غزل: بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے

Print Friendly, PDF & Email

بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہےوقت تو باقی ہے تو کہاں جا رہا ہے
جنوں کی حد کا تعین ہو ہی نہیں سکتاہر ایک “گواہی” کی خاطر لڑے جا رہا ہے
نا تھکنے والا رقصِ بسمل ہے ہر طرفکوئی مر رہا ہے کوئی مارنے جا رہا ہے
سنبھلتا ہی نہیں یہ ذوقِ تماشائی بھیتڑپ رہا ہے قربتِ مرگ ہے آزادی آزادی چلا رہا ہے
عجیب ہے یہ حسینی قافلہ بھی راہیمقتل کی جانب بڑھ رہا ہے اور مسکرا رہا ہے
(خالد راہی)

21 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/yd9ac5wa
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *