارہ نہیں ہوتی کہ کسی کی منفی کارگردگی کا تذکرہ کریں اور اس میں مین میخ نکالتے پھریں، دوست احباب کا کہنا ہے کہ منفی پہلوؤں میں سے بھی جناب کوئی نا

وزیر اعظم عمران خان اور بھارتی کھسیانی کیفیت

تحریر: شیخ خالد زاہددور حاضر میں علم جسے ہم لفظوں کا ہجوم کہتے ہیں ،کی بہت فراوانی ہے ، وہ لوگ جنہوں نے کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی وہ بھی وقت کے عالم بنے بیٹھے ہیں گویا کہیں علم

پاکستان کرکٹ اور پاکستان سپر لیگ

تحریر: شیخ خالد زاہدسب سے پہلے بطور ایک کرکٹ فین ہونے کے ناطے ہم نجم سیٹھی صاحب کو پاکستان سپرلیگ کیلئے کی جانے والی کاوشوں اور خدمات پر انکا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ایک ایسے

کیا حق اور ناحق کی تشخیص ممکن ہے؟

تحریر: شیخ خالد زاہدبے ترتیبی زندگی کو خراب کرتی چلی جاتی اور یہ بے ترتیبی کب ، کیسے اور کہاں سے آجاتی ہے ہمیں اسکا علم اس وقت ہوتا ہے جب بے ترتیبی بہت کچھ بگاڑ چکی ہوتی ہے اور