٭ ابنِ ریاض ٭

نہ بھولی جانے والی داستان

تحریر:ابن ِ ریاض کراچی میں 1938 ء میں نثار مراد کے گھر وحید مراد پیدا ہوئے۔ انکے والد فلمی صنعت کے نامورڈسٹری بیوٹرتھے ۔وحید مراد اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اورمنہ میں سونے کا چمچہ لےکر پیدا ہوئے۔ تاہم

مودی کے سر کی قیمت پچیس کروڑ

تحریر: ابن ریاض ایک معروف اخبار میں یہ خبر نظر سے گزری ہے کہ جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ  کراچی کے ایک تاجر اور  ڈیرہ غازی خان اور بہاول پور کے  دو لیگی رہنمائوں نے طریندر مودی

عینک ہے بڑی چیز۔۔۔۔ تحریر: ابنِ ریاض

عینک بھی اس دور کی عجیب ایجاد ہے۔ایک فریم اور دو عدسوں پر مشتمل یہ آلہ اب تو ہر دوسرے آدمی نے لگا رکھا ہے بلکہ خواتین بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں۔ ان کا تناسب بھی کم و بیش

ہم ڈرتے ورتے کسی سے نہیں۔۔۔۔ تحریر: ابنِ ریاض

ہمارے ملک کے ایک سابق حکمران کا یہ جملہ کافی مشہور ہوا۔ وہ اپنے دور کے بعد بیرون ملک جلا وطنی کے دن گزار رہے تھے۔ کسی صحافی نی ان سے پوچھا کہ  واپس پاکستان کب آئیں گے؟ کہنے لگے

مصباح الحق اور ایک سیاسی قائد۔۔۔۔ تحریر: ابنِ ریاض

ہماری نظر سے ایک خبر گزری جس کا حوالہ ایک معتبر اخبار ہے کہ لاہور میں مصباح نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی ون ڈے ریٹائرمنٹ واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں

ہم بھی مِیرا سے کم نہیں۔۔۔۔ تحریر: ابنِ ریاض

میرا کو کون نہیں جانتا۔ ہمارے خیال میں تو سب ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ ان کی خوبیوں کا کیا کہنا؟ ہمہ جہت شخصیت ہیں۔۔ جتنا انھیں ادب سے رغبت ہے اتنی ہی ہمیں اداکاری سے ہے۔ وہ شاعری کرتی

کچھ کرکٹ سے متعلق۔۔۔۔ ابنِ ریاض

کرکٹ کا جادو ان دنوں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ عالمی کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری ہے اور ہماری قومی ٹیم کوارٹر فائنل میں میزبان آسٹریلیا سے مد مقابل ہے۔ ہمیں امید

ہمارے ناول اور جہاد بالقلم۔۔۔۔ ابنِ ریاض

فیس بک پر ویسے تو کام کی پوسٹ ڈھونڈنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں مگر کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اندھے کے ہاتھ میں بٹیر آ جاتا ہے اور وہ خود کو شکاری سمجھنے لگتا ہے۔ کچھ

کچھ جماعتیں، کچھ قائدین۔۔۔۔ تحریر: ابنِ ریاض

قارئین کرام آپ کو پاکستان کی چند اہم سیاسی جماعتوں سے متعارف کرواتے ہیں۔ یہ تعارف تو ہم نے بیرون ملک مقیم ان دوستوں کے لئے لکھا ہے جو پاکستان کے حالات کے متعلق متجسس ہیں اور ہماری سیاسی صورتحال

ناموں کے بھی حقوق ہیں۔۔۔۔ ابنِ ریاض

معلوم ہوا ہے کہ ایک ڈرامہ نویس کو کسی مصنفہ نے اس لئے ڈانٹ دیا کہ ان ڈرامہ نویس نے ڈرامے کا جو نام رکھا، اس نام کا ان کا ناول ہے۔ ڈرامہ نویس خاتون نے لاکھ کہا کہ مجھے