٭ ملک محمد شہباز، قصور ٭

زندگی امتحان لیتی ہے ۔۔۔۔ تحریر : ملک محمد شہباز

اس دنیا میں بسنے والے لوگوں میں سے کچھ امیر ترین اور اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ گرمیوں کے شدید موسم میں ایر کنڈیشنڈ والے ماحول میں دن رات ایسے

ماں! لازوال محبت کا دوسرا نام۔۔۔۔ تحریر:ملک محمد شہباز

ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کا فلاں ساتھی موت و حیات کی کشمکش میں ہے اور اپنی زندگی کی آخری سانسیں پوری کر رہا ہے۔وہ

اپریل فول ( جاہلانہ مذاق ) ۔۔۔تحریر ملک محمد شہباز

احمدپچھلے پانچ سال سے ایک پرائیویٹ کمپنی میں بطور انجینئر ملازمت کرتاہے ۔ارشد نے بیٹے کی پیدائش پر عقیقے کا اہتمام کیااور سب دوستوں کی طرح احمد کو بھی ضرور آنے کی تاکیدکی ۔تمام دوست وقت مقررہ پربمعہ تحائف ارشد

کبوتر بازی۔۔۔۔ تحریر: ملک محمد شہباز، قصور

کھیل کھیل میں معصوموں پر ظلم گرمیوں کا موسم اور دوپہر کا وقت تھا۔ سورج جوبن پر تھا اور پوری آب و تاب کے ساتھ آگ برسا رہا تھا۔ میں کسی کام کی وجہ سے گھر سے نکلا اور گلی

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ۔۔۔۔ تحریر:ملک محمد شہباز، قصور

(مہنگائی کے دور میں فروغ تعلیم کا سستا ادارہ) پیارے پاکستان میں جہاں سرکاری تعلیمی ادارے فروغ تعلیم کے لیے کوشاں ہیں وہاں بے شمار نیم سرکاری و پرائیویٹ ادارے بھی تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات فراہم کر رہے

توحیدآباد اور اس کے مسائل۔۔۔۔تحریر: ملک محمد شہباز، قصور

توحیدآباد ( المعروف بت ) ضلع قصور کی تحصیل کوٹرادھاکشن کے نواح میں واقع ہے ۔ محل وقوع کے لحاظ سے کوٹرادھاکشن شہر سے مغرب کی جانب تقریبا 10 کلومیٹر جبکہ شاہراہ پاکستان دینا ناتھ سٹاپ ( ملتان روڈ )

قلم کاروں کا عنوان گفتگو۔۔۔۔ تحریر: ملک محمد شہباز ، قصور

۔8 مارچ خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے قلم کاروں کی تحریروں پر مختصر تبصرہ گزشتہ کئی دنوں سے دنیا بھر کے قلم کار خواتین کے عالمی دن 8 مارچ کے حوالے سے تحریں لکھنے میں مصروف عمل ہیں

تحقیق ضروری ہے۔۔۔۔ تحریر: ملک محمد شہباز، قصور

کچھ لوگ سنی سنائی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنا نقصان کر بیٹھتے ہیں یا بہت ہی پیارا دوست ، رشتہ دار کھو بیٹھتے ہیں جس کا زندگی بھر افسوس رہتا ہے مگر وہ تعلق دوبارہ سے اس سطح پر

تنگدستی ہزار ٹینشن ہے۔۔۔۔ تحریر :ملک محمد شہباز، قصور

ارد گرد نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں پھول مرجھا چکے ہیں او ر لاکھوں کلیاں اپنی آب و تاب کھو چکی ہیں۔پریشانیوں نے گھیرا تنگ کیا ہوا ہے اور کروڑوں پھول پتھروں کے درمیان پسنے پر مجبور

صرف پریشانیاں ہی ہمارا مقدر کیوں؟؟؟ ۔۔۔۔ تحریر:ملک محمد شہباز

آج کے دور میں جس طرف بھی نگاہ اٹھائی جائے ہر امیر ،غریب، چھوٹا، بڑا، مرد، عورت، جوان ا ور بزرگ پریشان نظر آتے ہیں۔اگر کسی بوڑھے اور بزرگ کو ٹٹولا جائے تو وہ اپنی اولاد کے حوالے سے پریشان