٭ ڈاکٹر فوزیہ عفت ٭

جہاز تماشہ

تحریر: فوزیہ عفت بھٹیہم افواہوں اور حقیقت کے زد میں آئی ہوئی اور یقینی اور بے یقینی کے درمیان کھڑی قوم ہیں ۔اور ہمیں اس صورتحال میں مبتلا کرنے میں میڈیا کا بڑا ہاتھ ہے ۔جو پر سے کوا اور

مکافات عمل

ڈاکٹر فوزیہ عفت بھٹی، لیہ زینب اٹھ جا بچی نماز کا وقت ہو گیا ۔مولوی عبدالکریم اپنی ٹوپی سنبھالتے مسجد جاتے جاتے اسے جگاتے گئے۔آں اچھا ابو وہ اوں آں کرکے پھر سو گئی۔جب وہ واپس لوٹے تو اسے پھر سے

ایک بار پھر شہر قصور نوحہ خواں

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت زینیبُ ایک اور معصوم کلی پھر سے ایک وحشی درندے کی سفاکی کی نذر ہو گئی ۔قصور کی ایک اور بیٹی موت کی آغوش میں جا سوئی۔ہمارے معاشرے کی ایک سفاک حقیقت کہ ہم انسانوں سے

اب کسے نا خدا کرے کوئی۔

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت پاکستان کی کشتی ایک بار پھر بھنوروں کی ذد میں ہے اس ڈولتی کشتی کے پتوار کسی مستحکم ہاتھوں میں نہیں رہے حسب ضرورت ہر کوئی آکر اسے تھامتا رہا اور خزانہ لوٹ کر چلتا بنا

چیدہ چیدہ

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت بچپن میں ایک کہانی پڑھا کرتے تھے جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔اس ایک اخلاقی سبق سے متصل کئی کہانیاں تھیں جن کا ایک ہی مورل تھا ۔تب شاید یہ بات سمجھ میں بھی نہیں آتی تھی

سیاست اور جنگ میں سب جائز ہے۔

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفتگرمی کے آتے ہی پاکستان کا موسم بھی گرم ہو گیا ۔کچھ اور طرح کی ہوائیں گردش عمل میں آگئیں پانامہ لیکس کا فیصلہ سن کرکہیں خوشی تو کہیں غم۔ کرسی والوں کی طمانیت اور اپوزیشن کا

زندان

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے ماچس کی تیلی جلا کر سگریٹ سلگائی اور بے چینی سے کش لیا گاڑھے دھوئیں کو پھیپھڑوں میں اُتار کر اسکی بے چینی اور کپکپاہٹ کو گویا قرار آگیا۔چند کش لینےکے

مرد آہن

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت قوم کا جرات مند بیٹا ایک بہادر اور وطن پرست سپاہی جن سے قوم کی ہمیشہ سے بہت سی امیدیں وابستہ رہی ہیں ۔اپنی مدت ملازمت پوری کر کے اپنے عہدہ سے۔سبکدوش ہو گئے۔پاکستان کی تاریخ

زندگی آسان ہے

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت زندگی اللہ کی ایک نعمت ہے اور اس کی قدر تب ہوتی جب یہ چھن جائے۔ہم اپنے شب و روز  عجیب نفسا نفسی کی دوڑ میں گزارتے ہیں ۔دوسروں کو اگنور کرتے ہیں اپنی میں کو

عمران خان کا انداز سیاست اور عام آدمی کا انقلاب

تحریر: ڈاکٹر عفت بھٹی تم ہی کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ سیاسی شطرنج پہ بچھی بساط پہ برسوں سے وہی قدیم مہرے چالیں چلتے آئے۔پی پی پی۔مسلم لیگ۔۔پھر جماعت اسلامی۔کچھ بات آگے بڑھی توایم کیو ایم ایک محدود علاقے