٭ کالمز و آرٹیکلز ٭

گلگت بن گیا سائبیریا

ارے آپ لوگ حیران ہوگئے گلگت کو تو سارگن گلیت کہتے ہیں یہ ایک دم سے گلگت سائبیریا کیسے بن گیا۔آپ کو کس نے کہا کہ گلگت کا نام سارگن گلیت تھا نہیں بابا ہاتون ضلع غذر سے دریافت سنگی

“اے” اور “بی” گریڈ

کہانی بنتی ہے یا کہانیاں بنائی جاتی ہیں لیکن میں آج جو کہانی آپ کو سنا رہا ہوں وہ ایسی کہانی ہے جو میری چشم دید ہے ۔ہوا یہ کہ اتوار کے دن کسی بزرگ اور جاننے والے کی موت

یا لہ بُوئیل(زلزلہ

یا لہ بُوئل (زلزلہ) کی آواز سنتے ہی سب باہر کی طرف دوڑنے لگے۔کسی کو اتنا ہوش بھی نہیں کہ بچے سوئے ہوئے ہیں ان کا کیا بنے گا ۔گھر کے افراد ایک دوسرے کو آوازیں دے رہے ہیں باہر

گوپس قلعہ میں فرانس کی شام

آپ میں سے بہت ساروں نے قلعہ گوپس ضرور دیکھا ہوگا۔۔ مجھے اس قلعہ کی یاد اس لئے آئی کہ پچھلے چند ہفتوں میں اس قلعہ اور اس کی مخدوش صورت حال کے بارے کچھ خبریں پڑھنے کو ملی اور

انٹرن شپ کرنے والے طلباء کے مسائل

تحریر: محمد نورالہدیٰ وہ ساہیوال سے لاہور صرف انٹرن شپ کیلئے آئی تھی ۔ اسے یونیورسٹی کی طرف سے ہمارے ادارے میں ریفر کیا گیا تھا ۔ بہت پریشان تھی ۔ لاہور میں چند رشتہ داروں کے علاوہ اس کے

مایوسی ہی کیوں

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی وہ میرے سامنے رونی صورت بنائے پچھلے ایک گھنٹے سے بیٹھا تھا اور مایوسی رونے پیٹنے کی باتیں کیے جا رہا تھا ۔ میں بار بار اس کو حوصلہ اور ہمت دینے کی کوشش کر رہا

جہاد فی سبیل اللہ

تحریر: میر افسرامان جہاد اسلام میں ایک مذہبی فریضہ ہے۔ بلکہ اسلام کی ساری عبادات مسلمانوں کو اس عظیم کام کے لیے تیار کرتیں ہیں جس کا نام جہاد ہے۔ صرف کلمہ پڑھ کر، نماز ادا کر کے، زکوٰة دے

جھنگ یونیورسٹی کے فوری قیام کے لئے چناب کالج جھنگ کو اپ گریڈ کرکے اس میں ضم کر دیا جائے

تحریر: ابو فیصل حاجی منظور انور آزادی وطن کے ابتدائی سالوں 1952ءمیں صوبہ پنجاب کے قدیم ترین ضلع جھنگ میں تعینات رہنے والے ڈپٹی کمشنر قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں صفحہ نمبر 536 پر ڈپٹی کمشنر کی ڈائری

کرکٹ کی فضا، سیاست کی وبا

اسماء طارق، گجرات جیسا کہ ورلڈ کپ کا دور دورہ ہے اور ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے ہر ملک کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ ورلڈ کپ ہمارے ملک میں آئے ۔ جہاں پہلے تو ہماری ٹیم نے ماشاءاللہ سے

تعلیمی دہشتگردی

تحریر: انشال راؤستر سال گزرنے کے باوجود ہم ایک قوم نہیں بن پائے، لوگوں میں احساس محرومی کی بدولت صوبائیت اور لسانیت کا عنصر بجائے گھٹنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے ایک فتنے سے جان چھوٹتی ہے تو دشمن دوسرے