قبر کا خزانہ۔۔۔۔ مصنف: فتح محمد عرشیؔ ، پائی خیل

Print Friendly, PDF & Email
رات آدھی کے قریب گزر چکی تھی۔تاریکی ایسی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ ایسے میں قبرستان میں موجود درخت یوں دکھائی دیتے تھے۔ جیسے بدروحیں رقص کر رہی ہوں۔ایسے میں ایک ہیولہ قبرستان میں داخل ہوا اس کے کندھے پر ایک کدال اور تھیلا لٹکا ہوا تھا۔دراصل وہ ہیولہ ایک جیتا جاگتا انسان جمیل تھا۔
جمیل کا خوف کے مارے برا حال تھا۔لیکن مجبوری ایسی تھی کہ اس وقت قبرستان میں آنا ناگزیرتھا۔ اچانک ایک درخت سے ایک پرندہ پھڑپھڑاتا ہوا اُڑا تو جمیل کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا، اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی ۔
ایک بار تو اس کا جی چاہا کہ واپس بھاگ جائے لیکن ’’قبر کا خزانہ‘‘ اس کا انتظار کر رہا تھا۔لہٰذا وہ ہمت کر کے آگے بڑھتا رہا۔اب اس نے تھیلے سے ایک چھوٹی سی ٹارچ نکالی اور اس کی روشنی میں آگے بڑھنے لگا۔قبرستان کے شمالی کونے کے قریب وہ ایک قبر کے پاس رک گیا۔ کتبے پر لکھا تھا ’’دارا ملنگ۔‘‘
اس کے نیچے بھی کچھ لکھا تھا لیکن امتدادِ زمانہ نے اسے بڑی حد تک مٹا دیا تھا۔ جمیل نے ٹارچ ساتھ والی قبر پر اس طرح رکھ دی کہ اس کی روشنی ’’دارا ملنگ‘‘ کی قبر پر پڑتی رہے۔تھیلا کندھے سے اتار کر ایک طرف رکھا اور کدال سنبھال کر قبر کو لحد کی طرف سے کھودنے لگا۔ اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس نے اپنی حالت پر قابو پا لیا۔ آدھے گھنٹے بعد اس کی کدال کسی ٹھوس چیز سے ٹکرائی اور اس نے اطمینان کا ایک طویل سانس لے کر کدال ایک طرف رکھ دی۔ گڑھا تقریباََ تین فٹ گہرا ہو چکا تھا۔ وہ گڑھے میں اُتر گیا اور ہاتھوں سے مٹی ہٹانے لگا۔ چند لمحوں بعد ایک چوکور سی چیز اس کے ہاتھ لگی یہ ایک فٹ لمبا، آٹھ انچ چوڑا اور چھ انچ موٹا لوہے سے بنا ہوا ڈبہ تھا۔ اس پر زنگ لگا ہوا تھا اور چھوٹا سا تالہ تو تقریباََ زنگ آلود ہو کر کمزور ہو چکا تھا۔ تالہ ایک جھٹکے سے ٹوٹ گیا۔ جمیل کے جسم میں سنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ’’قبر کا خزانہ ‘‘ اس کے ہاتھ میں تھا۔ بس چند لمحوں کی دیر تھی۔
*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*
دس سال پہلے کی بات ہے ، جمیل کا شمار ’’غازی پور‘‘ خوشحال گھرانوں میں ہوتا تھا۔ وہ بلا کاسخی اور مہمان نواز تھا ۔ گاؤں میں کوئی بھی آتا ، وہ جمیل کا ہی مہمان بنتا تھا۔ اس کا مہمان خانہ تقریباََ سارا سال آباد ہی رہتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ جب ’’دارا ملنگ‘‘ اس گاؤں میں آیا تو گاؤں والے اسے رات بسر کرنے کے لیے جمیل کے ڈیرے پر ہی لے آئے تھے۔
جمیل کو وہ پہلی ہی ملا قات میں عجیب لگا تھا ۔ پھٹے پُرانے کپڑے،گھنی اور بے ترتیب داڑھی میں گڈمڈ ہوتی ہوئی مونچھیں، ایک ہاتھ میں کافی موٹا ڈنڈا اور دوسرے میں لکڑی سے بنا ہوا کشکول۔۔۔ عمر تقریباََ پچاس سال کے لگ بھگ رہی ہو گی۔ ’’دارا ملنگ‘‘کی شخصیت بڑی پُراسرار لگتی تھی۔
اور پھر گاؤں کی فضا اس کے نعرے سے گونجنے لگی۔۔۔
’’سب دی خیر‘‘
’’جو دے ، اس کا بھلا!‘‘
’’جونہ دے ، اس کابھی بھلا!‘‘
دارا کی شخصیت کی طرح اس کا نعرہ بھی پُراسرار تھا۔
جمیل سے وہ دنیا جہان کی باتیں کرتا رہتا تھالیکن اپنے بارے میں کوئی خاص تفصیل نہ بتاتا تھا۔ بس اتنا کہتا تھا کہ ’’میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔‘‘
’’کہاں سے آئے ہو ؟ کچھ بتاؤ!‘‘ جمیل اسے کہتا۔
