پانامہ گیٹ فیصلہ۔۔شیر اور بکری

Print Friendly, PDF & Email

سکول کے زمانے میں ایک کہانی پڑھی تھی دھندلی سی یاد آرہی ہے آگے پیچھے ہوجائے تو معافی۔یہ کہانی شیر اور بکری کی ہے شیر اور بکری کی بہت ساری کہانیاں ہیں ۔یہ کہانیاں بچوں کے لئے لکھی جاتی ہیں تاکہ بچے ان سے سبق حاصل کریں ۔اور بچوں کو سبق اس لئے پڑھایا جاتا ہے کہ جب وہ بڑے ہو جائیں تو ان کہانیوں کے انجام سے سبق سیکھتے ہوئے زمانے کی چالوں کو سمجھیں۔لگتا ہے کہ پاناما گیٹ کے معزز جج صاحبا ن نے بھی شیر اور بکری کی اس کہانی کو ضرور پڑھ رکھا تھا ۔ناہلی کے فیصلے کی جو وجہ بتائی گئی ہے اس سے تو یہی ہی لگتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔۔۔اس بات کا انکار نہیں کیا گیا کہ جواب دہ نمبر 1 کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ کے سربراہ کے طور پر تنخواہ کے مستحق تھے، لہٰذا ان کا یہ بیان کہ انہوں نے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی، یہ قرار نہیں دے سکتا کہ ان کی تنخواہ واجب الوصول نہیں ہے، لہٰذا یہ ایک اثاثہ ہے۔ جب ایک غیر وصول شدہ تنخواہ واجب الوصول ہونے کی بناء پر ایک اثاثہ تھی تو جواب دہ نمبر 1 کو اسے 2013 کے عام انتخابات میں عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12(2)(ف) کے تحت اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کرنا چاہیے تھا۔ چوں کہ جواب دہ نمبر 1 نے مندرجہ بالا اثاثوں کو ظاہر نہیں کیا، اس لیے یہ جان بوجھ کر غلط اقرارنامہ جمع کروانا اور اوپر بتائے گئے قانون کی خلاف ورزی ہے، چنانچہ وہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 99 (1)(ف) اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی شق 62 (1)(ف) کے تحت صادق نہیں ہیں۔” — سپریم کورٹ کے عملدرآمد بینچ کا وزیرِ اعظم کو نااہل کرتے ہیں۔۔۔۔ بچپن میں یاد کیا ہوا سبق یا پڑھا ہوا زندگی کے کسی موڑ پر یاد آہی جاتا ہے اور شائد یہی وجہ ہے پانامہ گیٹ فیصلے کے بعد میرے ذہن میں بھی شیر اور بکری کی کہانی ابھری ۔ کہانی پڑھ کر خود ہی یہ بات اخذ کریں کہ جب انسان پہلے ہی ایک ارادہ کرے کہ بس کسی کو منظر سے باہر کرنا ہے تو پھر ساری دلیلیں بے کار اور بے سود ہو جاتی ہیں ۔کہانی کچھ یوں ہے
ایک چشمے سے شیر اور بکری اکهٹےپانی پی رہے تهے شیر نے بکری سے کہا تم پانی کو گندا کیوں کر رہی ہو بکری نے جواب میں شیر سے کہا میں تو نیچے سے پانی پی رہی ہوں اوپر سے آپ پانی پہ رہے ہو تو پانی میں کس طرح گندہ کر سکتی ہوں شیر لاجواب ہوکر چپ ہو گیا تهوڑی دیر بعد پهر شیر نے بکری سے کہا تمهارے دادا نےمیرے دادا کو کیوں مارا تها بکری نے شیر سے کہا اگر مجهے کهانا ہی ہے تو ویسے کهالو اتنے بہانے کیوں ڈهوند رہے ہو.۔۔۔۔اب اس کہانی کے بعد کسی تفصیل کی ضرورت باقی ہی نہیں بچتی ۔

93 total views, 2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y86rxkx2
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...