٭ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ٭

تقویٰ کا حصول

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی حضرت ابراہیم خالق ارض و سما کے جلیل القدر پیغمبر تھے آپ کا مقام و مرتبہ جتنا بڑا تھا آپ پر اللہ تعالی کی آزمائشیں بھی بہت کڑی تھیں محبوب خدا سرتاج الانبیا کا فرمان ہے

نظر کعبہ پر

پروفیسر عبداللہ بھٹی صاحب فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ ہیں وہاں سے انکی دوران حج خصوصی تحریر سعودی ائیر لائن کا دیو ہیکل بو ئنگ طیا رہ جدہ کی فضاؤں میں داخل ہو چکا تھا ‘ائر ہو سٹس

شہر قبرستان

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میرے دوست کے والد کی وفات پر اُس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے میں لاہور کے قدیمی قبرستان میانی صاحب آیا ہوا تھا مرحوم کا جنا زہ پڑھا جا چکا تھا اب ہم مر

صرف ’’میں‘‘۔

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی آجکل آپ وطن عزیز کے کسی بھی نیوز چینل کوآن کریں تو پاکستان کے نام نہاد سیاسی لیڈر اور اُن کے چمچے خو شامدی ٹو لے چیخ چیخ کر بلکہ دھا ڑیں ما رتے ہو ئے

مٹی کا ڈھیر

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میرے سامنے ایک اُدھیڑ عمر فالج زدہ شخص نشان عبرت بنا بیٹھا تھا اُس کی حرکات تاثرات رویئے اور جسم کے ہر حصے سے بے بسی بے کسی لا چارگی ٹپک رہی تھی اِس کا آدھا

غریب کی آہ

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا بد بو کا زور دار جھو نکا آکر میری ناک اور پھیپھڑوں کو جلا تا چلا گیا بد بو کیا بو ل براز گوشت کے جلنے سڑنے اور انتہائی

عروج و زوال

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میرے سامنے جو منظر تھا میں اِس کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا گردشِ شب و روز وقت کی رفتار کسی انسان کا اسطرح بھی تنزل کر سکتی ہے

جلاد ڈاکٹر

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی لا ہو ر کا مشہور و معروف پرائیوٹ ہسپتا ل مریضوں لواحقین ڈاکٹروں نرسوں اور عملے سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا انسان سیلا ب کی طرح یہاں اُمڈ آئے تھے یہاں پر انسانوں کا جیسے

موت کا وار

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور جسم پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہو گیا ایسے ہو لناک خوفناک ، دہشت ناک ناقابل یقین منظر کے لیے بلکل بھی تیار نہ تھا میں سوچ بھی

انسان کے رنگ

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی تاریخ انسانی کا ورق ورق شاہوں اور شاہ نوازوں کے واقعات سے بھرا پڑا ہے ‘ہر دور میں ظالم اور مادیت پرست ہی نظر آئے تا ریخ انسانی کا ہر دور ضمیر کے تاجروں اور وفا