٭ افضال احمد ٭

والدین کی نا انصافی نے ایک اور جان لے لی

تحریر: افضال احمدوالدین کے حقوق کیلئے تو بہت سے مضامین منظر عام پر لا چکاہوں‘ جیسے والدین کے بے شمار حقوق ہیں ایسے ہی اولاد کے بھی کچھ حقوق ہیں‘ آج اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق پر لکھنے کی

ماں عورت ہے تو کیا بیوی عورت نہیں

تحریر: افضال احمدبلا شبہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے، اب ماں تو ہر انسان کی ہوتی ہے ظاہر ہے ہر انسان کو کسی نا کسی عورت نے ہی جنم دیا ہے اور جنم دینے والی عورت ہی ماں

رات سونے سے پہلے ذرا سوچو

تحریر: افضال احمدانسان کی زندگی میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں کہ جب انسان خود اپنی عدالت قائم کرے‘ خود ہی ملزم ہو‘ اپنے ہی خلاف مقدمہ دائر کرے‘ خود ہی اس کے مختلف پہلوؤں پر صفائی پیش کرے‘

لکھاری خدمت کارڈ

تحریر: افضال احمدآرٹسٹ ہمارے معاشرے کا بہترین طبقہ ہیں جو ثقافت کو پروموٹ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا ’’آرٹسٹ خدمت کارڈ‘‘ جاری کرنا یقیناًایک عظیم کارنامہ ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف دن

حسد کا موثر ترین علاج

تحریر: افضال احمدحسد کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو دیکھا کہ اس کو کوئی نعمت ملی ہوئی ہے۔ اس نعمت کو دیکھ کر اس کے دل میں جلن اور کڑھن پیدا ہوئی کہ اس کو یہ

ہمیں رسم و رواج نے جکڑ لیا ہے

تحریر: افضال احمد رسم صرف اس بات کو نہیں کہتے جو نکاح اور تقریبات میں کی جاتی ہیں بلکہ ہر غیر لازم چیز کو لازم کر لینے کا نام رسم ہے خواہ تقریبات میں ہو یا روز مرہ کے معمولات

اولاد کے ’’لہو‘‘ میں حرام کمائی کا زہر مت گھولو !

تحریر: افضال احمد اولاد اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی خواہش ہر شادی شدہ جوڑے کو ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کسے اولاد سے نوازنا ہے اور کسے اولاد سے نہیں نوازنا۔ اللہ

شادیوں میں برکت کیسے آئے گی؟

تحریر: افضال احمد جس برق رفتاری سے ہمارے ملک میں طلاقیں ہو رہی ہیں لگتا ہے اگلے چند برسوں میں چند ایک جوڑے ہی شادی شدہ رہ جائے گے جنہیں لوگ رشک کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور گھر گھر

اس سال تو خود کو بد لو

تحریر: افضال احمد سمجھ نہیں آتی کہ آپ سب کو ایک اور سال زندگی میں کم ہو جانے پر مبارکباد پیش کروں یا قبر کے مزید قریب ہو جانے پر آپ کے ساتھ اظہار افسوس کروں۔ چلیں جی اللہ نے

سماج میں پیسے کا رواج

تحریر: افضال احمد جس برق رفتاری سے سماج ترقی کی طرف گامزن ہے بالکل اسی طرح ہم برق رفتاری سے موت کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں لیکن بات صرف سمجھنے کی ہے جو ہم نہیں سمجھ رہے‘ دنیا میں