٭ رقیہ غزل ٭

نہ سمجھوگے تو ۔۔۔

ازقلم : رقیہ غزل الفاظ تاریخ کی راہداریوں میں گم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اہم مقامات اور اداروں میں من چاہے الفاظ بولنے والے بس یہی بھول جاتے ہیں کہ ایسے ہی الفاظ کے چنگل

جو دل میں بیٹھتے تو

ازقلم : رقیہ غزل عام طور پرغربت معاشی نا ہمواری کو کہا جاتا ہے معاشی ناہمواری دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو کہتے ہیں جس کے نتیجہ میں غربت پیدا ہوتی ہے مگر میرے نزدیک غربت ایک ذاتی

حکمران جب اپنی حفاظت کو ترجیح دینے لگیں

تحریر: رقیہ غزل تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے ، ’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ‘‘ ۔کمزوری اور بے بسی زندگی کا ایک حقیقی روپ ضرور ہے مگر اسے مقدر قرار دینا عین جاہلیت ہے

بے اختیار اور بے بس بلدیاتی نمائندے بے مقصد ہیں

تحریر: رقیہ غزل 2017 کا سورج اپنی پوری آب و تاب سے جلوہ نما ہے اس جلوے کو دیکھنے کو امرا اور روسا ہی خوار ہیں مگرغریب غمزدہ ہیں کیونکہ وہ تنخواہ دار ہیں اسی لیے انھیں یہ فکر کھائے

بُکل دے وچ چور

ازقلم : رقیہ غزل پرانے وقتوں میں ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کر کے بہت سا خزانہ جمع کیا اور پھر اسے سلطنت سے دور ایک بیابان غار میں چھپا دیا اس خزانے کی صرف دو

ایسا چلن چلو کہ کہ کریں لوگ آرزو

تحریر: رقیہ غزل آج بابائے قوم ، بانئی پاکستان ،قائد ملت،شہسوار حریت ،محسن پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 140 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے کسے خبر تھی کہ کراچی کی سرزمین پر آنکھ کھولنے اور لنکن

تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

تحریر: رقیہ غزل یہ خیال قوی تھا کہ میں بھی امریکی انتخابات پر تبصرہ کرونگی ۔امریکی صدر کے انتخاب کو امریکیوں کا متعصبانہ اور بیوقوفانہ فیصلہ کہو نگی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کو اقوام عالم کے لیے خطرہ اور

اور اب قوم سے مزید مذاق بند ہو جانا چاہیئے!۔

تحریر: رقیہ غزل مقام حیرت ہے کہ عوامی حلقوں میں اضطراب ،غصہ ،باغیانہ افکار اور روز افزوں نفرت کے بڑھتے ہوئے مناظر دیکھ کر بھی سیاستدانوں کو کوئی فرق نہیں پڑ ھ رہا، بلکہ ان کی ہٹ دھرمی اور ضد

بلاول ویل پلیڈ ؟

تحریر : رقیہ غزل اکثریتی عوام کی رائے ہے کہ بھٹو وہ واحد انسان تھے جو عوام کے حقوق کی بات کرتے تھے درحقیقت یہ بات درست بھی ہے کیونکہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ پہلی مرتبہ بھٹو نے

پاکستان کے حالات اور ہماری حکمت عملی !۔

تحریر:رقیہ غزل اگر پاکستان کو درپیش خطرات کے تناظر میں بات کی جائے تو پاکستان کو صرف بھارت ہی سے نہیں بلکہ افغانستان اور ایران سے بھی کسی حد تک خطرہ لاحق ہے بھارتی عزائم تو کسی سے بھی چھپے