پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ چین: کامیاب یا ناکام

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان دورہ چین سے واپس آچکے ہیں ۔ان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ چین کا پہلا دورہ تھا۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دورہ ایسے موقع پر کیا گیا جب یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ملک اس وقت شدید معاشی بحران کی زد میں ہے ۔اس سے قبل معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے قریبی دوست ملک سعودی عرب کاکامیاب دورہ کر چکے ہیں ۔اس لیے دنیا کے معاشی ماہرین سمیت پاکستان کے تجزیہ نگاروں اور عوام کی نظریں بھی دورہ چین پر تھیں ۔امید یہی تھی کہ سعودی عرب کی طرح دورہ چین میں بھی کوئی ایسا پیکج ملے گا جس سے معاشی بحران مزید کم ہو جائے گا ۔پاکستان میں عام رائے یہی پائی جاتی ہے کہ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کاساتھ دیا ہے اور اس موقع پر بھی وہ پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ وزیر اعظم کے اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید پائیدار کرنے کے لیے مختلف سماجی و اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے آٹھ نکاتی مشترکہ علامیہ اور پندرہ مختلف معاہدوں پر دستخط کیے ۔پاک چائنہ اقتصادی راہداری میں توسیع کے علاوہ منصوبے کو درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے داخلی ، عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے باوجوددونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ پہلے سے مزید پختہ اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔اگرچہ ابھی تک اس معاشی پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا جس کی توقع کی جارہی تھی تاہم جن معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں ان کے ذریعے بھی پاکستان کو معاشی میدان میں مشکلات کا سامنا کرنے میں کافی مدد ملے گی ۔دورہ چین سے واپسی پر وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ براہ راست کسی قسم کا پیکج نہیں ملا تاہم دوطرفہ تجارت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے جس سے پاکستان وقتی طور پر معاشی بحران سے نکل آیا ہے ۔
اگر اس دورہ کو ان توقعات کے لحاظ دے دیکھا جائے جو میڈیا کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں بٹھا دی گئیں تھیں یا مختصر مدت کے منصوبوں کے حوالہ سے دیکھا جائے تو شاید فوری ردعمل یہی ہو سکتا ہے کہ دورہ ناکام رہا جیسا کہ کچھ لوگ اس کا تاثر دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہر معاملے کو سیاسی بنانے کی وجہ سے بہت سے معاملات دھندلا جاتے ہیں اور قوم تک ان کی صحیح تصویر نہیں پہنچ پاتی ۔اس دورے کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے ۔چین پاکستان کی مشکلات کو سمجھنے والا دوست ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حوالہ سے چین کی جانب سے کبھی منفی تاثرپیدا نہیں ہونے دیا گیا ۔تاہم پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کے بعد معاملات تبدیل ہونا شروع ہوئے ۔خطے میں جن قوتوں کو یہ منصوبہ قابل قبول نہیں تھا یا وہ عناصر جو اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کو ترقی کرتے دیکھنا نہیں چاہتے تھے انہوں نے اس منصوبے کے خلاف مختلف جہتوں سے وارکرنا شروع کیے اور ان میں ایک جہت دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور پاکستانی قوم کو چین سے بدظن کرنا بھی شامل ہے۔اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ موجودہ حکومت میں کچھ وزرا ء کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کا سبب بنے ۔بنیادی طور پر اس دورے کے دوران ان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بھی مددملی جو بعض غیر ذمہ دارانہ خبروں اور بیانات کے ذریعے پیدا ہوئیں ۔ان خبروں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ موجودہ حکومت پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے حوالہ سے تحفظات کا شکار ہے اور شاید کچھ عرصہ کے لیے یہ منصوبہ منجمند یا رول بیک کیے جانے کا امکان بھی ہے ۔اسی طرح اس منصوبے میں سعودی عرب کو شامل کیے جانے پر بھی متضاد آراء سامنے آئیں جس میں یہ بھی کہا گیا کہ شاید چین کو اس حوالہ سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم چین نے اس کو مسترد کر دیا ۔چین نے واضح طور پر کہہ دیا کہ اس منصوبے میں توسیع پر اسے کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے ۔وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کے بعد یہ آراء سامنے آرہی تھیں کہ چین اس پر تحفظات رکھتا ہے کیونکہ اس وقت عالمی سطح پرسعودی عرب کو مکمل طور پر امریکی کیمپ میں سمجھا جا رہا ہے ۔ اس کیمپ میں چین کی مخالفت واضح طور پر موجود ہے ۔چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی سے امریکہ سمیت یورپ کے کئی ممالک پریشان ہیں ۔عالمی منڈی میں چین کی معیشت دیگرمسلسل بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی جگہ بناچکی ہے ۔اسی سے امریکہ سمیت دیگر ممالک خائف ہیں ۔اس لیے پاک چین معاشی تعلقات مزید اہمیت اختیار کر چکے ہیں ۔سعودی عرب سے واپسی کے بعد بعض میڈیا میں چین کو باقاعدہ اکسانے کی کوشش کی گئی کہ سعودی عرب کے شامل ہونے سے امریکہ اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے تاہم چین نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی شمولیت کا خیرم مقدم کیا جس سے یہ منفی پراپیگنڈا ناکام ہوگیا۔ 
دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو ڈالر کی بجائے چینی کرنسی میں کرنے کا اقدام اس دورے کا سب سے کامیاب پہلو ہے ۔چین کا مقام اس وقت دنیا میں دوسری بڑی معیشت کا ہے تاہم پہلی پوزیشن کے لیے بھی اس کی کوششیں جاری ہیں۔اس کے لیے چین کہ یہ خواہش ہے کہ اس کی کرنسی بھی وہی پوزیشن حاصل کر لے جو ڈالر کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین برکس سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارت اپنی کرنسی یوآن کے ذریعے کرنے کا خواہش مند ہے ۔آئی ایم ایف کی جانب سے چین کی کرنسی کو پہلے ہی پانچویں پوزیشن پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چین کے پاس تین ہزار ارب ڈالر سے ذیادہ کے ذر مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جو امریکہ کے ذرمبادلہ کے ذخائر سے کہیں ذیادہ ہیں ۔چین کی مقامی کرنسی میں تجارت کرنے سے پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو جائے گا ۔اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم مسئلہ اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرنا ہے کیونکہ اسی کی وجہ سے ذر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آرہا ہے ۔چین کے ساتھ تجارت میں پاکستان کو 13ارب ڈالر کے خسارے کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لحاظ سے یوآن میں تجارت ، برآمدات میں اضافہ اور ٹیرف میں کمی جیسے اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر ہو جائے گی ۔چین پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر چکا ہے جس کی وجہ سے وہاں صورتحال کافی بہتر ہو گئی ہے ۔ان اقدامات کے سبب یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہ دورہ کامیاب رہا ہے جہاں تک مختصر مدت کے لیے مالیاتی پیکیج کا تعلق ہے توچین نے اس کے لیے بھی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی سطح پر بات چیت کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے لیے چین نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو جہاں بھی ضرورت پڑے گی چین وہاں ساتھ ہو گا۔

24 total views, 6 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y83za8gs
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *