٭ ڈاکٹر فوزیہ عفت ٭

مرد آہن

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت قوم کا جرات مند بیٹا ایک بہادر اور وطن پرست سپاہی جن سے قوم کی ہمیشہ سے بہت سی امیدیں وابستہ رہی ہیں ۔اپنی مدت ملازمت پوری کر کے اپنے عہدہ سے۔سبکدوش ہو گئے۔پاکستان کی تاریخ

زندگی آسان ہے

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت زندگی اللہ کی ایک نعمت ہے اور اس کی قدر تب ہوتی جب یہ چھن جائے۔ہم اپنے شب و روز  عجیب نفسا نفسی کی دوڑ میں گزارتے ہیں ۔دوسروں کو اگنور کرتے ہیں اپنی میں کو

عمران خان کا انداز سیاست اور عام آدمی کا انقلاب

تحریر: ڈاکٹر عفت بھٹی تم ہی کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ سیاسی شطرنج پہ بچھی بساط پہ برسوں سے وہی قدیم مہرے چالیں چلتے آئے۔پی پی پی۔مسلم لیگ۔۔پھر جماعت اسلامی۔کچھ بات آگے بڑھی توایم کیو ایم ایک محدود علاقے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت تھا بس کہ روز قتل شہ آسماں جناب نکلا تھا خون ملے چہرے پہ آفتاب تھی نہرِ علقمہ بھی خجالت سے آب آب روتا تھا پھوٹ پھوٹ کر دریا میں حباب پیاسی تھی جو سپاہ خدا

سلام یا حسینؑ

تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت ماہ محرم ہماری تاریخ کا ایسا ناقابل فراموش باب جوقیامت تک بند نہیں ہوگا  .حق و باطل کی ایسی جنگ کی داستان جو روز ازل سے جاری ہے اس کا ایسا معرکہ جس نے بہادری اور

بھارتی جنگی جنون

بھارتی جنگی جنون کیا گل کھلائے گا ؟ ہم محض اندازہ ہی لگا سکتے ۔سرحدوں پہ بلا اشتعال فائرنگ اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی ویسے بھی ہندوستان کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ہماری نسل جنگ کے اثرات سے بے

تعلیم اور اخلاقیات۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر فوزیہ عفت

قارئین ۔ بظاہر آجکل کے بچوں کے بھاری بھرکم بستے اچھی تعلیم کے غماز دکھائی دیتے۔ تعلیم کے معیار دو باتوں میں تولا جاتا ۔انگریزی بھاری بھرکم سلیبس اور بھاری فیسیں ۔اگر آپ کے اسکول میں یہ دونوں چیزیں ھیں

جمہوریت کے اسباق۔۔۔۔ تحریر:ڈاکٹر فوزیہ عفت

کسی نے ایک دانا آدمی سے پوچھا جمہوریت کسے کہتے ہیں ؟دانا نے برملا کہا آزادی کو ۔سوال آیا آزادی کیا ہے؟ دانا نے آسمان پہ اڑتے پرندوں کی طرف اشارہ کیا وہ دیکھ رہے ہو وہ آزاد ہیں ان

الوداع سائیں۔۔۔۔ تحریر: عفت بھٹی

وزیر اعلی قائم علی شاہ کی کرسی صدارت اب مراد علی شاہ کو تفویض کییجانے والی ہے ۔وزیر خزانہ مراد علی شاہ سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا پارٹی قیادت جو فیصلہ کرے گی انہیں منظور ہو گا

ایک اور قدم۔۔۔۔ تحریر: عفت بھٹی

بالاآخر کشمیر کے انتخابات بھی ہو گئے ءاور نتائج نے ثابت کر دیا کہ کشمیریوں میں حبِ حکومت حد درجہ ہے -پی پی پی اور پی ٹی آئی -کی شکست نے حکومت کی برتری کا ایک واضح پوائنٹ منظر ِِ