٭ شیخ خالد زاہد ٭

قربانی تو ہے پر روحِ ابرہیمی نا رہی

تحریر: شیخ خالد زاہد عازمین حج اپنی زندگی کے ایک اہم ترین عبادت کے فریضے کی ادائیگی سے فارغ ہوچکے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے گھر کی مھمان نوازی نصیب فرمائے اور جو لوگ اس سعادت کو حاصل کر چکے ہیں انکی

آخر پاکستان ہی کیوں؟

تحریر: شیخ خالد زاہد ایسے بے تحاشہ شواہد مشاہدے میں آئے ہیں کہ پاکستان کا وجود میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔ تحریکِ پاکستان کا چلنااور ایسا چلنا کہ قیام پاکستان پر ہی دم لینااس معجزے کی ایک دلیل

کراچی کی ٹریفک اور موٹر سائیکل

تحریر: شیخ خالد ذاہد انسان نے ترقی کیلئے سب سے پہلے وقت کو لگامیں ڈالنے پر کام کیا اور وقت کے استعمال کو اہمیت دی یعنی کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کا کیا جاسکے۔ جہاں انسان نے وقت کو

دنیا کو اب سنبھل جانا چاہئے

تحریر: شیخ خالد ذاہد دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال میں آمریکہ کا کردار پچھلی 3 یا 4 دہائیوں سے بہت قلیدی رہا ہے۔کبھی کسی کی حمایت میں کسی کے گھر میں کودے تو کبھی کسی کو بچانے کہ بھانے کسی

لفظوں کی حرمت

تحریر: شیخ خالد ذاہد لکھنے والے کیلئے نا لکھ پانا ایک انتہائی کربناک مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا لکھ کیوں نہیں پا رہا ؟ آخر کون سے ایسے عوامل ہے جو اسے لکھنے سے روک رہے ہیں۔ اس سوال

ابھی تو بادل کھل کر برسے ہی نہیں

تحریر:شیخ خالد ذاہد یقیناً دنیا انگنت مشکلات سے دوچار ہے اوران مشکلات میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر دنیا کی ان مشکلات میں جو “میری” مشکل ہے وہ سب سے اہم اور غور طلب ہے،

محبِ وطن کون ہے؟

تحریر: شیخ خالد ذاہد ایک انتہائی احمقانہ سوال ذہن میں رہ رہ کر کچوکے لگا رہا ہے (جی ہاں بلکل درست کہا آپ نے احمقانہ سوال احمق کے دماغ میں نہیں تو۔۔۔۔۔) سوال یہ ہے کہ پاکستان کے حصول کی

ضربِ قلم اور آن لائن لکھاری

تحریر: شیخ خالد ذاہد پاکستان میں لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ سیاست پر لکھنے کی بات ہو یا ادب کی کسی بھی صنف پر طبع آزمائی درکار ہو، آپ کو ایک سے ایک قلم کار مل جائے گا۔ جب

ہمارا سیاسی ماحول “مذاق”۔

تحریر: شیخ خالد ذاہد ۔2016 اختتام پذیر ہوچکا، کھونے پانے کی باتیں وقت کو ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ دیواروں پر لٹکے 2016 کے کلنڈر تبدیل کردیئے گئے ہیں ابھی بھی کچھ ایسے گھر ہونگے یا کچھ ایسی جگہیں

بیس کروڑ عوام کی فکر کرنے والے

تحریر: شیخ خالد ذاہد ہمارے ملک میں ایک مخصوص طبقہ اپنے موسمی بخار کے علاج کیلئے بھی دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارے ڈاکٹر صاحبان نااہل ہیں بلکہ اس سے یہ پتہ