فیصلہ محفوظ

Print Friendly, PDF & Email

فیصلے کا اعلان بعد میں کیا جائیگا ۔یہ وہ الفاظ  یا جملہ  ہے  جو اکثر عدالتیں  دلائل اور جرح مکمل کرنے کے بعد  فیصلہ تحریر کرنے کے بعدفیصلہ  کسی اور دن  سنانے کے لئے  عدالتی کاروائی  موخر  کرتے ہوئے   لکھتی ہیں ۔اور یوں  وہ فیصلہ  محفوظ ہوجاتا ہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے؟ اس بارے ماہرین قانون ہی بہتر  جان یا بتا سکتے ہیں۔لیکن  کہا یہ جاتا ہے کہ   عدالتی فیصلے اس وقت محفوظ ہو جاتے ہیں جب کسی  نتیجے پر نہیں پہنچا جاتا۔ فیصلے مختلف نوعیت کے ہو سکتے ہیں  فتح و شکست کے کامیابی و ناکامی کے، جیت اور ہارکے اور انصاف کے   لیکن  جو  بھی ہیں   فیصلہ  جب کیا جاتا ہے یا فیصلہ  جب آتا ہے تو دو چیزیں   خوشی اور غم کی کفیات نمایا ںہوجاتی ہیں  ۔جیتنے والے کے لئے فیصلہ خوشی کا باعث اور ہارنے والے کے لئے  دکھ اور تکلیف۔دنیا میں جتنے بھی  انسان بستے ہیں خوشی اور غم یا دکھ سب ہی اس کیفیت سے دو چار ہو جاتے ہیں  اس لئے کہ بچپن سے لیکر مرتے دم تک  گھر سے لیکر عدالت تک  یا روز مرہ زندگی میں مختلف فیصلوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے جو اس کے لئے خوشی اور دکھ کا باعث بنتے ہیں ۔یہ تمہید مجھے اس لئے باندھنی پڑی ہے کہ دنیا کے  اس بازار میں یا اس  نگری میں  ایک نقشہ   اکہتر سالوں سے   سب  دیکھ رہے ہیں  کہ ایک ریاست جس کا نام   جموں و کشمیر   ہے دو ملکوں  پاکستان اور ہندوستان کے درمیان وجہ تنازعہ  بنی ہوئی ہے۔ اس کی وجوہات سے سبھی واقف ہیں  اس لئے ان وجوہات کا ذکر یہاں بے محل ہے۔بتانا صرف یہ ہے کہ جب پاکستان اور ہندوستان دو ملک بن گئے تو  ریاست جموں و کشمیر  کا اپنا ایک الگ تشخص اور وجود برقرار تھا اور وہ ہندوستان یا پاکستان  کسی میں شامل نہیں تھا اور ایک فیصلے کے مطابق اس ریاست کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار سے پاکستان یا ہندوستان سے الحاق  کر سکتے ہیں ۔لیکن ہوا کیا ۔ان دو ملکوں کی آپس کی چپقلش اور لڑائی جھگڑے سے   مرضی  سے الحاق والا فیصلہ  سبوتاژ ہوا اور  پاکستان اور ہندوستان  میں  جنگ چھر گئی جسے تحریک آزادی کشمیر  یا پہلی جنگ 1947 کہا جاتا ہے اور اسی جنگ کے باعث     ہندوستان کے جواہر لال نہرو   بین الاقوامی ادارہ اقوام متحدہ   پہنچے اور  یوں    ایک فیصلہ  ۔یہ کہ ریاست جموں و کشمیر کا فیصلہ  ریاست کے عوام کرینگے محفوظ ہوا۔ اس کو آپ ریاست جموں و کشمیر کا   پہلا محفوظ فیصلہ کہہ سکتے ہیں جو ابھی تک محفوظ ہے۔دنیا کے نقشے میں یا  اقوام متحدہ کے محفوظ فیصلے  یا مقدمہ میں جو نقشہ ریاست کا داخل یا شامل  کیا گیا ہے اس میں   شامل خطے (کشمیر وادی، جموں،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان)  ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر لگتی ہے کہ جب یہ مقدمہ داخل ہوا اس وقت  ریاست جموں و کشمیر کے ان خطوں میں سے آزاد کشمیر گلگت بلتستان پاکستان  کے  اور کشمیر وادی اور جموں   ہندوستان  کے کنٹرول میں  تھے۔اقوام متحدہ کے محفوظ فیصلے کے  مطابق  ابھی مقدمے کا فیصلہ سنانا باقی ہے   جس کے باعث یہ خطے  جو پاکستان اور ہندوستان کےزیر انتظام    ہیں  ۔ ان  دو حکومتوں کے  فیصلوں  کے   جو محفوظ ہی ہوتے ہیں  کی  روشنی میں     زندگی گزار رہے ہیں ۔ جب پاکستان اور ہندوستان  کے درمیا ن 1947 میں جنگ ہو رہی تھی  تو اس وقت  ریاست کے عوام  آزادی کے نام سے ہی اس جنگ میں شریک تھے جس میں پاکستانی حکومت کی بھرپور مدد شامل تھی۔مقصد اس کے پیچھے کیا تھا   پوری ریاست جموں و کشمیر کا حصول۔اور اسی مقصد کے تحت حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر  نام سے ریاست بنائی جس میں گلگت بلتستان  بھی شامل تھا جسے 1949  کے معاہدے کے تحت پاکستانی حکومت نے  مکمل اپنے کنٹرول میں لے لیا اوراس کے بعد  وفاق  اسلام آباد سے  گلگت بلتستان  کے فیصلے  محفوظ  ہوتے رہے ۔قارئین کا حافظہ بڑا تیز ہوتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ان کو  سپریم کورٹ کا فیصلہ 1999  جو ابھی تک محفوظ ہی ہے   یاد ہوگا۔ اس تاریخی  فیصلے  میں جو 28 اپریل 1999 کو لکھ کر محفوظ کیا گیا   تھا جس  میں  اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان  نے   وفاق کو حکم دیا تھا  کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے  چین، روس اور انڈیا  کے بیچ ایک انتہائی حساس خطہ ہے ،اور آئین پاکستان  میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں  جس کے تحت  یہ عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی کہ گلگت بلتستان کو کس طرح کی حکومت د ینیی چاہئے اور نہ ہی ہم ہدایت دے سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ یہ ملک کے عظیم تر مفاد میں نہیں دراصل  یہاں اقوام متحدہ کے زیر نگراں رائے شماری ہونی ہے۔اسی فیصلے میں  پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ناردرن ایریاز (جو اب گلگت بلتستان  کہلاتے ہیں )ریاست جموں و کشمیر کا آئینی حصہ ہے، حکومت پاکستان 6 مہینوں کے اندر یہاں بنیادی حقوق،سیاسی اور انتظامی اداروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ،کاش ہمارے قانونی اور آئینی ماہرین  پاکستان کی اعلیٰ عدالت کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیتے اور اس کی روشنی میں ہی اپنے مطالبات  مرتب  کرتے تو   عدالت کے دئے ہوئے چھ مہنے  میں ہی  اپنے حقوق لے سکتے تھے  اور آج حالات بڑے مختلف ہوتے۔ یہ فیصلے محفوظ اس لئے بھی ہوتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلوں کو محفوظ نہیں کرتے۔ اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک عدالت جو پاکستان کی سب سے  بڑی عدالت ہے وہ گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دیکر اس کو قانونی اور آئینی   حثیت دے چکی ہے لیکن ایک ہم    ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں کی رٹ میں    لگے رہے اور اب بھی  کچھ  اسی رٹ کئے ہوئے سبق کو دہرا رہے ہیں ۔ہمارے نزدیک تو یہ سبق 1999 سے اوٹ آف کورس تھا  اس کا امتحان ہم نے کبھی نہیں دیا ۔  اور وہ  جو ان امتحانوں میں شریک تھے   اب ان کو  معلوم ہوا یا احساس ہوا ہے کہ بھائی   یہ سبق یا مضمون اپنی افادیت کھو چکا ہے اور آنے والے وقتوں میں اس مضمون کی ڈگری رکھنے والے بے روزگاری کا شکار ہو سکتے ہیں ۔۔گلگت بلتستان کے حوالے سے ان اکہتر سالوں کا تجزیہ کیا جائے تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ ہم نے  ہر دور اور  ہر موسم میں  ہوا  کے مخالف سمت ہی پرواز کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایسا کیوں تھا  علامہ  کے شعر

