٭ کالمز و آرٹیکلز ٭

انسان کے رنگ

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی تاریخ انسانی کا ورق ورق شاہوں اور شاہ نوازوں کے واقعات سے بھرا پڑا ہے ‘ہر دور میں ظالم اور مادیت پرست ہی نظر آئے تا ریخ انسانی کا ہر دور ضمیر کے تاجروں اور وفا

موت بانٹتے ریلوے پھاٹک

تحریر : رانا اعجاز حسین میاں چنوں میں ٹرین کی اسکول وین کو ٹکر سے 11بچوں کی المناک موت ، لودھراں میں پھاٹک پر چنگ چی رکشے میں سکول جاتے 9 ننھے بچوں کی ہلاکت ، اور اب گوجرہ میں

ایک کالم، کالم نگاروں کی خدمت میں

تحریر: ظہوردھریجہ وزیر اعظم برسوں بعد ملتان تشریف لا رہے ہیں ۔ وسیب کے لوگوں کی تمنا ہے کہ وزیراعظم ان کے مسائل کی طرف توجہ کریں ۔ مگر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان مسائل سے ان کو

انسانیت کو سمجھیں

تحریر:علی رضا چند دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گاؤں میں ایک بوڑھی عورت آئی۔پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بڑھیا پتہ نہیں کتنے دن سے بھوکی تھی۔وہ دوپہرتین بجے سے ہمارے گاؤں میں منہ پر کپڑا اوڑھے بیٹھی تھی۔آہستہ

قائد ہمارا ہے

تحریر:شاہداقبال شامی پاکستان اولیاء کا فیضان ہے ،علماء کی محنتوں کا ثمر ہے،قائداعظم محمد علی جناع کی تربیت علماء حق نے فرمائی،قائداعظم بات کرنے سے پہلے علماء سے مشورہ لیا کرتے تھے۔پاکستان مولانا فضل الرحمن،الیاس قادری،حافظ سعید،سراج الحق اور ساجد

اولاد کے ’’لہو‘‘ میں حرام کمائی کا زہر مت گھولو !

تحریر: افضال احمد اولاد اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی خواہش ہر شادی شدہ جوڑے کو ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کسے اولاد سے نوازنا ہے اور کسے اولاد سے نہیں نوازنا۔ اللہ

میثاق جمہوریت یا کرپشن چھپانے کا میثاق

تحریر: شفقت اللہ ماضی اور حال میں اگر ہم پاکستان کے سیاسی پس منظر کا جائزہ لیں تو یہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کے فیصلوں میں لندن کا اہم کردار رہا ہے ۔حال ہی میں جب

فخر پاکستان! ارفع کریم رندھاوا

تحریر : رانا اعجاز حسین دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی کم عمر ترین آئی ٹی ایکسپرٹ ارفع کریم رندھاوا کی پانچویں برسی 14 جنوری کے روز منائی جارہی ہے۔ارفع کریم 2 فروری 1995ء کے دن پنجاب

محبِ وطن کون ہے؟

تحریر: شیخ خالد ذاہد ایک انتہائی احمقانہ سوال ذہن میں رہ رہ کر کچوکے لگا رہا ہے (جی ہاں بلکل درست کہا آپ نے احمقانہ سوال احمق کے دماغ میں نہیں تو۔۔۔۔۔) سوال یہ ہے کہ پاکستان کے حصول کی

مسکراتے چہرے

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی میں جیسے ہی آفس پارکنگ میں کار سے اُترا ایک خوش لباس خو ش شکل گریس فل تقریبا پچاس سالہ شخص باوقار انداز سے دبے پا ؤں چلتا ہوا میری طرف آیا اس کو اللہ نے