٭ شاہ فیصل نعیم ٭

یونہی کربلا کسی کو عطا نہیں ہوتی

تحریر: شاہ فیصل نعیم یہ زمان و مکاں کی وسعتوں سے ورا ایک ایسی انوکھی داستان ہے کہ جہاں آکر وقت ٹھہر جاتا ہے ، عقل حیران ہے، الفاظ میں اتنی وقعت نہیں کہ وہ اس کو بیان کر سکیں،

او خدایا! عید پھر آگئی۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

بازارِدنیا گرم ہے تڑکے اُٹھے ہوئے متلاشیانِ رزق شام کے دھندلکے میں اپنی مکین گاہوں کی سمت پلٹ رہے ہیں کچھ پیٹ کا ایندھن اُٹھائے ہوئے اور کچھ خالی ہاتھ ہیں بس اسی طرح محفلِ ہستی کا یہ قافلہ رواں

جان سے گزرنے والوں پہ شک نہیں کرتے۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

اُس کے چہرے سے عیاں رُعب و جلال ہر کسی کو بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اُ س کی ہر بات سننے والوں کی سماعتوں میں نئی راہیں وا کرتی ہے۔ وہ فو ج

گریٹیسٹ ٹریننگ سنٹر۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

آج لوگ وقت کو مینج کرنا اور لیڈرشپ سیکھنے کے لیے ہزاروں اور لاکھوں روپے لگا کر ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ مگر مجھے ایک ایسی درس گاہ کا پتا چلا ہے جہاں سے ٹریننگ لینے کے لیے آپ کو کچھ

دھرتی میرے پُرکھاں دی۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

میری اُس سے پہلی ملاقات ۲۰۱۵ ء کے آخر میںیورپ کی ایک مشہور یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں ہوئی تھی ۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔ وہ ایک ہی وقت میں دنیا کی

یانوراللہﷺ۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

ماہِ رمضان رحمتوں کی بارات لیکر بِلا تفریقِ ذات پات ، جاہ و حشمت ہر گھر میں وارد ہے اور ہر طرف خداتعالیٰ کی رحمت برس رہی ہے ۔جس ابنِ آدم کا دامن جس درجہ کشادہ ہو گا وہ اُسی

اسلام پہ شب خون۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

یہ گوجرانوالہ سے لاہور واپسی کا واقعہ ہے ۔ گاڑی میں ایسا ہی رش ہے جیسا گاڑیاں کم اور سواریاں زیادہ ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ایسی صورتِ حال میں مسافرگاڑی والوں کو کوئی دعائیں تو دیتے نہیں اور

پنجاب یونیورسٹی کتاب میلہ ۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

لوگوں کے ذوق بدل گئے ہیں، وہ عادات جو حسنِ زیست ہوا کرتی تھیں اب دم توڑ چکی ہیں، ایک وقت تھا جب علم دوست انسان ملتے تھے، انسان کی قدرومنزلت کو ناپنے کا پیمانہ علم ہوا کرتا تھا ،

ٹرننگ پوائنٹ۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

یہ مقام کسی بھی وقت انسان کی زندگی میں آسکتا ہے، اُسے کسی بھی وقت سوچ مل سکتی ہے ، وہ کسی بھی وقت زندگی کا آغاز کر سکتا ہے پھر اس سے فرق نہیں پڑھتا کہ وہ زندگی کے

تبھی تیری گو د میں زمانے پروان چڑھتے ہیں۔۔۔۔ تحریر: شاہ فیصل نعیم

دانشوروں، ادیبوں، شاعروں، فلاسفروں، قلمکاروں اور ہر قسم کے زباں دانوں کی سوچوں کے زایوں اور توجہ کا مرکزو محور صنفِ نازک کی ذات رہی ہے۔ وہ اس کے جداجدا رنگوں سے اپنی تحریروں میں رنگ بھرتے رہے،من کے نہاں