٭ شیخ خالد زاہد ٭

ہمیں کیسی آزادی چاہیے

تحریر: شےخ خالد زاہد دنیا کے تمام انسان کسی نا کسی صورت قیدی ہیں۔ ہر معاشرہ اپنے افراد کو طے شدہ حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا، ہر مذہب اپنے ماننے والوں کو اپنی حدود سے باہر نہیں

رہزن کو رہبر نہیں کہنا

تحریر: شیخ خالد زاہد یہ بات قابل غور ہونی چاہئے کہ پارلیمانی نظام کے علاوہ کسی اور نظام کو لانے کی خبریں کیوں گردش کررہی ہیںاور کیوں جمہوریت کے رکھوالے اس نظام کو بچانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے

تزکیہ نفس اور رمضان

تزکیہ نفس اور رمضان! تحریر: شےخ خالد زاہد سب سے پہلے عالم ِاسلام کوخصوصی طور پر پورے پاکستان کو رمضان کریم کی دلی مبارکباد۔رمضان کا رحمتوں اور برکتوں کا مبارک مہینہ ہے یہ وہ ماہ مبارک مہینہ ہے کہ جس

ایم کیو ایم، نئے سیاسی امتحان میں

تحریر: شےخ خالد زاہد پاکستان کی پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ سمیت کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جسے مختلف حروف تہجی لگا کرتقسیم نا کیا گیا ہویا پھربہت ہی مختصر وقت میں اپنی موت آپ ہی مر گئی ۔ اسی

ایک نیا حادثہ، ایک نئی بھاگ دوڑ

تحریر: شیخ خالد زاہد محترم قارئین کیا آپ کو نہیں لگتا کہ میڈیا ایک ایسی جدوجہد میں لگا ہوا ہے کہ جس میں جیت صرف میڈیا کی ہے لیکن ہارنے والے بہت سارے عام لوگ ہیں۔ بہت سال پہلے ایک

مسائل کے حل پر توجہ درکار ہے

تحریر: شیخ خالد زاہد پاکستان قدرت کی جانب سے ہمارے لئے ایک انمول تحفہ ہے جسکے حصول کیلئے ہمارے آباؤ اجداد نے بیدریغ قربانیاں دیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں کی اکثریت پاکستان کیلئے دھوکا ثابت ہوئے اور پاکستان

پاکستان اور مشکل فیصلے

تحریر؛ شیخ خالد زاہدکرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت کیلئے پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم کا گزشتہ دنوں اعلان کردیا گیا اور اس کی ذمہ داری چناؤ کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق نے کیا ۔ انضمام الحق نے اپنی بلے

سہل پسندی ترک کرنی پڑے گی

تحریر: شیخ خالد زاہدآج جدید یت کے اس دور میں بھی دنیا محنت کشوں کی بدولت چل رہی ہے ۔ بڑے بڑے سخت کام انسان نے اپنے ہاتھوں سے کئے ہیں جیسے بڑی بڑی چٹانوں کا سینہ چیر کر اپنے

کراچی اور بلدیاتی مسائل

تحریر: شیخ خالد زاہدپاکستان تحریک انصاف کی حکومت جس بصارت کی بنیاد پر اقتدار میں آئی تھی بظاہر اس کی سمتیں تبدیل ہوتی محسوس کی جارہی ہیں کیونکہ جس فصل کا بیج انہوں نے بونا ہے اس کی بوائی کیلئے

اہل نظر کی، نظر نا ہو جانا

تحریر: شیخ خالد زاہد*ہوا ہے شہہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا* یہ شعر کس شاعر کا ہے اس سے کم ہی لوگ واقف ہونگے اور اس شعر کی حقیقت سے شائداس سے بھی کم لوگ فہم رکھتے ہوں ۔یہ مصرعہ