٭ ملک شفقت اللہ ٭

سیاست اور سیاہ ست

تحریر: ملک شفقت اللہ افسوس ہے کہ ملک مخالف پالیسیوں اور ہتھکنڈوں کو لگام ڈالنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ، یا اگر کہا بھی گیا تو بہت کم اور دبی دبی آواز میں صرف بیان بازیوں کی حد تک۔

حامد میر قوم سے معافی مانگے

تحریر: ملک شفقت اللہ گزشتہ دنوں علی وزیر اور محسن داوڑ نے خود کے افغان ہونے پر فخر کیا تو ان پر پاکستان کی غیور قوم نے آڑے ہاتھوں لیا۔ کہ آپ کھاتے پاکستان کا ہیں، یہاں پر تحفظ لیتے

بھارت کی بدلتی ہوئی صورتحال

تحریر: ملک شفقت اللہ بھارت میں پاکستان والی قبض کے چورن نے بہت نام کمایا ہے، بی جے پی ایک بار پھر عام انتخابات میں کامیاب ہو چکی ہے جو بھارتی ووٹرز کے شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ اور بھارتی

ہمیں جینے دو

تحریر: ملک شفقت اللہ پاکستان میں کل اسی ہزار کے قریب خاص و عام ادویات رجسٹرڈ ہیں جو پراڈکٹس اور را مٹیریل کی صورت میں برآمد کی جاتی ہیں ۔پاکستان میں گنی چنی کمپنیاں ہیں جو چند ایک ادویات کا

مسلما ن جسد واحد ہو جائیں

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ امریکہ اور ایران تعلقات انقلاب ایران کے بعد سے اچھے نہیں رہے ہیں۔ان میں اتار چڑھاؤ تو رہا لیکن ساتھ ہی ایران نے ایسی پالیسیوں کو اپنائے رکھا جن میں ایران فرسٹ رہا۔حالانکہ او آئی سی

خاک ہو جائیں گے خبر ہونے تک

تحریر: ملک شفقت اللہ کسی ملک کی ترقی کا اندازہ اس کی شرح خواندگی سے لگایا جا سکتا ہے۔ دنیا میں وہ ممالک جو ترقی یافتہ ہیں عموماََ سو فیصد شرح خواندگی کے حامل ہیں ۔اگر پاکستان کے حوالے سے

مدحِ نگار، ریاض ندیم نیازی

تبصرہ: ملک شفقت اللہ شفی میں سمجھتا ہوں کہ حمد و نعت کو شعری صفت سے الگ رکھنا چاہئے ۔کیونکہ یہ دنیا کے تمام سرابوں آنکھ، لب، رخسار اور زلفوں سے بہت الگ ایک نئی دنیا کا نام ہے۔ جس

دشمنوں کو پہچانو

تحریر:ملک شفقت اللہ پاکستان میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ڈس انفارمیشن ہے۔ عام طور پر اس پر بحث کرنے سے گریز کیا جاتا ہے لیکن یہاں میرے وطن کی عزت اور سالمیت کی بات ہے تو میری قلم

تعلقات ضروری، مگر بچ کے

تحریر: ملک شفقت اللہ عمران خان ترجیحی بنیادوں پر پاکستان کے اقتصادی اور معاشی بحرانوں پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔ماضی کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں تنہا ہو گیا تھا

پیامِ اقبال

تحریر: ملک شفقت اللہعلامہ محمد اقبالؒ تحریک احیائے اسلامی کے اصل معماروں میں سے ہیں۔ آپ کی علمی و ادبی زندگی کا آغاز انیسویں صدی کے آخری عشرے میں ہو گیا تھا، لیکن قومی زندگی پر ان کے اثرات یورپ