ماؤں کا۔۔۔ عالمی دن

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: حفیظ خٹک
حقیقت یہ ہے کہ سال کا ہر اک دن ، ہر اک رات ،لمحہ و پل پل ماؤں کا ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر جس طرح مختلف موضوعات کو اہمیت دینے کیلئے عالمی سطح پر ایک دن منا لیا جاتا ہے ، اسی طرح ماؤں کے اہمیت کو ان کی عزت و عظمت کو مزید اجاگر کرنے کیلئے بھی ایک دن منایا جاتا ہے ۔ تاریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو 1908میں پہلی بار ماؤں کا عالمی دن منایا گیا جس کی اپنی اک الگ تاریخ ہے ۔ تاہم منائے جا نے والے تمام ایام کی اپنی جگہ پر اہمیت ہے لیکن اس دن کی اہمیت و حساسیت اس کے لئے جذبات نہ قابل بیاں و تحریر ہیں ۔ 
ماں اولاد کو 9ماہ اپنے جسم میں رکھتی ہے یہ نو ماہ کا وقت وہ کس انداز میں گذارتی ہے ان احساسات کو اک ماں ہی سمجھ سکتی ہے۔ ماں بننے کے بعد اس اولاد کی تربیت کے ابتدائی چند برس وہ کیسے ، کس طرح سے اس کا خیال رکھتی ہے اور اس کے بعد بھی ماں کی محبت ختم تو لفظ ہی غلط ہے کم تک نہیں ہوتی ، وہ ماں تمام عمر اپنی اولاد کواسی طرح چاہتی اور پیار کرتی ہے جس کو سمجھ جانا ازخد ضروری ہے ۔ 
اللہ رب العزت اس کائنات کا خالق و مالک ہے اور وہ انسان سے بے پناہ انسیت و محبت کرتا ہے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی 70ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کی محبت ہے کہ جس کا پتہ انسان کو اس وقت لگتا ہے کہ جب و ہ محسوس کرتا ہے۔ 
انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ مضبوط رشتہ والدین کا ہوتا ہے کہنے کو تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر رشتہ ہی مظبوط ہوتا ہے لیکن ان کا پتہ بھی اس وقت لگتا ہے جب کوئی اپنا بچھڑتا ہے۔ بچھڑنے کا درد بھی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور یہ درد اس وقت اور بھی اذیت ناک ہوجاتا ہے کہ جب اپنا کوئی بچھڑ جائے اور یہ معلوم بھی نہ ہو کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اور اگر زندہ ہے تو ہے کہاں پر ۔ برسوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کام کرنے والی امنہ مسعود جنجوعہ نے نہایت ہی جذباتی انداز میں کہا کہ کسی اپنے بچھڑنے کا احساس اس وقت ہوتا ہے جس وہ آپ سے بچھڑ جائے اور آپ کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے ، زندہ ہے یا نہیں ؟ ان چند جملوں کے بعد ان کے جذبات انہیں اور الفاظ کی ادائیگی سے روکتے رہے۔ امنہ مسعود جنجوعہ جو گذشتہ بار برس سے اپنے لاپتہ شوہر کو تلاش کر رہی ہیں اور ان کی اس تلاش کے نتیجے میں 850سے زائد افراد اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں لیکن ان کا اپنا شوہر ابھی تک نہیں ملا ہے ۔ 
ماں کا یہ عالمی دن آج مظلوم ماؤں کے نام ہے جو اس وطن عزیز میں بھی ہیں اور اس کے ساتھ شام ، مصر ، عراق، فلسطین اور کشمیر سمیت بھارت و دیگر ملکوں میں ہیں وہ مائیں کہ جو اپنی اولاد سے اسی طرح محبت و انسیت رکھتی ہیں جس طرح ترقی یافتہ ممالک کی مائیں رکھتی ہیں ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ و دیگر این جی اووز ایسے ایام میں ترقی یافتہ ممالک نظر آتے ہیں انہیں مظلوم ملکوں میں مظلوم مائیں نظر نہیں آتی ہیں ۔ کشمیر جہاں بھارت کی 7لاکھ فوج مظالم ڈھارہی ہیں انہیں اپنے کارناموں میں مظلوم بنتی مائیں نظر نہیں آتی ، ان بھارتیوں کو اپنی فلموں میں تو انسانیت کا پرچار کرنا اور اسے دیکھانا ضرور آتا ہے لیکن ان کا عمل یکسر مختلف ہے ۔ کشمیر میں مائیں بھی اسی ایک دن ہی سخی دنیا بھر کی ماؤں سے اور ان کے بچوں سے یہ فریاد کرتی ہیں کہ انہیں یاد رکھا جائے اور ان کے اوپر ہونے والے مظالم کو ہٹانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ وطن عزیز میں قوم کی ایک بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ماں ہے کہ جو برسوں سے اپنی بیٹی کی راہ تک رہی ہے اور ان کی بیٹی جو کہ ناکردہ گناہوں کی سزا امریکی جیلوں میں کاٹ رہی ہیں ۔ ملک کے وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی ماں اور بیٹی تو یاد ہے لیکن اس موقع پر بھی انہیں ڈاکٹر عافیہ کی بیٹی مریم اور ان کی ماں عصمت صدیقی یاد نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کو آخریہ مائیں اور ان ہی جیسی ہزاروں لاکھوں مظلوم مائیں نظر کیوں نہیں آتیں؟ 
ماں کی محبت کا تو یہ عالم ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنی ماں کو کینسر کے مرض میں آخری سانسوں میں جاتے دیکھتا ہے لیکن وہ کچھ نہیں کرپاتا ہے ۔ اس دن وہ یہ طے کرتا ہے کہ وہ کینسر کے علاج کا ہسپتال اپنی ماں کے نام پر ہی قائم کرے گا پھر اس راہ پر وہ بڑھتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ملک میں دو ہسپتال بنانے کے بعد آج شہر قائد میں عمران خان اپنی ماں کے نام پر تیسرا کینسر ہسپتال بنانے جارہے ہیں ۔ 
ماں ، ماں تو محبت کا نام ہی نہیں جذبہ ہے جو کہ اپنی اولاد کے گھر جلد آنے کی فکر میں سوتی نہیں ، اولاد کے گھر آجانے کے بعد وہ سوجاتی ہے ۔ درد اولاد کو ہوتاہے تو اسی ماں کے آنسو نکلتے ہیں ، انہیں وہی ماں ہی محسوس کرتی ہے۔ بچوں کو اگر چوٹ کسی بھی وجہ سے لگ جاتی ہے تو وہ بچے اس چوٹ کو اپنی ماؤں سے چھپاتے ہیں لیکن جونہی ان کی ماں کو علم ہوتا ہے تو وہ فوری علاج کے ساتھ اس بچے کو بھی ڈانٹتی ہیں ۔ پھر ایسا بھی وقت آتا ہے کہ وہی اولاد اپنی اسی ماں کو وقت نہیں دے پاتی ہے ، حق سمجھتے ہوئے بھی وہ اس حق کو ادا نہیں کرپاتی ہے اور ایسا کرنے کو اپنی مجبوری سمجھتی ہے لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے وہ اس لمحے بھی اسے مسکرا ئے دیکھتی ہے ۔ہاں اولاد بھی اسی ماں سے محبت کرتی ہے بسا اوقات وہ اپنی ماں سے کہتے ہیں کہ جب جانا ہے دور بہت دور اور وہ بھی اکیلے تو اس وقت اکیلے نہیں جانے دیتا ہے بلکہ اس لمحے ماں کے ساتھ جانے کی بات اور ضد کرتا ہے ۔ لیکن وہ ماں اکیلا چھوڑ جاتی ہے اور وہ اولاد کے اس لمحے آنکھوں سے نہ رکنے والے آنسو رواں ہوتے ہیں ۔وہی اولاد جو کبھی ماضی میں یہ کہا کرتے تھے کہ ماں تو نہیں ہوگی تو یہ بتا کہ میری کون کرے گا پروا۔۔۔ماں کی عظمت کو اس کی حرمت کو محسوس کرنے ضرورت ہے ۔ماؤں کا عالمی دن یہ ایک دن نہیں ہے بلکہ ہرپل اور ہر دن ماں کادن ہے ۔ 

177 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/ycf6e6sa
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *