٭ ایم پی خان ٭

انشااورمصحفی کاادبی معرکہ

تحریر: محمدپرویزبونیریاردوزبان میں ادبی معرکوں کابہت بڑاذخیرہ موجودہے۔اس امرمیں کوئی شک نہیں کہ ان معرکوں سے فریقین کے فن اورشخصیت کااسفل ترین حصہ معرض وجودمیں آیاہے ، مگریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ وہ ذخیرہ ہے جس کے وسیلے

اردو ادب کا ایک اور چراغ بجھ گیا

تحریر: ایم پی خاں، بونیراردوادب کے چراغ بجھتے جارہے ہیں۔ گذشتہ دوتین سال میں اردوادب کے ایسے قیمتی شخصیات ادبستان اردوکو الوداع کہہ گئے ،جن کی بدولت ہماری ادبی دنیا آبادتھی، ان میں سے ایک فہمیدہ ریاض بھی ہے۔ فہمیدہ

ڈاکٹرعظمیٰ اورپاکستانی نوجوان کی پریم کہانی

تحریر: ایم پی خان پاکستان کا دورافتارہ علاقہ بونیر، جوپہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔سوات ، مردان ، صوابی ، ملاکنڈایجنسی اورشانگلہ کے پہاڑوں کی بیچ میں پڑی یہ وادی کئی لحاظ سے انفرادیت کی حامل ہے۔ چونکہ سردست ہماراموضوع بونیرکی

سپیشل فورس پولیس ،وطن کے بے لوث محافظ

تحریر: ایم پی خان ہمارے سکیورٹی فورسز کاہمارے ملک کے تحفظ میں بہت اہم کرداررہاہے۔پاکستانی فوج، نیوی ، ائرفورس، پولیس، رینجرز،ایف سی اورلیوی فورس وغیرہ نے ہر محاذ پر اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں

لفظ’’ پھٹیچر‘‘کی یوں پذیرائی

تحریر: محمدپرویز بونیریجس طرح نرگس کو اپنی بے نوری پہ ہزاروں سال رونے کے بعدبڑی مشکل سے دیدہ ورنصیب ہوتاہے، بالکل اس طرح لفظ پھٹیچرکو بھی ہزاروں سال گوشہ گمنامی میں پڑا رہنے کے بعدایک ایسا دیدہ ورعمرا ن خان

طوفان بدتمیزی

تحریر: ایم پی خان گذشتہ دنوں اردوادب کے مطالعہ کے دوران اردوکے مشہورناؤل نگاررتن ناتھ سرشارکاناؤل ’’طوفان بدتمیزی‘‘نظرسے گزرا۔اس ناؤل سے متعلق تحقیق کرنے اورمعلومات حاصل کرنے کی خاطرانٹرنیٹ پر گوگل میں تلاش شروع کردی ۔گوگل میں تلاش کے بعدایک

صحافت کاتقد س اوراہل قلم کی بددیانتی

تحریر: ایم پی خان معاشرے کی تعمیروترقی میں صحافت کا کردارایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اردوصحافت نے ہر دورمیں اورہر قسم کے حالات میں اپناکرداراداکیاہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی سے لیکر تحریک پاکستان تک کے پُرآشوب حالات میں اردوصحافت کاکردارقومی تاریخ کاایک

جلیل مانکپوری، اردوشاعری کافصیح السان

تحریر: ایم پی خان اردوادب کی ترویج وترقی میں شاعروں اورادیبوں کے کارنامہ ہائے ہمیشہ یادرکھے جاتے ہیں۔شاعروں اورادیبوں نے نظم اورنثر میں اردوادب کو ایسابیش بہاسرمایہ فراہم کیاہے ، جوہردورمیں تشنگان ادب کی سیرابی کاذریعہ ہے۔اردوادب نے ایک طرف

کبھی بہ حیلہ مذہب ،کبھی بنام وطن

تحریر: ایم پی خان امیرشہرہمیشہ غریبوں کولوٹ لیتاہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہردورمیں یہ طبقاتی اوراستحصالی نظام کسی نہ کسی شکل میں موجودرہتاہے اوراس نظام کے خلاف آوازاٹھانے والے باغی گردانے جاتے ہیں ۔پوری مشینری بغاوت کوکچلنے کے لئے

ناخدائے سخن اورتا ج الشعراء، نوح ناروی

تحریر: ایم پی خان ناخدائے سخن، تاج الشعراء فصیح العصر منشی ومولوی محمدنوح صاحب 18ستمبر 1879کو اترپردیش رائے بریلی میں پیداہوئے۔ابتدائی تعلیم حافظ قدرت علی اورمولوی یوسف علی صاحب سے حاصل کی۔ اسکے بعدکچھ عرصہ عبدالرحمن جائسی اورپھر فارسی اورعربی