٭ چوہدری غلام غوث ٭

خود انحصاری ، بجٹ اور خود داری

تحریر: چوہدری غلام غوث ماں جی انتہائی افسردہ اور پریشان تھیں میں متواتر اُن کے چہرے پر نظریں جمائے دیکھ رہا تھا اُن کے دل میں چھپاکرب بے قابو ہو کر چہرے کے ذریعے سے باہر آنا چاہتا تھا کہ

خوشحالی، غربت اور بجٹ

تحریر:چوہدری غلام غوث خوشحالی، غربت اور معاشیات ایک ایسی تکون ہے جس سے دُنیا کے کسی بھی معاشرے میں توازن اور عدم توازن قائم کیا جا سکتا ہے یہ ایک قدرتی امر ہے جو معاشروں کی بقا کا ضامن ہے

فیصلہ ضمیر کا

تحریر: چوہدری غلام غوثایک سردار جی کپ میں چمچ ہلاتے ہوئے چائے کی چُسکی لیتے ،بُرا سا منہ بنائے کپ نیچے رکھ کر چمچ ہلانے لگتے جب سردار جی یہ عمل پانچ سات بار دہرا چکے تو چمچ ٹرے میں

وردی بدلی ۔ کچھ تو بدلا

تحریر:چوہدی غلام غوثمرحوم بابا جی اشفاق احمد اس ملک کے حقیقی دانشور تھے، بابا جی معاشرے کے نبض شناس ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے علاج کی حکمتوں سے بھی آشنا تھے۔ ادب کی دُنیا کے اس بڑے بزرگ نے

دانشور دُلّا اور پانامہ لیکس کا متوقع فیصلہ

تحریر: چوہدری غلام غوثنام عبداللہ ہے مگر میں اُسے پیار سے دانشور دُلّا کہتا ہوں لوئر مڈل پاس ہونے کے ساتھ سا تھ وہ نیم خواندہ دانشوروں کا امام ہے۔تین چار قومی روزناموں کے اداریوں اور کالموں کا مستقل قاری

غم کی بولتی تصویر

تحریر:چوہدری غلام غوث میں چونکہ صحافت کا باقاعدہ طالب علم رہا ہوں تو زمانہ طالب علمی میں نصاب کی ایک کتاب میں تصویر کے بارے میں چینی کہاوت پڑھی تھی جو کہ صحافت کے تمام طالب علموں کی طرح میرے

امن کی بنیاد رکھ دیں

تحریر: چوہدری غلام غوث انسان ہمیشہ اپنی بقا امن اوربھائی چارے میں تلاش کرتا آیا ہے یہ انسانی جبلت کا تقاضہ ہے کہ وہ امن اور بھائی چارے میں خود کو زیادہ کمفرٹیبل محسوس کرتا ہے اور اپنی بقا کو

صرف شرم وحیا

تحریر:چوہدری غلام غوث شرم اور حیا انسان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی اس کے عناصر اربعہ میں رکھ دی گئی اور یہ خوبی ہی اصل فطرت کا حُسن ہے حیا وہ خوبی ہے جو انسان کو گناہ

ماہ نور بنام کینسر زدہ نظام

تحریر:چوہدری غلام غوث دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے تین اشیاء انتہائی ضروری ہوتی ہیں ۔ مناسب آمدنی ، عزت اور سماجی رتبہ مگر بدقسمتی سے ہمارے ادنیٰ سرکاری ملازمین کے پاس یہ تینوں چیزیں ناپید ہیں ۔ محمود بٹ

قوتِ برداشت کی کمی

تحریر: چوہدری غلام غوث بابا جی پڑھے لکھے دانشور اور تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے جہاندیدہ شخص تھے بابا جی نے اپنے نوجوان پوتے کو بلایا پیار سے اپنے پاس بٹھا لیا اور کہنے لگے تجھے پتہ ہے کہ