٭ مجید احمد جائی ٭

خود کشی ۔۔۔:تدارک کیسے ۔۔۔؟۔

مجیداحمد جائی،ملتان زندگی بڑی عزیز شئے ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عظیم نعمت بھی۔زندگی ہمیشہ زندہ نہیں رہتی ۔اس کو ایک نہ ایک ضرور فنا ہونا ہوتا ہے۔زندگی اُن وجودوں میں رہ کر فخر محسوس کرتی

تعلیمی پالیسی اور پاکستان

مجیداحمد جائی،ملتان تعلیم ،یونانی لفظ سے نکلا ہوا ہے جس کے لفظی معنی پڑھانا یا سیکھانا ہے ۔تعلیم سے مراد وہ تمام طریقہ ہائے تعلیم ہیں جن کے ذریعے اقتدار،عقائد،عادات،ہر طرح کا علم ،ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل

واپڈاخسارے میں کیوں نہ ہو۔۔۔؟

تحریر: مجیداحمد جائی یہ الوداع ہوتے دسمبر کی ایک صبح ہے ۔دُھند نے چہار سو اپنی چادر تان رکھی ہے ۔میں سردی کی ہوااور دُھند کی شرارتیں سہتا،ٹھٹھراتی صبح میں واپڈہ کے ضلعی دفتر پہنچا ہوں۔وہاں میری آنکھوں نے جو

ملتان ٹی ہاوس اور کیک

تحریر: مجیداحمد جائی،ملتان ملتان کے باسی مہمان نواز ہیں ۔یہ میں نہیں کہتا بلکہ آنے والے مہمان اور بڑی بڑی ہستیاں کہہ گئیں ہیں۔جب بھی مہمان باہر سے یا اندرون ملک سے یہاں آتے ہیں تو سر زمین اولیائے کے

ہماری عیدیں او ر ہم

تحریر: مجیداحمد جائی ،ملتان اہل مسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے عیدین جیسی نعمتیں عطا کرکے خوشیوں سے دامن بھر دئیے۔عیدین خوشی کی نوید ہوتیں ہیں ۔صرف دو عیدوں کی بات کی جائے تو عید الفطر ماہ رمضان کے بعد

عید ،عیدی اور مزدور۔۔۔۔ مجیداحمدجائی

پاکستان ترقی پذیر ہے لیکن یہاں انصاف ملا ہوتا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ہو چکا ہوتا۔کسی معاشرے ،ملک کو ترقی کرنے لئے انصاف کا ہونا ضروری ہے۔آج اِس ملک میں جدید ٹیکنالوجی تو موجود ہے اور آئٹم بم بھی

میں عید کیسے مناؤں ۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی

عید خوشی کا تہوار ہے ۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے عیدین کا انعام عطا کیا۔جس مسلمان نے دین اسلام کے اُصولوں پہ زندگانی گزاری اُس کے لئے توہر دن عیدا ور ہر رات شب برات ہے لیکن میں عید

زیست کا دشمن،کالا پتھر۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

انسان نے جس رفتار سے ترقی کی ہے ،اُسی رفتار سے خود کو موت کے حوالے کرنے کے نئے نئے طریقے بھی دریافت کر لئے ہیں۔پڑھے لکھے لوگ،عقل و شعوررکھنے والے بھی حالات سے دل برداشتہ ہو کر خود کشی

جدید دور کے وی آئی پی انسان۔۔۔۔ تحریر:مجیداحمد جائی

اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز ہونے والے انسان کو جانے کیا ہو گا ہے کہ نائب کی کُرسی چھوڑ کر صدارت کی عہدے پر فائز ہونا چاہتا ہے۔اِ س کی زبان شکوے و شکایات کرتے نہیں تھکتی۔۔اِسے اوقات سے

خود کش ۔۔اور۔۔خود کشی۔۔۔۔ تحریر: مجیداحمد جائی، ملتان

ابھی کل کی بات ہے ،میں ڈیوٹی کرنے کے بعد گھر کو آرہا تھا،مین سڑک کے کنارے کافی رش تھا،شاید ایکسڈنٹ ہو گیا ہے،یہی سوچ کر میں رُک کر جائزہ لینے لگا،عورتوں ،مردوں کا کثیر ہجوم تھا۔زمین کے فرش پر