پشاور: ہمیں شہید بچوں کے والدین کے احساسات کو سمجھتے ہوئے ان کے دکھ کا مداوہ کرنا ہوگا: آمنہ مسعود

Print Friendly, PDF & Email

پشاور: پشاور سانحے کا دکھ بہت بڑا ہے ایسے میں ہمیں شہید بچوں کے والدین کے احساسات کو سمجھتے ہوئے ان کے دکھ کا مداوہ کرنا ہوگا۔ ساتھ ساتھ ہر کام کی ذمہ داری حکومت وقت پر ڈالنے کی روش کو ترک کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے عوامی سطح پر بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار چیرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کی طرف سے پشاور سانحہ کا ایک ماہ مکمل ہونے پر پشاور پریس کلب میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پشاور کے میڈیا، وکلا اور سول سوسائٹی کے اہم نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ آمنہ جنجوعہ نے مذید کہا کہ ہم سب ان والدین کے دکھ میں شریک ہونا چاہتے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ ہمارے لیے ان کے احساسات مقدم ہونے چاہیے۔ بیگم جنجوعہ نیبتایا کہ جب انہوں نے شہید بچوں کے والدین سے رابطہ کیا تو ان لوگوں نے یہی شکایت کی کہ ہمارے بچے تو اب کوئی واپس نہیں لا سکتا مگر معاشرے کے مختلف طبقوں کے لوگ آ کر ہمارے زخم ہرے کر جاتے ہیں۔ یہ لوگ کیمروں کی چکا چوند سے تنگ آئے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کو اپنے غم سے اپنے انداز میں عہدہ برا ہونے کا موقع دیا جائے۔ اسی لیے ہم نے آج کی تقریب میں ان دکھی والدین میں سے کسی کو زحمت نہیں دی۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں اور ہم انہیں تنہا بھی نہیں چھوڑیں گے مگر ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور غور کریں کہ آخر حالات یہاں تک کیسے پہنچے اور حالات کو درست کرنے کا صحیح راستہ کیا ہے؟ ایسے میں ہمیں دو پہلوؤں کو مد نظر رکھنا ہو گا ایک تو یہ کہ شہید بچوں کہ والدین کے لیے ایسے اقدامت کرنے ہوں گے کہ ان کے دکھ کا مداوہ ہو سکے اور دوسرے طرف ایسا لایحہ عمل تیار کرنا ہو گا کہ وطن کی مائیں دوبارہ ایسے سانحہ کا سامنہ نہ کریں۔ انہی دونوں مقاصد کے حصول کے لیے ڈیفینس آف ہیومن رائٹس نے پشاور سکول میں شہید ہونے والی سب سے چھوٹی بچی کے نام پر ڈی ایچ آر خولہ میموریل ونگ کے نام سے ایک علیحدہ شعبہ قایم کر دیا ہے۔ اس ونگ کے دو بینادی کام ہوں گے پہلا تو یہ کہ شہید بچوں کے نام پر فلاحی کام کیے جائیں اور دوسری طرف یہ ونگ ایک تھنک ٹینک کا کام کرے گا جو اس واقعہ کے محرکات اور نتائج پر غور کرتے ہوئے ارباب اختیار کے لیے لایحہ عمل تجویز کرے گا۔ ڈیفینس آف ہیومن رائٹس شہید بچوں کے والدین کو اس ونگ کے انتظام اور تھنک ٹینک کی بینادی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرے گی اور انہیں دعوت دے گی کہ اپنے دکھ کو ایک مثبت طاقت میں بدل کر اس قوم کے رہنما بن جائیں۔ آمنہ جنجوعہ نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ بات نہیں ہوسکتی کہ آج خیبر سے گوادر تک ہماری درسگاہیں خاردار تاروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہیں اور ہم اپنے ہی گھروں میں، اپنی ہی درسگاہوں میں قیدی بن چکے ہیں۔

 882 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/hn64dvn
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *