ایسا نہ ہو پھر پچھتاؤ ۔۔۔۔ تحریر:ملک ارشد جعفری

Print Friendly, PDF & Email

ملکی حالات سیاستدانوں نے ایسے کر دئیے کہ صرف اندرونی نہیں بیرونی خطرات بھی سر پر چڑھ کر بول رہے ہیں ۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ملکوں سے اچھے تعلقات بنانے میں نا کام ہوچکا ہے۔ کوئی خارجہ پالیسی نہیں، کبھی انڈیا کا افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں گڑ بڑ کروانا اور کبھی نالائق حکومتی اراکین جن کو سوائے خوشامد کے اور کچھ نہیں آتا اپنے پڑوسی ہمسائے ممالک ایران کے خلاف بیان بازی۔ ابھی حال ہی میں پانامہ معاملے پر ہٹ دھرمی
TOR
پر متفق نہ ہونا، جسکی وجہ سے مستقبل کے دھرنے کسی بڑی تباہی کی شکل اختیار کر لیں گے۔ چار منشیوں کا ٹولہ روزانہ ٹی وی پرآکر وزیر اعظم کی شان میں قصیدے پڑھ کر چلا جاتا ہے جسکا عوام کو کچھ فائدہ نہیں ۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ماہ رمضان میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے جو جلد ہی چھلکنے والا ہے۔ نتیجتاً عوام سڑکوں پر ہونگے اور خوشماندی پھر ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے کہ فلاں نے ملک کو نقصان دیا حالانکہ چند حکومتی وزیر اور انکے چند ایم این ایز جو جناب مشرف کی پسوندکاری سے حکومتی مد میں آئے ہیں ۔ ہر روز ٹی وی چینل پر وہ واویلہ کر رہے ہیں۔ ملکی سربراہ ملک سے باہر بیماری کا علاج کروا کر اپنے محل میں آرام فرما رہے ہیں اور اپوزیشن تقریباً متحد ہوچکی ہے اختتام رمضان کا انتظار ہے اس دفعہ کچھ بھی ہو دھماکہ ہو کر رہے گا کیونکہ اب یہ عوام بے روزگاری ،بھوک اور مہنگائی سے تنگ آچکے ہیں یہ اب کسی کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آئیں گے اور جناب عابدی صاحب کا بتایا ہوا فارمولا یقیناًسامنے آئے گا کیونکہ جب یہ نہیں ہوگا تو غریب کو کچھ نہیں ملے گا اسلئے کسی ضلع میں کسی محکمہ میں چند آسامیاں آجائیں تو 80ہزار سے ایک لاکھ کی بولی لگ جاتی ہے کہ ایم این ایز کے حواریوں کے پاس رقم بھیج کراور نوکری حاصل کرو ۔ فوجی دورے حکومت میں صرف غریب کو انصاف ملتا ہے ڈکیت تنگ ہوتے تھے اب ہر لمحہ غیر یقینی کی صورت پیدا ہوچکی ہے اور ایک درد مند انسان کو بے چین کر رکھا ہے یوں محسوس ہوتا ہے حکومت اپنے اوسان گنو بیٹھی ہے اکثر حواری عمران خان اور طاہر القادری کو اپنی بندوقوں کے نشانے پر رکھے ہوئے ہیں اور کئی ساری اپوزیشن کو گالیاں دے کر بجھی آگ کو بھڑکا رہے ہیں ۔ جو کل مشکل میں ساتھ رہنے کا دم بھرتے تھے اب وہ کھل کر سامنے آگئے اور انکی قیادت بھی اس بات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہورہی جس سے حکومت کو بچایا جائے کیونکہ پنجاب اب جاگ گیا ہے اور جیالے کفن تیار کر کے باہرلگے درختوں کے ساتھ لٹکا کر رمضان ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ پہلے اسلام آباد کا گھیراؤ تھا اب یقیناپورے پاکستان کی سیاسی تنظیمیں جن میں مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں حکومت کے خلاف جہاد کے لیے صف آرا ہوگئی ہیں کیونکہ جو
TRO
پر ٹیم حکومت کے بنائی ہے وہ خوشامد کا چولا پہن کا بار ش میں آئی ہوئی ہے اور دوسری طرف حق پرست ایک آواز ہوچکے ہیں انکی اس ہٹ دھرمی کا فائدہ حکومت کو کم اور اپوزیشن کو زیادہ ہورہا ہے میا ں صاحب کوحکومتی کر سی سے چمٹے رہنے کی عادت ہے۔ یہ عادت ایک بار پھر انکو یا ملک کو نقصان دے گی یا فائدہ اس کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا کیونکہ اب وقت بہت کم رہ گیا ہے اور میرے ادراک کے مطابق حکومتی کشتی کو صرف بھنورہی نہیں بلکہ ہچکولے ہی لے ڈوبیں گے چاہے کچھ بھی کرلیں۔آخر وقت میں سانس لینا بھی دشوار ہوگا اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے کیونکہ حکومت سوائے جھوٹ کے اور کچھ بھی نہ کرسکی جسکا عوام کو کچھ فائدہ ہو ۔ سحری اور افطاری کے اوقات میں دیہاتوں کی مظلوم عوام کو 16سے 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ اور غریب ملازمین سے دس فیصد تنخواہ میں اضافہ کا جو مذاق کیا گیا ہے یہ سب حکومت کے خلاف جارہا ہے۔ اب میاں صاحب جو پاکستان کی سیاست کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ پہلے بھی پنجاب میں تھے لیکن اب پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ میاں صاحب اگر ٹی او آرزپر اپنے آپ کو سرنڈرکردیں تو شاید کوئی امید کی کرن سامنے آجائے ورنہ سب پچھتائیں گے پھر وہ احتسا ب ہوگا جو خواب مرحوم پیر پگارانے دیکھا تھا۔ یہ اب عوام کی خواہش بھی ہے ہر صوبہ ہی نہیں ہر ضلع میں چوروں ڈاکوں اور ملک کو لوٹنے والوں کے خلاف عوام ثبوتوں کے ساتھ پیش ہونگے اسلئے کہ بارہ ہزار کا قرض دارتو جیل میں جاتا ہے اور جو کروڑوں اربوں لیتا ہے وہ مزے کرتا ہے اب اپوزیشن نہیں عوام حساب مانگ رہی ہے سب سے جس نے بھی کرپشن کی حساب دینا ہوگا۔ حکومت کو تو چاہیے میاں صاحب کا نام پہلے دے کیونکہ یہ عوامی مطالبہ ہے کیونکہ اب غریب مظلوم جاگ گیا جب ظلم کے خلاف آواز اٹھے گی تو کچھ اور ہی منظر ہوگا پھر نہ کہنا یہ کیا ہوا ہے ۔

581 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zdvxtae
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *