عمران خان سن لیں پیپلزپارٹی والے جیلوں سے نہیں گھبراتے ۔شعیب مرزا

Print Friendly, PDF & Email

کراچی: پیپلزیوتھ آگنائزیشن سندھ کے جنرل سیکرٹری شعیب مرزااور ترجمان تیمور علی مہر نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری اور ان کے گھر پرچھاپے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت احتساب کے نام پر سیاسی ٹارگٹ کلنگ میں مصروف ہے، پیپلزپارٹی والے جیلوں سے نہیں گھبراتے مگر جس انداز میں ایک اسپیکر صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کی گئی اور ان کے گھرمیں چھاپے مارے گئے اس سے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کی تزلیل ہوئی ہے اس سلسلے میں نیب افسران کا رویہ سمجھ سے بالاترہے جو بغیرکسی وجہ کے جمہوریت کے رکھوالوں کو گرفتار کیا جارہاہے ،کراچی میں پیپلزیوتھ کے صوبائی دفتر میں ہونے والی ملاقات میں جنرل سیکرٹری شعیب مرزاکا کہنا تھاکہ عمران خان اس ملک میں آمریت کے خواہش مندہیں جن کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی ،اور ویسے بھی تحریک انصاف کی حکومت اب ہتھیار ڈال چکی ہے کہ ان سے اب مزید حکومت نہیں چل پارہی ہے ،ترجمان تیمورعلی مہر کا کہنا تھاکہ حکومت آغا سراج درانی سمیت پیپلزپارٹی کے کسی بھی رہنما کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی مگر یہ طے ہے کہ عمرانی حکومت کی سمجھ بوجھ اب ختم ہوچکی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں عمران خان کی نااہل کابینہ نے جمہوریت کی جڑوں کو بری طرح سے ہلاکر رکھ دیاہے ،انہوں نے کہاکہ عمران خان کی آدھی کابینہ چور ہے انہیں کب ہتھکڈیاں لگائی جائینگی ، اس وقت ملک میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے کہ ڈاکٹراپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں تو کہیں اساتذہ اور صحافی سراپااحتجاج ہیں یہ ہی وجہ ہے حکمرانوں نے جس اندا زمیں اپنی حکومت کی ابتداکی ہے اس نے اس حکومت کو صدی کی بدترین حکومت میں بدل کررکھ دیاہے انہوں نے مزید کہاکہ ایک اسپیکر اسمبلی کی غیر موجودہ میں اس کے گھر پر چھاپے نے جمہوریت کا چہرہ بری طرح سے مسخ کردیاہے ۔پیپلزیوتھ آرگنائزیشن اپنے قائدآصف علی زرداری اور بلاول بھٹوکے ایک اشارے کے منتظر ہیں اور جس دن انہوں نے اس حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر نکلنے کا کہا اس دن پیپلزیوتھ ہراول دستے کی مثال قائم کرتے ہوئے سب سے آگے موجود ہوگی۔

435 total views, 6 views today

Short URL: //tinyurl.com/y5egexgx
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *