٭ منشاء فریدی ٭

پی ٹی آئی کی حکومت میں میڈیا پرسنز پر تشدد اور شہید استادکی ہتھکڑیوں میں جکڑی لاش

تحریر: منشاء فریدیبہت لکھا ہم نے پی ٹی آئی کی فیور میں، اس کے ہر عمل اور ہر اقدام کو سَراہا کہ ملک میں قائم کرپٹ اداروں کی کارکردگی غیر موئثر ہو گی اور رشوت کا بازار سرد ہوگا۔ ادارے

لالے کی حِنا بندی

تحریر: منشاء فریدیکہا جاتا ہے کہ تلخ ماضی اور اس تلخ ماضی کی یادیں عذاب اورغضب ناک ہوتی ہیں۔ ماضی میں واقع ہونے والے حادثات، نازل ہونے والے مصائب اور تکالیف مستقبل اور حال کے لمحات کو سوگوار کر کے

قوم پرستی۔۔ ریاست کے استحکام کے لیے ضروری ہے

تحریر : منشاء فریدیایک اخباری خبر ہے کہ “برطانوی نشریاتی ادارے کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت میں” قوم پرستی” کا جوش عام شہریوں کو جعلی خبریں پھیلانے کی تحریک دیتا ہے۔تحقیق میں پتا چلا ہے

پولیس کا یہ رویہّ بھی آزادی اظہار پر حملہ تصور ہوگا

تحریر : منشاء فریدیاس وقت مجموعی طور پر پاکستان بالخصوص بلو چستان اور کے کی کے اور پنجاب راجن پور اور ڈیرہ غازیخان کے اضلاع میں ’’صحافی‘‘ /کالم نگار شدید ترین مسائل کا شکار ہوتے ہوئے غیر محفوظ ہیں ۔

پنجاب کی سیاست ۔۔بزدار قبائل کا کردار ۔۔سی ایم سردار عثمان بزدار متوجہ ہوں

تحریر : منشاء فریدیایک موقر قومی اخبار نے سردارعثمان بزدار سے متعلق اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا کہ عمران خان کابزدار کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ درست نظر آتا ہے۔اُن کا انتخاب جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے اور

پی ٹی آئی کی جیت۔قوم کے خوابوں کی تعبیر؟

تحریر: منشاء فریدیاب جبکہ الیکشن 2018ء کے نتیجے میں تحریک انصاف واضح اکثریت سے مرکز میں حکومت کرنے جا رہی ہے ۔پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت کے ا مکانات ہیں کیونکہ آزاد اُمیدوار جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے

مثبت طرز فکر کی ضرورت

تحریر : منشاء فریدی معاشرہ ترقی یافتہ ہو تو مسائل کا تصور ہی نا ممکن ہے۔ ہر طرف وسائل ہی وسائل جنم لے رہے ہوتے ہیں ۔ سرکار بھی اپنے عوام کیلئے وسائل کہ ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس صورت مین

شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے

تحریر :منشا ء فریدی اس وقت بحیثیت قوم ہماری تمام تر توجہ اس مسئلے پر ہے کسی طرح وطن عزیز سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔ریاست سے قتل وغارت اور شورش کا مکمل قلع قمع ہو ۔تعلیمی ادارے ،عبادت گاہیں اور

۔’’مناجات معصومین‘‘ کی تقریب رونمائی

تحریر : منشاء فریدیادبی تقاریب وسیب میں مثبت رویوں کا باعث ہیں۔یہ تقاریب ہمارے عمومی سماجی اور اجتماعی رویوں کے عروج کیلئے محدودمعاون ثابت ہوتی ہیں ۔وہ معاشرہ جمہور کا شکار ہو کر فناء کے گھاٹ اتر جاتا ہے۔جہاں ثقافتی

وسیب دا سانجھا بیانیہ’’احمد خاں طارق‘‘

تحریر :منشاء فریدیسرائیکی وسیب وچ کلچرڈہے۔ اتھوں دے ادب وچ ورتیے استعار تے تشبیہات ایندے آپنے ہن۔ پھوگ ،لئی ،لانڑیں ،جال کرینہیہ،ڈیلھے،پیلھوں تے کانہہ وغیرہ نویکلیاں وسیبی سوکھڑیاں ہن۔جیندے اتے سرائیکی ادب تے ثقافت کوں پھوت چھکدی کھڑی ہے۔اج ا