٭ کالمز و آرٹیکلز ٭

قائد کی ولادت کا دن اور ہم

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔گوجرانوالہ۔چیف ایگزیکٹیو وائس آف سوسائٹی قائداعظم پورا نام محمد علی جناح 25 دسمبر1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔والد کا نام پونجا جناح چمڑے کے بڑے تاجر۔محمد علی جناح بچپن سے ہی اعلی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ابتدائی تعلیم کراچی

ایسا چلن چلو کہ کہ کریں لوگ آرزو

تحریر: رقیہ غزل آج بابائے قوم ، بانئی پاکستان ،قائد ملت،شہسوار حریت ،محسن پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا 140 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے کسے خبر تھی کہ کراچی کی سرزمین پر آنکھ کھولنے اور لنکن

عوامی مفاد مزید گھوم چکریوں میں

تحریر:ڈاکٹر میاں احسان باری وفاقی حکومت نے اوگرا ،پیمرا ،پی ٹی اے ودیگر ریگو لیٹری اتھاریٹیز کی خود مختاری پر قد غن نہیں لگائی بلکہ اسے مکمل ختم کرکے انہیں وزارتوں کے ماتحت کرکے عوام کے حقوق پر ایک اور

عظیم لیڈر!قائد اعظم محمد علی جناح

تحریر : رانا اعجازحسین ۔25دسمبر 1876ء کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی کے وزیر مینشن میں جنم لیا تو کسے معلوم تھا کہ یہ بچہ آ گے چل کر برصغیر کے مسلمانوں کا عظیم رہبر بنے

سیکولرسٹو ہوشیار باش! قائدؒ ِ محترم آ رہا ہے

تحریر: میر افسر امان، کراچی سیکولرسٹو ں نے ایک مدت سے قائدؒ ِ محترم کی ۱۱ ؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کی من مانی تشریح کر کے قائدِ ؒ محترم کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ ثابت کرنے کی ناکام

محسن پاکستان قائداعظم

تحریر :عقیل خان ۔25دسمبرکوقائداعظم محمدعلی جناح کا 140واں یوم پیدائش ہے ۔قائداعظم پاکستان کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ آج جس دیس میں ہم سکھ کا سانس لے رہے ہیں یہ قائداعظم کی بدولت ہی معرض وجود میں آیا۔ پاکستان حاصل

منیر احمدصدرآواز یونین کونسل فورم گولڑہ (اٹک) کی سماجی خدمات

تحریر: اقبال زرقاش زمین شدت تپش سے مغلوب ہوکر پیاسی ہوتی ہے تو آسمان سے موسلا دھار بارش ہوتی ہے ۔تاریکی شب کی چادر بسیط ہوتی ہے تو صبح کا اجالا پھوٹ پڑتا ہے بندگان خدا میں جب گمراہی پھیلتی

شکائتوں کا یا ڈھیر کچرے کا

تحریر: شیخ خالد ذاہد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ لاہور واقعی زندہ دل لوگوں کا شہر ہے۔ رواں دسمبر ہمیں زندہ دلوں کے شہر لاہور جانے موقع ملا۔ ہم نے اپنے ایک بہت عزیز دوست کو جبری میزبانی

کافر اور کفر

آج دنیا بھر میں مسلمان جن مصائب اور آفات کا شکار ہیں ان کا سب سے بڑا سبب آپس کا تفرقہ اور خانہ جنگی ہے۔ ورنہ عددی کثرت اور مادی اسباب و وسائل کے اعتبارسے مسلمانوں کو سابقہ ادوار میں

سیکولرسٹوں اور لبرلز کی باہمی د و ڑ

تحریر:ڈاکٹر میاں احسان باری ملک بھر کی تقریباً سبھی بڑی مقتدر سیاسی جماعتوں میں لبرلزم اور سیکولرزم کے مقابلے جاری ہیں آپس کی اس دوڑ میں ہر سیاسی پارٹی کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنے آپ کوجتنا زیادہ سے