٭ شفقت اللہ ٭

خدا کے نام کا نعرہ لگا کر لوٹ لیتے ہیں

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ ہر طرف جھوٹ ، فریب کا بول بالا ہے ، ریاکاری کا کھیل اپنے عروج پر ہے ۔ ریاکاری کے بارے میں آگہی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اگر ہم تاریخ کے اوراق گردانیں تو ہم

​خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

تحریر:۔ شفقت اللہ کل شب میں نے ایک خواب دیکھا ۔خواب میں محمد بن قاسم مجھ سے مخاطب تھا اور کہنے لگا، ارے تم سوئے ہوئے ہو! میں نے کہا جی حضور شام ڈھل چکی ہے سونے کا ہی وقت

بقاء کی تگ و دو

تحریر: شفقت اللہ دور حیات ایک ایسا لفظ ہے جو زندگی کی مکمل تاریخ پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کو سمجھے بغیر نہ تو انسان بلکہ دنیا میں موجود جتنی بھی مخلوقات ہیں زندہ نہیں رہ سکتیں ۔یہاں

جھوٹ کے پاؤں ہوتے ہیں اور بہت سارے ہوتے ہیں

تحریر: شفقت اللہ ذہن خرافاتی ہو گیا ہے لوگ نہ جانے دوغلے کیوں ہیں ؟معیار زندگی میں اپنی اور دوسروں کی ذات میں تضاد کیوں ہے؟یا وہ زیادہ با شعور ہیں اور زندگی جینا سیکھ چکے ہیں سب کچھ ایسے

پاکستان کو داخلی خطرات میں سے ایک خطرہ

تحریر: شفقت اللہ سعادت حسن منٹو نے کہا تھا کہ میرے شہر کے شرفا ء کو میرے شہر کی طوائفوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔امریکہ کا مشہور و معروف کاروباری اور سیاسی خاندان کلنٹن جس سے ہیلری کلنٹن بھی

میثاق جمہوریت یا کرپشن چھپانے کا میثاق

تحریر: شفقت اللہ ماضی اور حال میں اگر ہم پاکستان کے سیاسی پس منظر کا جائزہ لیں تو یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے فیصلوں میں لندن کا اہم کردار رہا ہے ۔حال ہی میں جب

گرینڈ الائنس بمقابلہ گرینڈالائنس

تحریر: شفقت اللہ بابا صوفی برکت لدھیانوی اپنے دور کے بہت بڑے صوفی بزرگ گزرے ہیں ان کامزار فیصل آباد میں سمندری روڈ پر واقع ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ’’ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب دنیا کے

پاکستان کا موجودہ سیاسی اتار چڑھاؤ

تحریر : شفقت اللہ سال2013ء ضمنی انتخابات میں ن لیگ بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد پاکستان پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جس میں میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا ۔2013ء کے ضمنی انتخابات سے

نوازشیں بے وجہ نہیں

تحریر: شفقت اللہ میرے ایک قابل اور ایماندار دوست نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا اور اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہو گیا اسی اثناء میں حکومت تبدیل ہوئی اور ٹھیک ایک سال بعد اس کی ترقی کمشنر کے

کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تحریر:شفقت اللہ ہلاکو خان نے جب معتصم بااللہ کو شکست دینے کے بعد اس کی سلطنت پر بادشاہت قائم کر لی تو اس کے بعد اس نے معتصم با اللہ اور اس کے مقید وزراء کو دعوت پر بلایا ۔دعوت