بارہ ربیع الاول!رحمتوں کی بے کراں وسعتوں کا دن

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شفقت اللہ


چار سو اندھیرا چھایا ہوا تھا ،ظلم و جبر نے اپنے منحوس پنجے معاشرے میں گاڑ رکھے تھے ،خاندان اور پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ،انسانیت زوال و انحطاط کی طرف سرک رہی تھی ۔ماں،بہن ،بیٹی اوربیوی کے رشتوں کو پامال کیا جا رہا تھا ،بیت اللہ میں 360 بت رکھ کر اپنی بگڑی کو سنوارنے کیلئے ان کی قدم بوسی کی جاتی تھی، بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس نہایت مہربان اور رحم کرنے والی ہے ا س نے انسان کو زمین میں اپنا نائب مقرر کیا تو اسے صراط مستقیم پر چلانے اور مہذب زندگی گزارنے کے لیے قدم قدم پراپنے پیغمبروں کے ذریعے راہنمائی بھی فراہم کی ہے۔ آدم ؑ جب ایک عرصہ تک توبہ کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ہی آسمان پر وہ دعا نقش کی جسے پڑھ کر آدم ؑ کی توبہ قبول ہو گئی ،قوم لوط ؑ جب گناہ و زیاں کاریوں میں حد سے تجاوز کرنے لگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سیدھے راستے پر لانے کیلئے لوط ؑ کو بھیجا ،فرعون کی فرعونیت جب انتہا کو پہنچ گئی اور انسانیت رسوا ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو ان کی قوم کی رہنمائی کیلئے بھیجا اور پھر خود ہی ان کو فرعون کی بہت بڑی فوج سے چھٹکارا دلایا ۔اللہ کی رحمت کے کرشمے زمانے اور وقت کی قیود سے ماورا ظاہر ہوتے رہے ہیں،اس کے لئے اللہ سے لو اور قدموں میں ثبات ہی شرط قرار پائی ہے۔حضرت ابراہیم ؑ کو بتوں کو توڑنے کے جرم میں جب نمرود نے آگ میں ڈالا توحضرت ابراہیم ؑ کے پائے استقامت میں معمولی سی بھی لرزش نہیں آئی تواللہ کافرمان جاری ہوا”یانار کونی برداََ و سلاماََعلی ابراہیم” پھر ان کے ذریعے قوم کو سیدھے راستے پر چلنے کی تعلیمات دیں ،انبیاء کے ذریعے قوموں کی رہنمائی کیلئے آسمانی کتب کا نزول ہوا ۔ انسانیت جب جب گمراہی کے چنگل میں پھنسی تب تب اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف وسائل سے ہدایت کی روشنی سے منور راہیں انسانیت کے لیے فرش راہ کیں۔اللہ جل لا جلالہ کی رحمتوں اور برکتوں کی معراج 12 ربیع الاول کی آخرشب میں ظہور پذیر ہوئی ،اللہ نے اپنے پیارے اور محبوب پیغمبرحضرت محمد ﷺکو دنیا میں انسانیت کے لیے تحفہ عظیم بنا کربھیجا ۔یہ بنی نوع انسان کے لیے رحمتوں سے لبریز ایسا پیمانہ تھا جوان کی تمام تر تشنگیوں کو سیراب کر سکتا تھا۔آنحضرت محمدﷺ کی ذات ہر زاویہ سے اوج کمال پر فائز ہے ۔یہ اسی ذات گرامی کا کرشمہ ہے کہ انسانی تہذیب کے قرینے تبدیل ہو گئے گھپ اندھیروں کے بطن سے روشنی نے اڑان بھری اور آناََ فاناََ پورے عالم میں نوراللہ جگمگانے لگا ،شکستہ حال اور لاچار لوگوں کو سہارا ملا، یتیموں کو سہارا میسر ہوا ،وہ پیارا نام محمد ﷺ جس کی برکتیں لا متناہی ،جس کے ذکر کی رفعتیں بے کنار ، لاکھوں درود و سلام اس صاحب لولاک ﷺ پر جس کا امتی ہونا ہمارے لئے نہ صرف خوش قسمتی کی نشانی ہے بلکہ ہماری نجات کا ذریعہ بھی ہے ۔یہی ہماراتوشہ آخرت ہے ،یہی ہمارے پاس جنت کی کلید ہے 12ربیع الاول کا دن اپنے اندر محبت ،شفقت ،رحم دلی اور اخوت کا جذبہ لے کر آتا ہے کہ بغض ،عداوت، شکوک و شبہات اور وہموں کے سارے بادل آنکھ جھپکتے ہی چھٹ جاتے ہیں ،رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ اور آپکی تعلیمات پر عمل کرنے سے جھونپڑیوں میں رہنے والوں نے نصف دنیا پر حکومت کی ،رسول اللہ ﷺ کی آمد سے کفرو الحاد کے قصرات میں زلزلہ بپا ہو گیا قیصرو کسریٰ کے محلات لرز اٹھے اندھیری راتوں کے چھائے سیاہ بادل چھٹ گئے ۔رحمت دو عالم ﷺکی آمد سے پوری فضا یوں معطر ہو گئی کہ عرب و عجم مہک اٹھا ۔
تم آئے تو جہاں بھر میں سویرا کر دیا تم نے
میرے آقا اندھیرے میں اجالا کر دیا تم نے
لیکن نہایت افسردہ ہوں کہ چودہ سو سال قبل رسول اللہ ﷺ کی آمد پر جو فتنے دفن ہو گئے تھے آج انہوں نے پھر سر اٹھا لیا ہے یہودو و ہنود چیلوں اور بھیڑیوں کی طرح امت مسلمہ کے جسموں کو نوچ اور بھنبھوڑرہے ہیں لیکن ان بھیڑیو ں سے بچانے والا کوئی نہیں ۔مضبوط ایمان والے صحابہ کرامؓ نے تو کفر کے اسلام پر بڑھتے حملوں کو روک کر اسلام کا بول بالا کیا تھا لیکن آج ایک ارب بیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی ایک ایسا نہیں جو امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے بچائے ۔آج ہماری دعائیں بے اثر ہو چکی ہیں ،ہمارے دل زنگ آلود ہو چکے ہیں ۔میں اگر گنبد خضریٰ تک پہنچ پاتا تو روضہ اقدس کی دیواروں سے لپٹ کر بارگاہ الٰہی میں یہ فریاد کرتا ۔اے رحیم وکریم رب اپنے پیارے محبوب حضور ﷺ کے وسیلہ سے بھٹکی ہوئی امت کو سوئے حرم بلا لیجئے میرے پروردگار آپ تو ماں سے زیادہ مہربان اور باپ سے زیادہ شفیق ہیں تیری بارگاہ میں جو نبی کریم آخرالزماں ﷺ نے میدان عرفات میں عرب کی شدید گرمی آگ پھینکتے سور ج اور بھٹی کی مانند تپتے ہوئے صحرا میں اونٹنی پر بیٹھ کر امت کیلئے تیرے حضورجو دعائیں مانگیں انہیں شرف قبولیت عطا فرما۔ آپ ﷺ کی مقدس آنکھوں سے ہمارے لئے آنسوؤں کی جھڑیاں لگتی رہیں حضور ﷺ کل میدان حشر میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہوگا، انسان بھوک و پیاس سے بے حال ہوگا جب ماں بچے سے بیٹا باپ سے بھائی بہن سے اور بیوی اپنے خاوند سے نا آشنائی کا اظہار کرے گی، جب جگری یار آنکھیں چرائیں گے ،جب نوکرو خدام ٹکا سا جواب دیں گے ،جب دنیاوی رشتے کچے دھاگے کی مانند ٹوٹ جائیں گے حضور ﷺ ! اس وقت آپ ﷺ ہماری محبت میں بے چینی سے حشر کے میدان میں موجود ہوں گے او ر اللہ سے رحم کی درخواست کر کے زارو قطار آنسو بہا رہے ہوں گے سارے نبی ’’نفسی نفسی ‘‘ پکار رہے ہوں گے اور آپ’’ امتی امتی ‘‘کی التجا بارگاہ الٰہی میں گزار رہے ہوں گے اس وقت ہمیں پناہ بھی آپ کی چادرِ نبوت تلے ہی ملے گی ۔حضور ﷺ ! اگر اللہ کو آپ کی ذات اقدس سے محبت نہ ہوتی اور آپکی شفاعت کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو ہم پر پتھروں کی بارش ہوتی ہم پہ آسمان سے آگ کا مینہ برستا بپھری ہوئیں آندھیاں ہمیں پٹخا پٹخا کر مارتیں ہولناک زلزلے ہمارے سیاں کار وجود کو تہہ زمین میں لے جاتے سیلاب ہمیں کوڑا کرکٹ کی مانند بہا لے جاتے اور ہماری پھولی ہوئی بدبو دار نعشیں عبرت کی داستاں بن جاتیں ۔ہماری شکلیں مسخ کر دی جاتیں ہم پر قومِ عادو ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی ،ہم صرف آپ ﷺ کی وجہ سے اور آپﷺ کی رو رو کر تاریک راتوں میں کی گئیں عبادات کے دوران کی گئی آہ و گریہ زاری کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں ہم انگریزوں کے غلام تھے ذلیل و رسوا تھے ہمارے بزرگوں نے ملکر آپ ﷺ کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے زمین کے ایک ٹکڑے کی التجا کی اور اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کی پاک ساعتوں اور لیلۃ القدر کی جلیل رات میں پاکستان دے دیا مگر ہم نے اللہ سے بد عہدیوں کا آپ ﷺ اورجنت کی جانب جانے والے راستے میں پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے کیونکہ بنی اسرائیل کی طرح ہم نے ایک الگ اسلامی ریاست کا تقاضا اس لئے کیا تاکہ عبادت الٰہی کو سرعام اور آزادنہ ادا کر سکیں جو ہمیں عطا بھی ہوا اس کے با وجود آج تک ہم ذہنی اور عملی طور پر انگریزوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں آج بھی ہمارے عملی کردار میں مغرب کی تہذیب جھلکتی ہے ہمارے لباس میں یہود کا نقش جھلکتا ہے ہمارے نغموں میں شیطان کی پاسداری جھلکتی ہے ہماری محبت میں فانی دنیا کی روشنی اور فکر و طلب جھلکتی ہے ۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اللہ ان کو فتح دے گا اور وہ ان کے حکمرانوں کو بیڑیوں سے جکڑ کر لائیں گے اللہ ان کے گناہ بخش دے گا پھر وہ واپس آئیں گے جب بھی واپس آئیں تو وہ ابن مریم کو شام میں پائیں گے ۔‘‘ہم نے اس فرمان کی روشنی میں جہاد کشمیر اور فروغ اسلام کو جاری رکھنا تھا کیونکہ یہی غزوہ ہند تھا لیکن ہم نے لبرل ازم اور سیکو لر ازم کی چادر اوڑھ رکھی ہے اور خود کو مغرب کی تہذیب میں پنہاں کر کے مہذب گرداننے لگے ہیں اور یہی آج ہماری بربادی کا سبب ہے ۔میری خواہش ہے کہ میں گنبد خضریٰ سے لپٹ کرز ارو قطار آہ و گریہ کروں کہ اللہ ہمیں اس متعصبانہ اور آپس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف جھگڑکر طاقت کا مزہ چکھنے والے عذاب سے بچا لیکن کیا کروں گنبد خضریٰ بڑی دور ہے مدینہ بڑی دور ہے ۔۔

تھکی ہے فکر رسا مداح باقی ہے
قلب ہے آبلہ پا مداح باقی ہے
ورق تمام ہوا مداح باقی ہے
تمام عمر لکھا مداح باقی ہے

752 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/jm5e6pc
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *