مکالمہ

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: آصف خورشید رانا، اسلام آباد
ہمارے معاشرے میں عام طور پر مکالمہ کا رواج بہت ذیادہ نہیں ہے اور جہاں کہیں کسی خاص اور حساس ایشوز پر مکالمہ کا آغاز ہوتا ہے وہاں مقصد مکالمہ کا فروغ دینا شاید نہیں ہوتا۔پاکستان کا معاشرہ مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہے جس میں بہت سے مسائل حساس تصور کیے جاتے ہیں ۔ معاشرے میں مختلف طبقات کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا ء کے باعث بحث کی بجائے مکالمہ کو فروغ دینے کی اشد ضرورت موجود ہے ۔بحث کا کلچر فروغ پانے سے طبقات کے خلا میں مزید اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کی ایک بڑی مثال ہمارے سامنے ہر شام چھے بجے کے بعد مختلف ٹی وی چینلز پرہونے والے ٹالک شوز ہیں جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنا اپنا موقف دینے کے لیے مدعو کیے جاتے ہیں تاہم یہ ٹالک شوز مجموعی لحاظ سے منفی اثر ڈالتے ہیں اور ان کا اثر سوشل میڈیا پر بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ دوسری طرف سوشل میڈیا کے آزادی نے بھی مکالمہ کی بجائے بحث کو ذیادہ فروغ دیا ہے ۔گزشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں مختلف اداروں کی جانب سے مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے مختلف سطح پر کوششوں کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے کافی مثبت اثرات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں تاہم یہ کوششیں اس پیمانے پر نہیں ہورہیں کہ معاشرے پر اثر انداز ہو سکیں البتہ یہ خوش آئند ضرور ہے۔ 
پاکستان انسٹیوٹ آف پیس سٹڈیز نے جہاں مکالمہ کو فروغ دینے کی کوشش کی وہیں کچھ ایسے حساس موضوعات کو منتخب کیا جہاں شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔”مکالمہ پاکستان 2019” بھی اسی قسم کا ایک پروگرام تھا۔ایک روزہ مکالماتی پروگرام میں پانچ نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ ان نشستوں میں خاص طور پر ایسے موضوعات کا اہتمام کیا گیا تھا جس پر شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے تاہم مکالماتی سیشن اس بات کا اہتمام تھا کہ اختلاف رائے کے باوجود اگراحترام رائے ملحوظ خاطر رکھ کر ایک دوسرے کی بات کو سنا جائے تو یہ ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کی بجائے آگے بڑھنے کے کئی مواقع موجود ہیں ۔ مذہب و ریاست کے باہمی تعلق، قومی سلامتی کے تصور، پارلیمان کی حیثیت اور اس کا کردار، خارجہ تعلقات اور شناخت و یکجہتی جیسے متنوع اور حساس موضوعات کو منتخب کر کے بحث کو بندگلی سے نکالنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی گئی تھی تاکہ ان پر باہمی گفتگو کے ذریعے کسی اتفاق رائے پرپہنچا جا سکے یا کم از کم ان حساس موضوعات پر رائے عامہ میں بہتر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اگرچہ مکالمہ کے دوران کئی مقامات پر مقررین نے اسے بحث میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی جس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بحث کرنے اور بحث سننے کا ہی رواج ہے۔ اس لیے بعض اوقات یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید ہم ایک ایسے ہی کسی ٹالک شو میں پہنچ گئے ہیں اور اب اسے سامنے بیٹھ کر دیکھ اور سن رہے ہیں ۔
مکالمہ پاکستان کا دوسرا سیشن قومی سلامتی کے ایشو پر تھا جس میں سوال یہ تھا کہ کیا پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ ہے؟ اس کا جواب دینے کے لیے شرکاء گفتگو فرحت اللہ بابر، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور جنرل(ر) امجد شعیب موجود تھے۔حاظرین کی بڑی تعداد موجود تھی جو ان کی گفتگو سننے کے لیے پہنچی اس میں سیاستدان سابق بیوروکریٹس، سابق ڈپلومیٹس کے علاوہ طلباء شامل تھے۔یہ ایک دلچسپ مکالمہ تھا جس میں پرویز ہود بائی اور فرحت اللہ بابر نے جنرل صاحب کو آڑے ہاتھوں لینے کی پوری کوشش کی۔تاہم جنرل صاحب بھی پکڑائی نہ دینے کو کوششوں میں رہے۔ ایک موقع پر ہود بائی نے کہا کہ ہم فوج سے محبت کرتے ہیں اگر وہ اپنے کام میں لگی رہی جو ملک کا دفاع ہے۔ گھرکے چوکیدار کا کام مالک بننا نہیں بلکہ اس کی حفاظت کرنا ہوتا ہے لیکن ہو دبائی سے جب کبھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نیوکلیئر فزکس کے پروفیسر ہیں تو آپ کا کیا کام ہے کہ آپ اسٹریٹجک ایشوز یا مذہب پربات کریں تو وہ غصے میں آجاتے ہیں۔حالانکہ ایک نیوکلیئر فزکس کے پروفیسر ہونے کے باوجود مذہب ، تاریخ اور نظریہ پاکستان پرجب وہ بات کرتے ہیں تودیکھنے والے جان لیتے ہیں کہ موصوف مذہب ،تاریخ اور نظریات کا کیا حال کررہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ دل کے مریض کا آپریشن کسی پلمبر سے کروایا جا رہا ہے۔ ایک سوال بہت ہی مزیدار اور وہ سوال شاید اکثر عوام کے دل کی آواز تھا۔سوال یہ تھا کہ فوج میں جانے کے لیے ایک طریقہ کار طے ہے اور عوام میں سے کوئی بھی اس طریقہ کار کے مطابق فوج میں کسی بھی مقام تک جاسکتا ہے لیکن سیاست میں یہ معاملہ نہیں ہے۔۔جمہوریت عوام کے لیے عوام کے ذریعے ہونے کے باوجود شاید ایک عام آدمی تمام امتحانات پاس کرلیں ہر طرح کی محنت کرلے عوام کی خدمت کرلے لیکن ایک سو سال میں بھی وہ نہ تو حمزہ شہباز بن سکتا ہے نہ بلاول بن سکتا ہے۔پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کی وجہ سے کئی اطراف سے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اس لیے اسے سیکورٹی سٹیٹ قرار دیا جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے لیکن جس پیرائے میں یہ بات کی جاتی ہے وہ عام طور پر درست نہیں ہوتا۔ اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ کسی بھی دور میں فوج پارلیمان کو کام کرنے نہیں دیتی تو یہ سوال پھر بھی موجود رہے گا کہ کیا فوج پارلیمان کوفلاح و بہبود کے کاموں سے بھی روکتی ہے تو اس کا جواب نفی میں ہی ہو سکتا ہے ۔ صحت ، تعلیم ، صاف پانی کی فراہمی ، روزگار اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول بنانا ایسے کام ہیں جس میں کسی طور پر بھی فوج کا دباؤ نہیں ہوسکتا۔ اس کا جواب پارلیمان ہی دے سکتی ہے ۔ اسی طرح ایک اہم سوال یہ بھی موجود ہے کہ آخر جمہوریت کمزور ہونے پر عوام کو تو سہولتیں کی فراہمی رک جاتی ہے لیکن پارلیمان میں بیٹھنے والے چند خاندانوں کے اثاثے کیوں بڑھتے جاتے ہیں ۔ آخر کیوں پی آئی اے ، ریلوے ، سٹیل مل سمیت تام بڑے بڑے ادارے خسارے میں جارہے ہیں لیکن سیاستدانوں کے کاروبار کبھی خسارے میں نہیں جاتے۔یہ سوالات عام آدمی کے ذہنوں میں موجود ہیں ۔ اس لیے جہاں سول ملٹری تعلقات کے تناؤ پر مکالمہ کی ضرورت ہے وہاں ایک مکالمہ سیاستدانوں کا قوم کے ساتھ بھی ہونا چاہیے ۔عوام سیاستدانوں کو ہر موقع پر سنتی ہے ٹی وی پروگرام، سیاسی جلسے ، اخبارات سمیت ہر جگہ سیاستدانوں کی بات عوام تک پہنچ رہی ہے لیکن سیاستدان عوام کی سننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز جہاں مختلف حساس موضوعات پر مکالمہ کے فروغ پر مبارکباد کا مستحق ہے وہاں یہ کوشش بھی کی جائے کہ عوام کا مکالمہ سیاستدانوں سے کروایا جا ئے جن کو وہ منتخب کر کے اپنے مسائل کے حل کے لیے پارلیمان میں بھیجتے ہیں ۔ عوام کے ٹیکسوں کا ایک بڑا حصہ ان پر خرچ ہوتا ہے پھر عوام ان سے سوال کیوں نہیں کر سکتی اس لیے ایک موقع عوام کو بھی دیا جانا چاہیے کہ جب وہ کسی کو منتخب کر لیتے ہیں تو پھرپانچ سال کڑھنا ان کا مقدر ہی کیوں ۔ اس سوال پر مکالمہ کیا جانابھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

306 total views, 6 views today

Short URL: //tinyurl.com/y3uggujv
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *