کشمیر تنازعہ : ثالثی کا آپشن کیوں نہیں ؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا
بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اپنی حکومت کے براہ راست عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے آپشن کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کو چاہیے کہ حکومت کے مقررکردہ مذاکرات نمائندہ سے بات چیت کرے ۔انہوں نے اس موقع پر کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ اس سے باز رہیں ورنہ انہیں ختم کر دیا جائے گا ۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایسی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی ۔بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیش ور شرما کو کشمیر تنازعہ کے حل کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا ۔دنیش شرما کو بظاہر یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ تمام فریقین سے بات چیت کریں ۔نمائندہ مقرر ہونے کے بعد دنیش شرما نے اپناپہلے دورے میں مختلف سیاسی گروہوں سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں سیاسی جماعتوں ، سول سوسائٹی اورسماجی وفود کے علاوہ کچھ صنعت کاروں سے بھی ملاقات کا دعوٰی کیا ۔ تاہم ان کے پہلے دورہ میں تحریک آزادی کے کیمپ سے کسی بھی رہنما نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ۔اس لحاظ سے ان کاپہلا دورہ بری طرح ناکام ہوا کیونکہ ان کوبھیجنے کا واحد مقصد تحریک آزادی کیمپ کے لوگوں سے ملاقات کرنا تھا ۔ اس کا پس منظر بہت واضح تھا کہ آزادی کی تحریک کے نوجوان برہان وانی کی شہادت کے بعد وادی کے حالات بھارت کے لیے سازگار نہیں رہے ۔برہان وانی کی بھارتی فوج نے ایک جعلہ مقابلے میں شہید کر دیا تھا جس کے بعد کشمیری نوجوانوں کے لیے آزادی کا استعارہ بن چکا تھا۔ کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد برہان وانی کی طرح تحریک آزادی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگی ۔وانی کی شہادت کے بعد وادی میں حالات کشیدہ ہو گئے اور بھارتی فوج کے لیے آزادی کے نعرے روکنا مشکل ہوگئے ۔ایسی صورتحال میں کشمیر کی آزادی کے لیے سیاسی تحریک بھی متاثرہوئی ۔وادی میں ہونے والے مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ۔کشمیری نوجوان سیاسی تحریک سے مایوس ہو کر ہتھیار اٹھانے لگے ۔بھارت ایک عرصہ تک یہ کہہ کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جونکتا رہا کہ کشمیر میں عسکری کارروائیوں میں سرحد پار سے لوگ آرہے ہیں اور اس کا سارا الزام پاکستان پر لگاتا رہا ہے لیکن برہان وانی کہ شہادت نے واضح کر دیا کہ کشمیر کی تحریک آزادی خالصتاً کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے جو بھارتی فوج کے ظلم سے تنگ آکر ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں ۔بھارتی قیادت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیر کی سیاسی قیادت بھی اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی بلکہ سیاسی قیادت کی جیل بندیوں ،نظر بندیوں اور ان پر مقدمات نے واضح کر دیا کہ بھارت اس مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کرنے میں مخلص نہیں ہے ۔جب وادی کے حالات کنٹرول سے باہر ہونا شروع ہوئے تو بھارتی سرکار نے دنیش شرما کو رابطہ کار مقرر کرتے ہوئے ان حالات کو وقتی طور پر قابو میں لانے کی کوشش کی ۔تاہم حریت قیادت نے دنیش شرما سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا ۔دنیش شرما نے اپنے پہلے دورے میں کشمیر سنگ باز وں کی رہائی اور ان پر قائم مقدمات ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کا بھارتی سرکار کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا جس سے واضح ہو گیا کہ حریت قیادت کے تحفظات درست تھے۔دنیش شرما کے دوسرے اور تیسرے دورے کے دوران بھی کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی ۔
بھارتی فوج کشمیریوں کے نسل کشی کے ویسے تو بے شمار حربے استعمال کرتی رہی ہے لیکن ’’آپریشن آل آؤٹ ‘‘ کے نام سے ایک اور مکروہ مہم کا آغاز کیا گیا ۔اس آپریشن میں سرکردہ رہنماؤں کی ایک فہرست تیار کی گئی جنہیں ماوارائے عدالت قتل کرنے کامنصوبہ تیار کیا گیا ۔ اس آپریشن میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیری رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ہلاک ہونے والے رہنماؤں کی لاشیں بھی ورثا کے حوالہ نہیں کی جائیں گی ۔علاوہ ازیں جلوسوں اور جنازوں میں شرکت کرنے والے نہتے کشمیریوں پر بھی فائرنگ کا منصوبہ تیار ہو ا۔س مقصد کے لیے بھارت نے انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز اور اسنائپر ز کو تعینات کیا گیا ۔تاحال یہ آپریشن جاری ہے اور اب جلسے اور جلوسوں کے علاوہ جنازوں پر بھی دھاوا بول کر کشمیری نوجوانو ں کو شہید کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔روزانہ کی بنیاد پر خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ۔ صحافیوں کو بھی آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہے ۔ انٹر نیٹ تک رسائی کی سہولت معطل ہے ، جگہ جگہ موجود فوج اور پولیس کی چیک پوسٹوں کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہیں۔ اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں ۔پیلٹ گنوں کے ساتھ ساتھ اب کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
ان حالات میں کشمیریوں کی نگاہیں پاکستان کی جانب اٹھتی ہیں جو اس تنازعہ کا ایک اہم فریق ہے۔اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود پاکستان اس تنازعہ کو عالمی سطح پر اس طرح اجاگر نہیں کر سکا جس طرح کرنا چاہیے تھا ۔ کشمیریوں کی ستر سالہ جدوجہد اور حالات کی سنگینی کے باجود جب بھی کسی تیسرے فریق کی جانب سے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی گئی ہے تو بھارت نے اس مسئلہ کو دوطرفہ تنازعہ کہہ کر مسترد کر دیتا ہے ۔پاکستان کی طرف سے جتنی بھی سنجیدہ کوششیں کی گئیں بھارت اسے مسترد کر دیتا ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کا دعوٰی ہے کہ شملہ معاہد کے تحت یہ مسئلہ دو طرفہ ہے اور اس معاہدے کے تحت کسی طرح بھی تیسرے فریق کو اس میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ پاکستان نے شایداس آپشن پر سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے ۔روایتی انداز سے مسئلہ کشمیرکو حل کرنا وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اب پہلی فرصت میں پاکستان کو شملہ معاہدہ سے جان چھڑا لینی چاہیے ۔ حالانکہ بھارت خود اس آپشن کو ختم کرچکا ہے ۔ بھارت جب کشمیر کو اٹوٹ انگ کہتا ہے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وہ اس کو تنازعہ تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے ۔ عالمی قوانین بھی اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ جب ایک فریق معاہدہ سے پھر جائے تو دوسرا بھی اس معاہدے کو توڑ سکتا ہے ۔اب بظاہر یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اگر پاکستان اس مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں واقعی کوئی کوشش کرنا چاہتا ہے تو اسے شملہ معاہدے سے نکل کر کسی تیسرے فریق کو اس کا حصہ بنانا ہو گا ۔چین اس کے لیے بہتر آپشن ہو سکتا ہے ۔یہ مسئلہ چونکہ علاقائی امن کے لیے سیکورٹی رسک بن چکا ہے اس لیے علاقائی قوتوں کی دلچسپی پیدا ہونا ضروری ہے ۔علاقائی سطح پر اس مسئلہ کے حل کے لیے کوششیں ہونی چاہیے تاکہ خطے کے تمام ممالک اس مسئلہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکیں ۔

42 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y92oahsy
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *