٭ ڈاکٹر ایم ایچ بابر ٭

جانے کس منزل پہ ٹھہرے بے بسی کا سلسلہ

تحریر:ڈاکٹر ایم ایچ بابر عوامی نمائندوں اور اور قومی خدام کے ہاتھوں آئے روز بڑھتی ہوئی درگت دیکھ دیکھ کے دماغ سوچنے پر مجبور ہوا اور دل نے اس کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے آج ایک مرتبہ پھر ہاتھوں کو تحریک

برائے دشمن جاں بھی یہ خیراندیش رہتا ہے

تحریر:ڈاکٹر ایم ایچ بابررشید احمد نعیم مرکزی صدر آئی سی سی پاکستان (انویسٹی گیٹیو کونسل آف کالمسٹ پاکستان ) اور پیارے بھائی آفاق احمد خان ( بانی رائٹرز ویلفیئر فاؤنڈیشن اینڈ ہیومین رائٹس پاکستان) کی خصوصی دعوت پر بندہ کو

تذلیل نسواں کا میگا پراجیکٹ

تحریر: ڈاکٹر ایم ایچ بابر عورت کو جتنی عزت و تکریم سے اسلام نے سرفراز کیا ہے ادیان عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی مگر آج ایک منظر دیکھ کر دل خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا اور کافی

کہتا ہے دل کہ اسکو بھی محشر پہ ٹال دے

تحریر : ڈاکٹر ایم ایچ بابر گذشتہ روز اخبار میں ایک معروف سیاستدان کا بیان پڑھ کر میں سوچ کے گہرے عمیق سمندر میں ڈوبتا چلا گیا کہ آخر ہم پاکستانیوں سے کون سی ایسی خطا سرزد ہوگئی ہے جسکی سزا

انکو فرصت نہیں شاہوں کی قصیدہ خوانی سے

تحریر: ڈاکٹر ایم ایچ بابر ملک ترقی کر رہا ہے اور مخالفین کو یہ ترقی ہضم نہیں ہو رہی ،شیر اب کچھار سے باہر نکل آیا ہے گیدڑوں کو اب چھپنے کی جگہ بھی نہیں ملے گی ، کچھ اسی طرح

اک خطاعرش سے فرش پر پٹخ دیتی ہے

تحریر: ڈاکٹر ایم ایچ بابر مائیں ،بہنیں اور بیٹیاں کسی بد ترین دشمن کی بھی ہوں قابل عزت و تکریم ہوتی ہیں اور جو ان رشتوں کی تکریم نہ کرے ازروئے اسلام وہ لائق تعزیر ہوتا ہے ۔مگر ہمارے ہاں اس

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

تحریر : ڈاکٹر ایم ایچ بابر یہ بات بلکہ فرمان بچپن سے پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں کہ مزدور کو مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو مگر ہمارے ہاں اس کے بالکل برعکس کیا جا رہا ہے

بھاگ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا

تحریر ؛ڈاکٹر ایم ایچ بابر مسلسل ایک ہفتے سے پاک دھرتی ماں کا مقدس وجود دھماکوں سے لرز رہا ہے لشکر یزید کے شمر صفت حواری میری دھرتی ماں کو اسی کی معصوم اولاد کے خون سے غسل دینے میں مصروف

سر پہ تاج آزادی بیڑیاں ہیں پاؤں میں

تحریر : ڈاکٹر ایم ایچ بابر مملکت پاکستان کا سب سے اعلی اور مقدس ایوان جسے قومی اسمبلی کے نام سے جانا جاتا ہے کل یہ اسمبلی سکول کی اسمبلی بھی نہیں لگ رہی تھی حالانکہ اس اسمبلی میں چھوٹے

لنڈے کا کوٹ مرمت کے بعد پھر نیا

تحریر: ڈاکٹر ایم ایچ بابر اکثر ایک سوال کیا جاتا ہے کہ نیا ادب آج کل انحطاط پذیر کیوں ہے؟ نئے افکار ،نئی سوچ اور نئے تخیلات کے حامل لکھاری آخر آگے کیوں نہیں آرہے ؟؟؟ان کی راہ میں آخر