٭ عقیل خان ٭

ریلوے کاسفر، شیخ صاحب کی نظر

تحریر :عقیل خاننئی حکومت کے آنے اور شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے اب تک 100دنوں میں ریلوے کے متعلق روز کچھ نہ کچھ سننے کو مل رہا ہے۔ شیخ صاحب نے کئی نئی ٹرینیں ٹریک پر

سنہرے خوابوں پیٹ نہیں بھرتا

تحریر : عقیل خانتحریک انصاف کو اقتدارسنبھالے تقریباً دوماہ ہوگئے ہیں ان دو ماہ میں حکومت گرتی ہوئی ملکی معشیت کو سنبھالنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔ معشیت کو سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر

جنرل اسمبلی میں پاکستان کا دوٹوک موقف

تحریر :عقیل خاننیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کا 73 واں اجلاس ہوا جس میں پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے قائدین شریک ہوئے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے

قاتل آقا اورمقتول غلام

تحریر عقیل خان ہفتہ کی شام وفاقی دارالحکومت میں چڑیا گھر کے قریب مارگلہ روڈ پر امریکی سفارتخانے کی ایک گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل پر سوار ایک نوجوان ہلاک جب کہ دوسرا زخمی ہو گیا تھا۔پولیس کے مطابق یہ

میاں رزاق کارزق اٹھ گیا

تحریر:عقیل خان صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جس میں صحافی کا کام دنیا میں ہونے والے کاموں کو مختلف ذرائع (اخبار، ٹی وی ، ریڈیو، آن لائن اخبار) کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ صحافی برادری اپنے فرائض اگر دیانتی

تعلیم کے میدان میں ایک قدم اور

تحریر عقیل خانتعلیم ہی انسان کی پہچان ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسے کوئی شعور نہیں ہوتاوہ ماں کی گود میں آنکھیں کھولتا ہے تو اس کا کل سرمایہ اس کی ماں

پاکستان کی جیت

تحریر :عقیل خانپاکستانی قوم مضبوط اور توانا قوم ہیں۔ عرصہ دراز سے یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے۔ اس جنگ میں جہاں ہم نے اپنوں کی جانیں قربان کیں وہاں پرہی ہم مالی نقصان بھی اٹھایا مگر شکست

لاہورایک بار پھرلہولہو

تحریر:عقیل خانپاکستان پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔ اس جنگ میں ہم نے اپنوں کا بہت خون بہایا ہے۔ وقت اپنے رنگ بدلتا رہا مگر ہم دہشت گردوں کو ہرا نہیں سکے۔ کئی

کشمیر آزادی کے دہانے پر

تحریر:عقیل خان کشمیر پاکستان کاحصہ تھا اور حصہ ہے مگر ہندوستان کی شاطرانہ چال اور انگریزوں کی ساز باز نے آج تک کشمیر کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔کشمیر کی غلامی کی حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے

آہا! بس ایک خط

تحریر:عقیل خان پچھلے چند دنوں سے میں اپنی ذاتی مصروفیات( نئی بلڈنگ تعمیر کرارہا تھا) جس کی وجہ سے کالم لکھنے کا ٹائم نہیں مل رہا تھا۔ اس دوران چند دوستوں نے فون کیا اور نیا کالم نہ آنے کی