  تندی باد مخالف سے نہ گبھرا  اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے۔

  کا اثر تھا یا ہٹ دھرمی اور ضد ۔ میرے نزدیک  اس کی وجہ علامہ  اقبال سے محبت یا  ان کے اشعار کا اثر نہیں بلکہ   ضد ہٹ دھرمی  ہے جس کو ہم نے اپنا وطیرہ بنایا ، ایک دوسرے کی ٹانگ کھیچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سردار عالم  سے لیکر موجودہ چیف سکریٹری  تک  ہمارا سفر  اب بھی  اسی  طور پر قائم و دائم ہے۔ چمچہ گیری ہمارے رگ رگ میں رچی ہوئی ہے ۔اپنے مفادات اوربڑے صاحب  کو خوش کرنے کے لئے   اپنے ہی بھائیوں کے اندر نفرت کے بیچ  بونے میں ہمارا کوئی  ثانی ملنا مشکل ہے۔تعریف اور ستائش کرنا کوئی گناہ نہیں لیکن تعریف اور ستائش کا  مطلب یہ نہیں  کہ  اپنی عزت نفس مجروح ہو یا  کوئی  تمھیں ذلیل اور رسوا کرے۔ ہمارے ان رویوں نے  ہمیں ذلیل اور خوار کردیا اور  ان ہی رویوں کی بدولت ہم نے حقیقت سے منہ موڑا ہوا ہے اور  اس راستے کو  جس پر چل کر ہم ایک باعزت قوم اور حقوق لے سکتے تھے  اس کو ترک کرکے اس راستے پر قدم  ڈال دئے  جس پر چل کر منزل کُجا   سستانے کے لئے  کہیں سایہ بھی  نہیں تھا، ایسے راستوں میں پیاس  تو لگنی لازمی  ہے اور  اس راستے میں  پیاس اتنی لگی کہ پیاس بجھانے کے لئے پانی پانی کہتے رہے لیکن  کوئی پانی پلانے والا  موجود نہیں  تھا۔ جب راستے کا انتخاب صحیح نہیں ہوگا تو ایسے راستوں میں ایسے واقعات  کا رونما ہونا  کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔ان اکہتر سالوں میں   یہ خوش آئند بات ہے کہ  ایک  بات   تو ہماری سمجھ میں آئی ہے کہ  گلگت بلتستان آئینی اور قانونی لحاظ سے  پاکستان کا حصہ نہیں اور  ریاست جموں و کشمیر کا آئینی اور قانونی حصہ ہے   جس کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے  1999 میں  دیکر  اسے قانونی شکل دی ہے ۔اور اب کی بار  پھر  بنیادی حقوق کا مسلہ  کا کیس  اسی پاکستان کی اعلیٰ عدالت میں پہنچا  جہاں وفاق اور وکلا کے دلائل سنے گئے اور اس کے بعد اس کا  فیصلہ  7 جنوری کو محفوظ کیا گیا ہے۔ اب اس محفوظ فیصلے کی  سنائی کس تاریخ کو ہوتی ہے    اور فیصلہ  کس قسم کا ہوگا   اس کی خبر خدا جانے۔اعلیٰ عدالت نے وفاق سے تین دن کے اندر  چند اٹھائے ہوئے اعتراضات کی وضاحت طلب کی ہے۔چونکہ  عدالتی فیصلہ آنا باقی ہے اس لئے اس کے بارے  متنازعہ امور   کو چھیڑنا مناسب نہیں  لیکن  جسٹس صاحب کے ریمارکس  اور وکیلوں  کے دلائل اور وفاق کے نامکمل  مسودے کی معلومات کی روشنی میں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ  عدالت  پہلے ہی گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ قرار دے چکی ہے اس لئے صوبہ اور عبوری صوبے کی بات   خارج ہی تصور کی جا سکتی ہے کہ ان علاقوں کا پاکستان کا صوبہ قرار دیا جائیگا۔۔دوسری بات  یہ کہ  انتظامی اور عدالتی اصلاحات  کا قوی  امکان ہے کہ موجودہ سیٹ  کو با اختیار بنایا جائے  لیکن  مجموعی طور پر  پاکستان کا ہاتھ اوپر ہی رہیگا۔ یہ بھی امکان ہے کہ آئیندہ سے جو  سیٹ اپ تشکیل پائے وہ  آڈر  سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ  کے ذریعے  اس کا اطلاق کیا جائے۔سوال اب یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ  بنیادی حقوق  کے تحت  دائر ہونے والے اس مقدمے  میں جس کا  فیصلہ محفوظ ہوا ہے فیصلہ آنے کے بعد کیا غریب عوام کے مسائل حل ہونگے یا ان  کی تکالیف و مشکلات  میں مزید اضافہ ہوگا یہ آنے والا وقت ہی بتائیگا۔

150 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y8x3ppnd
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *