لینڈ مافیہ اور ڈی سی ہائی اسکول۔۔۔۔ تحریر: عمران طاہر، لاہور

Print Friendly, PDF & Email
میں گزشتہ دو دنوں سے اپنے آبائی قصبے چونڈہ میں موجود ہوں آپ میں سے بہت سارے دوستوں نے شائد یہ نام پہلی بار سنا ہے مگر میری قارئین سے درخواست ہے آپ پریشان نہ ہوں میں اس کا محل وقوع آپکو بتا دیتا ہوں یہ قصبہ ضلع سیالکوٹ اور تحصیل پسرور میں واقعہ ہے سیالکوٹ 25 کلومیٹر جبکہ پسرور 8کلومیٹر کی مسافت پر موجود ہے ۔چونڈہ وہ قصبہ ہے جہاں پر پر ورلڈ وار ٹو کے بعد 6 ستمبر1965 کوٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی۔ یہاں کے لوگ پڑھے لکھے اور سیاسی شعور سے کافی حد تک آشنا ہیں۔2بوائیز ہائی اسکول بوائیز اینڈ گرلز ڈگری کالجز اور ایک آرمی پبلک اسکول بھی موجود ہے۔ گورئمنٹ ڈی سی ہائی اسکول گزشتہ ایک صدی سے تعلیمی دیپ سے معاشرے کو منور کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ بھی بتاتا چلو کے یہ مہا راجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے شیر سنگھ کا قلعہ تھا نبی پاک ﷺ کے موئے مبارک اسی قلعے میں کچھ عرصے کے لیے رکھے گئے تھے جو اب لاہور بادشاہی مسجد میں موجود ہیں بادشاہی مسجد میں لگے موئے مبارک کی ہسٹری اور قیام گاہ کا سفر پڑھے تو چونڈہ کا نام سرفہرست ملے گا۔1886میں قلعہ اسکول کی شکل اختیار کر گیا۔تاریکیوں کے اُس دور میں بننے والے اسکول نے پاکستان کے بڑے ناموں کو جنم دیا جن میں معروف ماہر معاشیات ڈاکٹرمحبوب الحق سابقہ وزیر خزانہ پاکستان،ایڈمرل افتخاراحمد سروہی،جسٹس شاہد انور باجوہ سندھ ہائیکورٹ جیسے درخشندہ ستارے قابل ذکر ہیں۔بوائیز ڈی سی ہائی اسکول کی 60کنال کی زمین جو کہ بڑی گراونڈ کے نام سے منسوب ہے گزشتہ کچھ دن سے گھمبیر تنازعے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ وقت نے جب جب کروٹ لی،پاپولیشن میں اضافہ ہوا اردگرد کے لوگوں نے چونڈہ میں آکر زمنیں خریدی اور مکانات تعمیر کر لیے ۔لینڈ ریکارڈ کے مطابق سال1912خسرہ نمبر1667کے مطابق ودہاوا ولد گھسیٹا ،قوم جٹ بوٹا ولد ہری چندو گنڈا سنگھ،قوم جٹ، گوچرن سنگھ ولد منگل سنگھ قوم جٹ رقبہ40کنال 15مرلے ڈی سی ہائی اسکول کو بطور عطیہ کرتے ہیں۔ چونی لعل ، امام پرکاش،پسران موہن لعل ،بشمیر، اور اندرناتھ قوم کھتری رقبہ17کنال5مرلے خسرہ نمبر 1668، 1669 ، 1670 ڈی سی ہائی اسکول کوعطیہ کی تھی۔ ان میں سے ایک فرد جو کہ 2کنال اور 1مرلے کا تھا میسر نہیں آسکا۔ ماضی کے پٹواریوں اور لینڈ مافیاکی ملی بھگت سے زمین کو اندر ہی اندر اونے پونے داموں سے فروخت کیا جاتا رہا تورہی سہی کسر لوگوں نے پوری کر دی کسی نے مرلہ ، تو کچھ نے اس سے زیادہ اپنی تحویل میں لے کر کھوہ ، ڈیرہ ، حویلی اور اب گھر کی صورت قبضہ کر لیا اور اب وہاں مستقل سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ڈی سی ہائی اسکول کی رجسٹری اور نقشے کے مطابق جگہ 60کنال 1مرلہ ہے رقبے کا حجم کم ہو کر 60کنال 1مرلے سے 34کنال رہ گیاہے ۔اسی بڑی گراونڈ میں آل پاکستان فلڈ لائٹ کرکٹ میلہ بھی سجتا رہا ہے جو گزشتہ تین سالوں سے ملکی حالات نہ سازگار ہونے سے منعقد نہیں ہو سکا۔ڈی سی ہائی اسکول کے قابل اساتذہ صاحبان ا س کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح بچوں کے لیے کھیل کامیدان لینڈ مافیہ کے نرغے سے واگزار کروایا جاسکا۔ کیونکہ تعلیمی اور جسمانی نشوونما کے لیے میدانِ کھیل لازم ہے اسکالرز لکھتے ہیں جہاں کھیل کے میدان نہیں ہوتے وہاں تندرست دماغ جنم نہیں لیتے۔ مگر اساتذہ26کنال اراضی جو کہ قبضہ مافیہ کی اب سلطنت ہے اُس کو چھروانے کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ گراونڈ کی چار دیواری جاری ہے مگر کچھ لو گ اسٹے آڈر لے کر کباب میں ہڈی کا کرادار ادا کر رہے ہیں۔ سول سوسائٹی اسوقت اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہے مگر لینڈ مافیہ ڈرانے دھمکانے اور اوچھے ہتھکندے استعمال کر رہی ہے اس مسلئے کے حل کے لیے سول سوسائٹی کی جانب سے ایک 5رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں شازیہ الہی سیٹھی(سابقہ ناظم) سماجی کارکن وثیق الرحمن، ناصر احمد باجوہ، رفیق احمد باجوہ غلام عباس انصاری(صدر کریانہ مرچینٹ ایسویسی ایشن) اور مشتاق احمد بٹ شامل ہیں۔ 5رکنی کمیٹی ڈی سی او سیالکوٹ ندیم سرورسے ملاقات کرے گی تاکہ معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹایا جاسکے۔چونڈہ شہر کی اکلوتی ولاڈلی گراونڈ سابقہ ایم پی اے سید اختر حسین رضوی کی مرہون منت اسٹیڈیم کے لیے منظور ہو چکی ہے جسکو عملی جامعہ موجودہ ایم پی اے رانا لیاقت حسین بھلور پہنائے گے۔ اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے قومی خزانے سے 9کروڑ روپے کا فنڈ بھی جاری ہو چکا ہے۔ایک طرف جسٹس شاہد انور جیسے ہونہار سٹوڈنٹ ہیں جن کا ناتا آج بھی اپنے مادر علمی سے جڑا ہوا ہے انہوں نے ک رواں سال اسکول میں مزید کمرے بھی تعمیر کروائے تاکہ مستقبل کے معمار تعلیمی پیاس بجھا سکے۔ جبکہ دوسری جانب چونڈہ شہر کے طاقتور لینڈ مافیہ ہے جو تعلیم دشمن کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ارباب اختیار وزیر اعلی پنجاب، ایجوکیشن منسٹر، ڈی سی او سیالکوٹ ندیم سرور اور اسسٹنٹ کمشنر توقیر الیاس چیمہ سے گزارش ہے کہ معمہ جلد حل کیا جائے ۔ خدشہ طاہر کیا جا رہا ہے کہ لینڈ ماٖفیہ کوئی ایسا ردعمل نہ کر دے جس سے شہر کا امن تباہ اور فضاء سوگوار ہو۔ سول سوسائٹی اور اساتذہ کی فریاد میں آپ تک پہنچا رہا ہو ں اُمید ہے جلد کو ئی مثبت اُمید کی کرن پھوٹے گی۔

962 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/js7538f
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *