٭ محمد ناصر اقبال خان ٭

شوٹر اور پیراشوٹر پولیس

تحریر: محمد ناصر اقبال خان دن بھر رضائی تمہاری دسترس میں ہو گی مگر رات کو میں استعمال کروں گا ،دوچارپائیوں میں سے ایک پرتم سو یاکرنا اور دوسری پرمیں آرام کیاکروں گا ۔ ہمارے پاس واحد گائے آگے سے

محمد اقبال ؒ سے محمد عاکف ؒ تک

تحریر: محمد ناصر اقبال خان ہمارے محبوب اورعزیزترک بھائی اسلام کی خدمت ،ایمان پراستقامت اور دنیا پرراج کرنے کیلئے پیداہوئے ہیں،کئی دہائیوں تک حجازمقدس کی خدمت اورحفاظت کے سلسلہ میں ترک قیادت کی آبرومندانہ اصلاحات اورگرانقدرخدمات سے کوئی انکار نہیں

کانا شہنشاہ

تحریر: محمد ناصر اقبال خان شہنشاہ کے روبرو اسے” کانا”کہنابیشک اپنی موت کودعوت دینا ہے مگر میں یہ ایک بارنہیں بلکہ بار بارکروںگا،ایک بھانڈ نے اپنے ساتھی بھانڈ کے ساتھ انعامی رقم طے کرتے ہوئے جس وقت یہ دعویٰ کیااس

دوہائی اور رہائی

تحریر: محمد ناصر اقبال خاندنیا کے مہذب معاشروں کے سیاستدان تعمیر ریاست کیلئے سیاست کرتے اوراپنے ہم وطنوں کیلئے نجات دہندہ بن جاتے ہیں مگرہمارے ہاں سیاستدانوں کے روپ میں سرمایہ دار طبقہ ریاست کے ساتھ سیاست جبکہ قومی وقاراور

قمر نے کمرتوڑدی

تحریر: محمد ناصر اقبال خان جو خوش نصیب لوگ پاک سرزمین سے عشق کرتے جبکہ نظریہ پاکستان یعنی کلمہ توحید پرپختہ ایمان رکھتے ہیں افواج پاکستان سے والہانہ محبت کا ان کی رگ رگ میں خون بلکہ جنون بن کردوڑنافطری

سفیر پاکستان اور کپتان

تحریر: محمد ناصر اقبال خانباب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمودات مینارہ نور کی مانندہردورکے انسانوں کوتاریک راہوں سے بچا تے ہیں،آپؓ نے اپنے اقوال میں انسانوں کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا ،”دوسروں کے عیب تلاش کرنیوالے کی مثال

بزدارنہیں بردبار

تحریر: محمد ناصر اقبال خانعمران خان کی جہدمسلسل سے ملک میں چہروں کی حد تک تو”تبدیلی” آگئی مگر ”عوام” کو فرسودہ ”نظام” سے نجات ملناابھی باقی ہے۔پی ٹی آئی کے لوگ نیاپاکستان بنانے کادعویٰ تو کررہے ہیں مگر ریاستی نظام

سانحات پرسیاست

تحریر: محمد ناصر اقبال خانقیام پاکستان سے اب تک پاکستانیوں نے مختلف دلخراش سانحات،اندوہناک حادثات اورتلخ تجربات کاسامنا کیا،سانحہ ساہیوال بھی ان میں سے ایک ہے۔ سات دہائیوں میں متعدد قومی سانحات سیاست کی نذرہو گئے کیونکہ ہمارے سیاستدان اپنے

بنام منصف اعلیٰ

تحریر: محمد ناصر اقبال خان انسان فضاؤں اورخلاؤں میں، شاہراہوں پریاچاردیواری کے اندر جہاں بھی ہٹ دھرمی ،ڈھٹائی، بے اختیاطی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرے گاوہاں اس کے ساتھ حادثہ ہونااٹل ہے۔حادثات اور آفات کو انسان کی قسمت سے

چوراورشور

تحریر: محمد ناصر اقبال خانکائنات میں محاسبہ یا احتساب کی ابتداء عزازیل سے ہوئی جوسزاکے طورپرابلیس یعنی شیطان قرارپایا جبکہ شجرممنوعہ کے پاس نہ جانے کے حکم الٰہی کی پاسداری نہ کرنے پرحضرت آدم علیہ السلام کوجنت سے نکال کرزمین