٭ شہزاد حسین بھٹی ٭

ٹھیکیدار رکھ لیجئے

تحریر:شہزاد حسین بھٹی اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو (۱)۔المائدہ۔90 یہ شراب کے

نمائیندے یا لفنگے

تحریر :شہزاد حسین بھٹی خدا تعالی کی طرف سے عوام ، عوام کی طرف سے منتخب نمائیندوں ، منتخب نمائیندوں کی وساطت سے پارلیمینٹ کو کسی ریاست پر حکمرانی کا اختیار ملنے پر پارلیمینٹ اپنی اجتماعی سوچ کی روشنی میں

ریاکاری کا عذاب

تحریر: شہزاد حسین بھٹی شیخ سعدی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ریاکار درویش جس کی درویشی محض دکھاوے کو تھی ایک بار بادشاہ کا مہمان ہوا۔ شاہی دستر خوان بچھا تو بادشاہ پر اپنی کم خوری ظاہر کرنے کے

موت کے سوداگر

تحریر:شہزاد حسین بھٹی انسانی صحت سے کھیلنا پاکستان میں کوئی نیا نہیں ہے۔ آئے روزعوام کو ناقص خوراک ، کھادوں کے استعمال، جعلی مصالوں،ناقص دودھ ، گدھے اورکتے کے گوشت ، برائلر مرغ سمیت نہ جانے کیا کیا خوراک کے

دلوں کی حکمرانی اور قرضہ معافی

تحریر :شہزاد حسین بھٹی کسی نے سکندر رومی سے پوچھا “عظیم بادشاہ! آپ نے مشرق سے لے کر مغرب تک کے ملکوں پر کس طرح قبٖضہ کیا؟ جب کہ آپ سے پہلے بادشاہ، خزانہ، لشکر اور فتوحات میں آپ سے

بلاسود قرضہ سکیم کس کے لیے؟

تحریر: شہزاد حسین بھٹی اس ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس ملک کی ترقی پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرزغیر ملکی بنکوں خصوصاً سوئس بنکوں میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جمع ہیں اور جمع رہیں گے۔یہ وہ رقم

پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کا دوہرا معیار

تحریر :شہزاد حسین بھٹی پنجاب حکومت نے 2013ء میں عطائیت کے خاتمے کے لیے معالجین اور علاج گاہوں کو رجسٹرڈ کرنے اوران کے اعداد و شمار جمع کرنے اور لوگوں میں صحت کے متعلق شعور اُجاگر کرنے اور بیماریوں کے

صوبہ پوٹھوہار کا قیام ناگزیر کیوں؟

تحریر: شہزاد حسین بھٹی قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ستم ضریقی ہی رہی کہ اس ملک پر اشرافیہ کا قبضہ رہا اور انہوں نے تمام تر قوانین اور اقدامات اپنے مفادات کے تحت اُٹھائے۔ ہر دور میں ہونے

سقوط ڈھاکہ سے ہوس پرستی تک

تحریر: شہزاد حسین بھٹی ہوس مال و زر نے انسانیت کے احترام کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ علم جو شعور کی آگاہی کا سرچشمہ تھا اُسے آج جہالت کے در کی لونڈی بنا دیا گیا ہے ۔ آج

چیئرمین این ایچ اے سے دانشور سعید آسی تک

تحریر:شہزاد حسین بھٹی ایک سوال گذشتہ طویل عرصے سے سنجیدہ حلقوں میں اکثر زیر بحث آتا ہے کہ ہمارے ملک کے قانون نافذکرنے والے ادارے دن بدن گراوٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔ان کی کارگردگی بدلتے وقت کے ساتھ