میں حسینؓ ہوں۔۔۔؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: عائشہ احمد،فیصل آباد


دس محرم الحرام کو حضرت امام حسینؓ اور ان کے خاندان کی شہادت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ آپؓ نے اپنے نانا حضرت محمد ﷺکے دین کی سر بلندی کے لیے جان کا نذرانہ دے کر اسلام کو رہتی دنیا تک کے لیے زندہ جاوید کر دیا ،اور یہ بات ثابت کر دی کہ ظالم اور جابر حکمران کے سامنے جھکنے کی بجائے کلمہ حق کہتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دینا اﷲ پاک کے نزدیک پسندیدہ فیل ہے۔آج اگر پوری دنیا میں اسلام زندہ و جاوید ہے تو امام حسینؓ کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔اور آج تقریبا پندہ سال گزرنے کے باوجود بھی امام حسینؓ کے نام لینے والوں کی کمی نہیں ہے بلکہ ان میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔اقبال نے کہا تھا۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

بلاشبہ امام حسینؓ کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے جس کا ذکر رہتی دنیا تک رہے گا۔لیکن کیاہم آپؓ کی عظیم شہادت کا حق ادا کر پائے ہیں۔۔؟
اس کے بعد کتنے کربلا گزر چکے ہیں لیکن کیا ہم جاگے ہیں۔؟کیا مسلمان جاگے ہیں۔ کیا امام حسینؓ نے جو قربانی دی اس کا ہم حق اداکر رہے ہیں۔؟ یقیناًاس کا جواب نفی میں ہوگا۔امام حسینؓ نے اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان راہ خداوندی میں دے دی۔لیکن ہم مسلمان امام حسینؓ کی تعلیمات پہ عمل کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔پوری دنیا میں تریپن اسلامی ممالک ہیں۔اور سوا ارب کے قریب مسلمان ہیں۔اور دنیا کا دوسرا بڑا مذہب اسلام ہے۔اگر ہم آج دین کی تعلیمات پہ پوری طرح عمل کرتے ہوتے تو دنیا کا سب سے بڑا مذہب اسلام ہوتا نہ کہ عیسائیت۔اس کی بڑی وجہ ہماری اسلام سے دوری ہے۔قران پاک ہم پڑھتے ہیں لیکن اسے سمجھتے نہیں ہیں۔ہم مسلمانوں کی زندگی کا مقصد کھانا پینا،فیشن کرنا اور آرام کرنا ہے۔بظاہر لگ رہا ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔آج بھی پوری دنیا میں غیر مسلم چھائے ہوئے ہیں،تعلیمی میدان سے لے کرٹیکنالوجی تک مسلمان ہی چھائے ہوئے ہیں،اور ہم ابھی تک اس بات میں پھنسے ہوئے ہیں حضرت امام حسین کو شہید یزید نے کیا تھا کہ نہیں؟،نماز کس طرح پڑھنی چاہے۔؟حالانکہ کہ قرآن پاک میں واضح طور پہ تمام احکامات کا حکم دیاگیا ہے جن کی پابندی کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے۔دنیا کی کونسی ایسا برائی ہے جو ہم مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔شراب نوشی،کلب،جوا خانے،قبحہ خانے،ہیرا منڈی۔جسم فروشی کے اڈے،حرام کھانا،زنا کرنا،یہ تمام کام پاکستان سمیت پوری دنیا کے مسلمان ممالک میں کیے جاتے ہیں۔کیا یہ اسلام کی تعلیمات ہیں،کیا ایسا باتوں کا حکم (نعوز باﷲ) ہمارے نبی پاک ﷺ نے دیا ہے،کیا اس لیے حضرت امام حسینؓ نے اپنی جان کا نذرانہ دیا تھاکہ ہم اسلام کی تعلیمات کو بھول کر شیطان کے راستے پہ لگ جائیں،اور پھر الزام مغرب پہ لگائیں کہ ہماری نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔کیا یہ ہم امام حسینؓ کی تعلیمات پہ عمل کر رہے ہیں۔بقول اقبال

ہنسی آتی ہے مجھے حسرتِ ا نسان پر
گناہ کرتا ہے خود،لعنت بھیجتا ہے شیطان پر

اس میں ذرہ برابر بھی جھوٹ نہیں ہے ہم دنیا بھی چاہتے ہیں او آخرت میں اپنی مرضی کی زندگی بھی چاہتے ہیں۔کیا ایسا ممکن ہے۔۔؟،کیا ہم دنیا کی رنگینوں اور عیاشیوں میں کھو کر جنت حاصل کر سکتے ہیں؟،کیا ہم برائی کے راستے پہ چل کر اﷲ پاک کا قرب اور رضا حاصل کر سکتے ہیں؟،نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ہم تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب تک ہماری دنیا ویسی نہ ہو جسکا کا حکم اﷲ پاک اور ہمارے پیارے نبی ﷺ نے دیا ہے۔
اور یہ تب ممکن ہے جب ہم اچھے مسلمان،مومن اور انسان بنیں گے۔جب ہم اپنے معاشرے سے نا صرف برائیوں کا خاتمہ کریں گے بلکہ خود بھی اسلام کی تعلیمات پہ عمل کریں گے۔شراب پہ پابندی لگانی ہوگی۔جوا خانے،قبحہ خانے،ہیرا منڈی جیسے قبیح کاموں کا خاتمہ کرنا ہوگا
جب ایک اسلامی ملک میں کلب،اور سماج پارلرز کی بجائے زیادہ سے زیادہ مساجد اور تعلیم ادارے بنیں گے،مساجد آباد ہوں گی۔گھروں میں پانچ وقت کی نماز کی پابندی ہوگی۔مرد مساجد میں جائیں گے۔زنا اور چوری کرنے والے کو سر عام سزا دی جائے گی۔جھوٹ،،غیبت،اور حسد سے بچا جائے گا۔عورتوں کو عزت دی جائے گی۔وہ گھر سے نکلتے وقت کسی قسم کا خوف محسوس نہیں نہیں کریں گی۔اور جب کوئی ا سکا مسلمان بھائی ا سکی عزت تار تار نہیں کرے گا۔حرام کی بجائے حلال کھائے جائے،اپنے نفس پہ قابو پایا جائے۔ملازموں کو ان کے حقوق دیے جائیں۔بیواؤں اور یتیموں کا خیال رکھا جائے۔طلاق یافتہ کو معاشرے میں عزت دی جائے۔ایک دوسرے کی عزت و ناموس کا خیال رکھا جائے۔بے حیائی اور برائی کے کاموں سے بچا جائے۔اپنی نگاہیں نیچی رکھیں جائیں۔ناچ گانے کی محفلوں سے پرہیز کیا جائے۔ہر کام ایمانداری سے کیا جائے۔تب ہم یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ ہم ایک باکردار مسلمان ہیں،اس لیے کہ امام حسینؓ اخلاق کے اس مرتبے پہ فائز ہیں جن پر پہنچناہر مسلمان کے بس کی بات نہیں ہیں،اس لیے تو ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ نے امام حسینؓ کو جنت کا پھول او جنت کے نوجوانوں کا ر سردار قرار دیا ہے۔اور جنت کی سرداری ایسے ہی تو نہیں مل جاتی۔اس کے لیے پہلے ویسا بننا پڑتا ہے جیسا کی اﷲ پاک چاہتا ہے۔اور ہم تو حضرت امام حسینؓ کے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہیں۔پھر ہم کیسے آپؓ سے محبت کا دعوی کر سکتے ہیں؟۔کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم امام حسینؓ کے پیروکارہیں۔؟۔بے عمل مسلمان کیسے نواسۂ رسول ﷺ سے محبت کا دعوی کرسکتا ہے۔جبکہ آپؓ نے اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا تن،من،دھن اور اپنے پیارے قربان کر دیے۔کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں؟؟؟ جسکا جواب نفی میں ہے۔پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں حسینؓ ہوں۔۔؟

بڑی عجیب ہے نادانِ دل کی خواہش یا رب
عمل کچھ نہیں اور دل طلبگار ہے جنت کا

1,026 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/zfa2hp4
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *