۔100 دن : خارجہ پالیسی کے محاذ پر

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا، اسلام آباد
25جولائی کے انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کے سود ن مکمل ہو چکے ہیں ۔نیا پاکستان کے بانی اپنی حکومت کے سو دنوں کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔مجموعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ جو وعدے اور دعوے کیے گئے تھے ان کے لیے سو دن بہت ہی مختصر وقت تھا ۔ لیکن کارکردگی دیکھتے ہوئے محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف کے وزراء نے اس حوالہ سے کوئی ہوم ورک نہیں کیا ۔مختصر میعاد اور طویل المیعاد منصوبوں میں فرق کیے بغیر اعلانا ت اور دعوے کیے گئے ۔حکومت نے اپنی کارکردگی کاآغاز سادگی مہم سے کیا جو کسی حد تک کامیاب رہی لیکن معاشی لحاظ سے کمزور اور مسائل میں گرے ہوئے ملک کے لیے یہ مہم فوری ریلیف کا ساماں نہ بن سکی ۔ ہماری یہ روایت بن چکی ہے کہ ہر آنے والی نئی حکومت تمام غلطیوں کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو گرادنتی ہے تاہم اس کے باوجود اسے بھی کچھ کارکردگی دکھانا پڑتی ہے جس سے عوام کو مطمئن کیا جا سکے ۔معاشی مسائل کی وجہ سے ان وعدوں اوردعووں پر یقینی طور پر عمل نیا کیا جا سکا لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ حکومت ایک ایسے ٹریک پر آچکی ہے جہاں سے ترقی کا سفر کیا جا سکتا ہے ۔ موجودہ حکومت کا ایک ایک دن گنا جا رہا ہے ۔میڈیا ، اپوزیشن اور عوام ہر گزرنے والے دن کا احتساب کر رہے ہیں جو ایک خوش آئند ہے ۔بدقسمتی سے ماضی میں ایسی مانیٹرنگ دیکھنے میں نہیں آئی ۔یہ روایت بھی تحریک انصاف نے ڈالی ہے کہ احتساب کرو اور بے لاگ کرو۔قوم میں یہ بیداری بھی تحریک انصاف کی مہم کی مرہون منت ہے ۔سو دنوں کی حکومت میں بہت سے معاملات میں غیر ذمہ داری ، نا تجربہ کاری بھی سامنے آتی رہی ہے ۔وزراء کے اقدامات ، جلد بازی میں کیے گئے فیصلے اور جذباتی انداز میں دیئے گئے بیانات حکومت کے لیے درد سر بن چکے ہیں ۔اب یہ موقع ہے کہ سودنوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ آئندہ کی منصوبہ بندی میں ان تمام غلطیوں پر قابو پائے جو سودنوں میں ہوئی ہیں ورنہ جس طرح سے ان کی حکومت کو مانیٹر کیا جا رہا ہے انہیں کسی اپوزیشن کی تحریک کی ضرورت نہیں پڑے گی۔سودنوں میں جہاں معاشی مسائل پانے میں کسی حد تک حکومت کامیاب ہوئی ہے وہاں بجلی ، گیس ، پٹرول اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے عوام میں بے چینی بھی پائی گئی ہے ۔عوام تحریک انصاف کی حکومت سے بہت ذیادہ توقعات لگا چکی ہے جس کو پورا کرنے کے لیے قیادت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے ۔
کارکردگی کے لحاظ سے خارجہ پالیسی کے محاذ پر حکومتی کارکردگی بڑی حد تک شانداررہی ہے ۔ایسے بہت سے مثبت اقدامات کیے گئے جن سے پاکستان کانہ صرف امیج بہتر ہوا بلکہ قومی مفاد میں کیے گئے بہت سے اقدامات میں عوامی جذبات و احساسات کا خیال رکھا گیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود کی زیر قیادت وزارت خارجہ کی کارکردگی دیگر وزارتوں کی نسبت بہت بہتر رہی ہے ۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد پہلا اہم واقعہ اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی تھا ۔ یہ ایسا موقع تھا کہ کشمیر میں بڑھتی جارحیت کے باعث روزانہ کی بنیا د پر کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کیا جا چکا تھا تو دوسری طرف پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی سرپرستی نے بھی معاملات بہت حد تک کشیدہ کر دیے تھے ۔ اس موقع پر عام تاثر یہی تھا کہ وزیر اعظم کو خود اجلاس سے خطاب کرنا چاہیے لیکن وزیر اعظم کی جانب سے شاہ محمود قریشی کا انتخاب بھی بہترین ثابت ہوا۔ شاہ محمود قریشی نے اپنی قومی زبان میں تقریر کرتے ہوئے نہ صرف کشمیر کا مسئلہ بیان کیا بلکہ بھارتی دہشت گردی کو بھی کھلے لفظوں میں بیان کرکے قوم کی توقعات کو پورا کر دیا۔خارجہ پالیسی کے محاذ پرشاہ محمود قریشی کی قیادت میں ملیحہ لودھی ، تہمینہ جنجوعہ اور ڈاکٹر محمد فیصل کے بہترین ٹیم ورک نے کئی کارنامہ ہائے سرانجام دیے ہیں جس کی پہلی مثال اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر موثر کارکردگی تھی جہاں پاکستان کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا گیا ۔امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے اتار چڑھاؤ کی تاریخ موجود رہی ہے لیکن یہ بھی پہلی دفعہ ہوا ہے کہ امریکہ کے ’’ڈومور ‘‘ کے جواب میں پاکستان سے بھی ’’ڈومور ‘‘ کا مطالبہ کیا گیا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے لیے پالیسی میں بھارت کی طرف جھکاؤ سے پاکستان کے لیے مختلف قسم کی مشکالات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا تاہم پاکستان نے اس مسئلہ کا سامنا جرات مندی سے کیا ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے الزمات کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے ریکارڈ کی درستی کا جواب بھی قوم کی امنگوں کے مطابق تھا۔معاشی مسائل سے نبٹنے کے لیے سعودی عرب ، چین اورمتحدہ عرب امارات کے کامیاب دوروں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاک معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکی ہے موجودہ حکومت نے اس منصوبے کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے بہترین حکمت عملی کے ساتھ کام کا آغاز کیا ۔ روس کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے ۔ماسکو امن مذاکرات میں پاکستان نے شرکت کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغان مسئلہ کے حل کے لیے علاقائی کرداروں کو آگے بڑھنا ہو گا ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ افغانستان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل پر مثبت بات پیش رفت ہوئی۔وزیر اعظم نے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات پر اپنی پالیسی پہلی تقریر میں ہی واضح کر دی تھی ۔ خطے میں امن کے لیے تمام دو طرفہ مسائل کو برابری کی سطح پر بیٹھ کر حل کرنے کے لیے بھارت کو دعوت دی گئی ۔کرتاپورہ سرحد کھول کر پاکستان نے گیند بھارت کے کورٹ میں پھینک دی۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی ہے ۔پاکستان کی جانب سے امن اقدامات کی وجہ سے نہ صرف عالمی سطح پر بھارت کو بے نقاب کیا بلکہ پاکستان کا مثبت امیج بھی دنیا کے سامنے پیش ہوا۔
اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے وزارت خارجہ نے مربوط اور منظم پالیسی کے ساتھ کام کا آغاز کیا ۔ مشرق وسطی میں بحران کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایران سعودیہ عرب کے درمیان تنازعات دور کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش پاکستان کی قائدانہ صلاحیتیوں کا اظہار تھا۔ وزیر اعظم کا دورہ ملائیشیا ، ایران ، ترکی ، قطر ، ازبکستان کے وزرائے خارجہ اور سعودی عرب کے وزیر اطلاعات کا دورہ پاکستان خارجہ پالیسی کے محاذ پر محنتوں کا ثمر ہے ۔
خارجہ پالیسی کے محاذ پر پاکستان کو یقیناًابھی بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پاکستان کی تزویراتی پوزیشن اور خطے میں موجود تنازعات کے باعث ان مسائل سے حل کے لیے موثر اور مربوط ومنظم پالیسی کے ساتھ ساتھ انتھک ٹیم کی ضرورت ہے ۔ سو دنوں کی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر خارجہ کی قیادت میں موجودہ ٹیم تما م چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ وزیر اعظم نے قوم کو یقین دلایا تھا کہ اب پاکستان کے فیصلے پاکستان کے مفاد میں ہوں گے اب توقع کی جارہی ہے کہ ایک آزاد اور خود مختار قوم کی طرح ہماری پالیسیان بھی ہمیں ایک خودمختار قوم ثابت کریں گی۔

339 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/yc4ut637
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *