٭ شیخ خالد زاہد ٭

نفرت کی آگ

تحریر: شیخ خالد زاہد معلوم نہیں لیکن سننے میں آیا ہے کہ کچھ پاکستانیوں نے بھارت کی برطانیہ کیخلاف جیت کیلئے بہت دعائیں کیں اور برمنگھم میں موجود پاکستانیوں نے بھارت کی بھرپور حمایت کی لیکن نتیجہ اس کے برعکس

حکومتِ وقت اور ملکی سیاست

تحریر: شےخ خالد زاہد ہمارے ملک میں ہمیشہ آل پارٹیز کانفرنس ہوئی ہیں، آج تک کل جماعتی مذاکرہ نہیں ہوسکا، شائد یہی ایک وجہ رہی ہوگی کہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی کیونکہ جس زبان میں ہوتی ہے و ہ تو

حکومت مخالف تحریک اور بجٹ

تحریر: شےخ خالد زاہد الحمدوللہ پہلے رمضان کا مقدس ماہ مبارک اپنی رحمتیں نعمتیں نچھاور کرتا ہوا گزرا اور ساتھ ہی عید الفطر کی خوشیاں بھی بغیر و عافیت منالی گئیں۔ عوام نے جیسے تیسے سب کچھ جھیل لیا ہے

طویل بمقابلہ مختصر مدتی

تحریر: شےخ خالد زاہد یہ اردو سے منہ بولتا محبت کا ثبوت ہے کہ عنوان کو انگریزی میں نہیں لکھاگوکہ انگریزی میں لکھ کر زیادہ پذیرائی کی حاصل کی جاسکتی تھی، جسکی وجہ ہمارے معاشرے میں عام بول چال میں

عالمی مقابلے اور کرکٹ ٹیم کا اعلان

تحریر: شےخ خالد زاہد طبلے جنگ بج چکا ہے ،( ارے خوفزدہ نا ہوں !ہم ایران اور امریکہ کے مابین ہونے والی زبانی کلامی جنگ کے بارے میں کچھ نہیں لکھنے لگے ہیں)۔ہم تو دنیائے کرکٹ کہ عالمی مقابلوں کی

ہمیں کیسی آزادی چاہیے

تحریر: شےخ خالد زاہد دنیا کے تمام انسان کسی نا کسی صورت قیدی ہیں۔ ہر معاشرہ اپنے افراد کو طے شدہ حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا، ہر مذہب اپنے ماننے والوں کو اپنی حدود سے باہر نہیں

رہزن کو رہبر نہیں کہنا

تحریر: شیخ خالد زاہد یہ بات قابل غور ہونی چاہئے کہ پارلیمانی نظام کے علاوہ کسی اور نظام کو لانے کی خبریں کیوں گردش کررہی ہیںاور کیوں جمہوریت کے رکھوالے اس نظام کو بچانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے

تزکیہ نفس اور رمضان

تزکیہ نفس اور رمضان! تحریر: شےخ خالد زاہد سب سے پہلے عالم ِاسلام کوخصوصی طور پر پورے پاکستان کو رمضان کریم کی دلی مبارکباد۔رمضان کا رحمتوں اور برکتوں کا مبارک مہینہ ہے یہ وہ ماہ مبارک مہینہ ہے کہ جس

ایم کیو ایم، نئے سیاسی امتحان میں

تحریر: شےخ خالد زاہد پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ سمیت کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جسے مختلف حروف تہجی لگا کرتقسیم نا کیا گیا ہویا پھربہت ہی مختصر وقت میں اپنی موت آپ ہی مر گئی ۔ اسی

ایک نیا حادثہ، ایک نئی بھاگ دوڑ

تحریر: شیخ خالد زاہد محترم قارئین کیا آپ کو نہیں لگتا کہ میڈیا ایک ایسی جدوجہد میں لگا ہوا ہے کہ جس میں جیت صرف میڈیا کی ہے لیکن ہارنے والے بہت سارے عام لوگ ہیں۔ بہت سال پہلے ایک