٭ ایم ایم علی ٭

ملک میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات

تحریر۔۔ ایم ایم علی ہمارے ملک میں دن بدن ٹریفک حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ،ان حادثات سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے ۔ایک لمحہ فکریہ بھی ہے کہ ملک کی بڑی اور

وردی نہیں رویے بدلیں

تحریر : ایم ایم علیپولیس نا صرف جرائم کی روک تھا م کرنے بلکہ ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی بھی ذمہ دار ہے اس کے علاوہ سرکا ری املاک کی حفاظت بھی پولیس کے زمرہ میں آتی

شریعت اور آئین

تحریر: ایم ایم علینبوت کے تیرھویں سال16ربیع الا ول جمعتہ المبارک کی صبح نبی کریمؐ یثرب میں داخل ہوئے جو مکہ سے گیارہ دن کے فاصلے پر واقع تھا۔نبی کریمؐ کی آمد کے بعد یثرب کو مدینتہ النبی کا نام

پتھر کون پھینکے گا

تحریر: ایم ایم علی سردیوں کی ایک یخ بستہ رات میں دہلیز فکر پہ بیٹھا کب سے سوچ رہاہوں کہ انسان کا وجود احساس سے عبارت ہے۔احساس ہی رشتوں کا حسن اور انسانیت کی معراج ہے اور اگر یہی احساس

بات شک سے یقین میں بدل رہی ہے

تحریر:ایم ایم علی جو بات آپ کے دل و دماغ میں ہو اور اُس کو سچ ثابت کرنے کے لیے آپ بے جا تکرار کا سہارا لے لیں تو سننے والوں کو شک کا گمان گزرتا ہے جیسے لبنانی دانشور

سرکاری وسائل کا بے تحاشا اور ناجائز استعمال

تحریر:ایم ایم علی جہاں ہمارے ملک میں ترقی نہ ہونے کی دیگر بہت سی وجوہات ہیں وہاں پر سب سے بڑی ایک وجہ غیر ترقیاتی اخراجات کا بے تحاشا اور نا جائز استعمال ہے جس پر قابو پانے کے لیے

گِرد آلود دھند مضر صحت ہے احتیاطی تدابیر اپنائیں

تحریر:ایم ایم علی لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہروں کو گزشتہ دو روز سے گرد آلود دھند نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس گرد آلود دھند کے بارے میں مختلف قیاس آرئیاں کی جارہی ہیں سوشل میڈیا پر

دونومبرکچھ نہیں ہو گا یا بہت کچھ ہو گا

تحریر:ایم ایم علی ملک میں دن بدن سردی بڑھتی جا رہی ہے جبکہ سیاسی میدان دن بدن گرم ہوتا جارہا ہے ۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں الفاظ کی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے ایک دوسرے

ملک ایسے ترقی کرتے ہیں

تحریر:ایم ایم علی پاکستان ایک ایسا تحفہ خداوندی ہے جو کہ ہر قسم کے قدرتی وسائل سے مالامال ہے ہم اس تحفے کی شایان شان اللہ کا شکرادا کرنے سے قاصر رہے ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہونے کے ساتھ

خدمت انسانیت کے جذبے سے سر شار لوگ

تحریر ۔ایم ایم علی بنی نوع انسان میں جو بات ایک انسان کو امتیازی حیثیت دیتی ہے وہ اس کا فہم شعور اور عقل ہے جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کیلئے کیا جذبات