Monthly Archives: July 2017

کیا پِدی اور کیا پِدی کا شوربہ

آج مجھے اردو محاورے بڑے یاد آرہے ہیں۔میں اکثر کشمیر اور جی بی کے بارے ایک محاورہ استعمال کرتا ہوں ٓآسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ایسا کہنے کی وجہ  وہ  حضرات  خوب جانتے ہیں  جو ریاست جموں و کشمیر کی

عدالتی فیصلہ،ردعمل اور سوالات

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں گزشتہ روز جمعہ کو پانامہ لیکس کے کیس پر عدالتی فیصلہ سامنے آیا ۔بلاشبہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اس فیصلہ میں سابق وزیر اعظم نواز

پانامہ گیٹ فیصلہ۔۔شیر اور بکری

سکول کے زمانے میں ایک کہانی پڑھی تھی دھندلی سی یاد آرہی ہے آگے پیچھے ہوجائے تو معافی۔یہ کہانی شیر اور بکری کی ہے شیر اور بکری کی بہت ساری کہانیاں ہیں ۔یہ کہانیاں بچوں کے لئے لکھی جاتی ہیں

تین مرتبہ کے منتخب ادھورئے وزیر اعظم

اپریل2016 میں پاناما پیپر زکا معاملہ سامنے آیا جس میں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے بچوں حسین نواز، حسن نواز اورمریم نوازکے کے نام بھی شامل  تھے، اس بنیاد پرنواز شریف سے وزارت عظمی سے استعفے کا مطالبہ کیا

جنازہ سب کا پڑھایا جائے

پانامہ کیس میں کس کی جیت ہوتی ہے کس کی ہار یہ تو وقت اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی بتائیگا لیکن حالات اور واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ حالات نواز شریف کے حق میں نہیں ہیں ۔اس کا

سزا پہلے مقدمہ بعد میں

اب یہ بات تو صاف ہے کہ ملک کے ایک منتخب وزیر آعظم سابق ہوگئے۔ اور پاکستانی تاریخ کے اس فیصلے کے بارے صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ وہ منصفوں کی رواتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں میرا جُرم

مجرم پنچائیت اور حوا کی بیٹیاں

ہمارے معاشرے کا یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی درد ناک واقع رونما ہوتا ہے تو ہر طرف بہت احتجاج نظر آتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یا تو ہم اسے یکسر بھول جاتے ہیں یا پھر

لواری ٹنل بیالیس سال بعد مکمل

اہل چترال کےلیے 20 جولائی 2017 ایک تاریخی دن بن گیا جب 42 سالہ پرانے منصوبے  لواری ٹنل کی تکمیل ہونے پر وزیر اعظم نواز شریف نے اس کا افتتاح کیا۔ ٹنل کی تعمیر سے چترال اور اطراف کے علاقوں

کم سن گھریلو ملازمین پر تشدد

بچے انسانی معاشرے کا ایک اہم جزو ہیں۔معاشرئے کے دیگر افراد کی طرح ان کا بھی ایک اخلاقی مقام اور معاشرتی درجہ ہے۔ بہت سے امور ایسے ہیں جن میں بچوں کو تحفظ درکار ہوتا ہے۔ ریاست، آئین اور قانون

پاکستانی احتساب

چوہدری ذوالقرنین ہندل۔مکینیکل انجینئر۔سی ای او ،وائس آف سوسائٹی۔گوجرانوالہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں کبھی احتساب ہی نہیں ہوا اگر ایسا ہوتا تو پاکستانی سیاست سے کرپٹ عناصر کا صفایا ہوجاتا۔پاکستانی احتساب بااثر لوگ صرف اپنے مقاصد کے لئے استعمال