’’بس جناب! کچھ نہ پوچھیں کہ کہاں سے آیا ہوں۔۔۔ بس یہ اطمینان رکھیں کہ اب مرتے دم تک آپ کا در نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ وہ مسکراتا تو اس کی پُراسرار شخصیت کچھ اور پُراسرارہو جاتی۔
وقت پر لگا کرُ اڑتارہا اور سات سال بیت گئے۔پھر ایک دن یوں ہوا کہ دارا کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اورایسی بگڑی کہ جان کے لالے پڑ گئے۔ صاف معلوم ہوتا تھا کہ دارا چند دن کا مہمان ہے۔
جمیل نے اسے کہا کہ ’’بندۂ خدا!۔۔۔ اب تو بتا دو کہ کہاں سے آئے ہو؟ اگر خدانخواستہ تم وفات پا جاؤ تو ہم کسے اطلاع دیں؟ اس بھری دنیا میں کوئی تو تمہارا اپنا ہوگا؟‘‘
’’جمیل صاحب!‘‘ دارا نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’اس دنیا میں میرا کوئی اپنا نہیں ۔۔۔ کوئی نہیں۔۔۔‘‘
جمیل خاموش ہو کر رہ گیا۔اس کے پاس کہنے کے لیے رہ ہی کیا گیا تھا؟
’’جمیل صاحب!‘‘ اچانک دارا ملنگ نے کہا۔
’’جی دارا۔۔۔!‘‘جمیل اس پر جھکتے ہوئے بولا۔
’’جمیل صاحب!میں کوئی نیک آدمی نہیں ہوں بلکہ میں بہت گناہگار انسان ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس دنیا سے جاتے جاتے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لوں،جمیل صاحب! میں ایک ڈاکو ہوں!‘‘ دارا نے انکشاف کیا۔
’’کیا؟‘‘ جمیل کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ ’’نہیں! تم جھوٹ بول رہے ہو!‘‘
’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ ہم تین دوستوں نے مل کر ایک بینک میں ڈاکا ڈالا تھا۔ میرے دونوں دوست پکڑے گئے اور میں اپنا حصہ لے کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ میرا اصل نام کامران ہے ۔ دارا ملنگ کا بھیس رچانے کا مقصد فقط پولیس سے بچنا تھا۔‘‘ دارا ملنگ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔ تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔
’’میرا خیال تھا کہ کچھ عرصہ اس بھیس میں گزاروں گااور پھر آرام سے ڈکیتی والی رقم سے عیش کروں گا۔ لیکن افسوس! کہ موت نے مجھے اتنی مہلت نہ دی۔ آپ کو یاد ہے ، میرے پاس ایک چھوٹی سی صندوقچی ہوتی ہے۔ اس میں بینک سے لوٹا ہوا پچاس لاکھ روپیہ ہے۔ جو مجھے جان سے بھی پیارا ہے۔‘‘
’’پچاس لاکھ؟‘‘ جمیل کے منہ سے حیرانی سے نکلا۔
’’جی ہاں!۔۔۔ پچاس لاکھ!‘‘ دارا نے کہا ۔’’ لیکن افسوس۔۔۔ کہ زندگی میں یہ میرے کسی کام نہیں آئے اور اب میں انہیں قبر میں ساتھ لے جاؤں گا۔‘‘
’’کیا کہا؟۔۔۔ قبر میں؟‘‘ جمیل حیرت سے اُچھل پڑا۔
’’جی ہاں! قبر میں۔۔۔ اسی رقم کی خاطر تو میں نے گھر بار، عزیز رشتہ دار چھوڑے ہیں۔۔۔ یہ رقم مجھے بہت پیاری ہے۔۔۔میں قبر میں بھی اسے ساتھ رکھوں گا۔‘‘ دارا نے زور دے کر کہا۔
’’دارا! بخدا تمہارا دماغ چل گیا ہے!‘‘ جمیل نے تشویش سے کہا۔
’’نہیں! جمیل صاحب نہیں۔‘‘ دارا نے لرزتے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’یہ میری آخری خواہش ہے کہ آپ میری میت کے ساتھ یہ رقم بھی دفن کریں۔مجھے اس سے بہت پیار ہے۔۔۔ یہ وہاں میرے کسی کام آئے نہ آئے آپ اسے میرے ساتھ قبر میں دفن ضرور کر دیں۔‘‘ اوردارا خاموش ہو گیا۔
’’دارا ۔۔۔یہ مناسب نہیں۔۔۔دیکھو، یہ رقم کسی یتیم خانے کو دے دو یا حکومت کو واپس کر دو۔۔۔ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔‘‘ جمیل نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔لیکن دارا خاموش ہی رہا۔
جمیل کو تشویش ہوئی ،اس نے دارا کے سینے پر ہاتھ رکھا،دل حرکت کرنا بھول گیا تھا۔ نبض تھم چکی تھی اور سانس رک چکی تھی۔
اگلے روز دارا کو دفن کر دیا گیا۔قبرستان گاؤں کے قریب ہی تھا۔ دارا کی وصیت پر عمل نہ ہو سکا کیونکہ لوگ سوسو باتیں کرتے۔
’’اس صندوقچی میں کیا ہے؟ یہ قبر میں کیوں رکھی جا رہی ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
تاہم رات کو جمیل نے اپنی بیوی کو ساری بات بتائی اور مشورہ مانگا۔ بیوی نے کہا۔
’’ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے ، پھر مرنے والے کی آخری خواہش بھی تو پوری کرنی ضروری ہے۔ آپ ایسا کریں کہ آدھی رات کو جا کر صندوقچی اس کی قبر میں دفن کر دیں تا کہ اس کی روح کو سکون ملے۔‘‘
*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*
تین برس اور گزر گئے۔
حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ جمیل کا سارا کاروبار تباہ ہو گیا۔ اور وہ پائی پائی کا محتاج ہو گیا۔ وہی ڈیرہ جہاں مہمانوں کی قطاریں لگی رہتی تھیں وہیں اب ویرانی برستی تھی۔ جمیل کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو گئی۔تب اچانک اسے دارا ملنگ یاد آیا۔ اس نے اپنی بیوی سے ذکر کیا تو اس نے کہا۔
’’ایسا کرو، آج کی رات تم اس کی قبر سے کچھ رقم نکال لاؤ۔ جب ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو ہم اتنی ہی رقم واپس رکھ دیں گے۔‘‘
’’لیکن یہ امانت میں خیانت نہ ہو جائے؟‘‘
’’خیانت تو تب ہو گی جب ہم واپس نہ رکھیں گے۔ حالات سنورتے ہی تم وہ رقم واپس قبر میں رکھ دینا۔‘‘
اور جمیل مان گیا۔ چنانچہ آدھی رات کووہ زندگی میں دوسری بار قبرستان کی طرف روانہ ہوا ۔ لیکن اس بار اس پر عجیب سی بے چینی طاری تھی۔ اس نے قبر کھود دی۔
چندلمحوں تک تو جمیل صندوقچی ہاتھوں میں پکڑے بیٹھا رہا۔ ایک عجیب سی قوت اسے صندوقچی کھولنے سے روک رہی تھی۔ اس کا دل گھبرانے لگا….. لیکن پھر اس نے خود پر قابو پایااور صندوقچی کا ڈھکن ایک جھٹکے سے کھول دیا۔
صندوقچی میں نظر پڑتے ہی اس کے ہوش اُڑ گئے۔ خوف اور دہشت سے وہ پتھر کا بت بن گیا۔ صندوقچی میں نوٹوں کی گڈیوں کی جگہ کالے رنگ کے انتہائی خوفناک بچھو بھرے ہوئے تھے۔ ڈھکن کھلتے ہی ان میں افرا تفری مچ گئی۔
جمیل کو جیسے اچانک ہوش آگیا۔ اس نے صندوقچی پھینکی اور قبر سے باہر چھلانگ لگا دی۔ لیکن اسے تھوڑی سی دیر ہو گئی تھی۔ ایک خوفناک بچھو اپنا زہریلا ڈنک اس کے پاؤں میں اُتار چکا تھا۔ جمیل کے منہ سے بے اختیار ایک دلدوز چیخ نکل گئی اسے یوں لگا جیسے اس کے جسم میں انگارے بھر گئے ہوں۔ وہ گھر کی طرف بھاگنے لگا۔جیسے تیسے وہ گھر پہنچا۔ اور بستر پر گرتے ہی بے ہوش ہو گیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*
قادری صاحب ایک بہت بڑے عالم باعمل تھے۔ جو غازی پور کے قریب ہی ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ جمیل کو ہوش آیا تو وہ انہی کے پاس تھا۔ ٹخنوں تک اس کا پاؤں زہر کی وجہ سے سیاہ پڑ چکا تھا۔ قادری صاحب نے قرآنی آیات پڑھ کر دم کیا تھا، جس سے اس کا درد ختم ہو گیا اور وہ ہوش میں آ گیا تھا۔اب وہ خود کوکافی بہتر محسوس کر رہا تھا۔ پھر قادری صاحب کو اس نے دارا ملنگ کا سارا قصہ سنا دیا۔
’’جمیل ۔۔۔تم سے دو غلطیاں ہوئیں۔۔۔ پہلی یہ کہ تم نے حرام کی کمائی ہوئی دولت دارا ملنگ کی قبر میں دفن کر دی جو وہاں جا کر اُلٹا وبا بن گئی۔ تمہیں کسی عالمِ دین سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ ایسی وصیت پر عمل کرنا ضروری نہیں جو شرعاََ جائز نہ ہو۔۔۔ اور دوسری غلطی یہ کہ تم قبر سے رقم نکالنے چلے گئے حالانکہ یہ خیانت ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اذیت ناک موت سے بچا لیا۔‘‘
’’جی قادری صاحب!‘‘ جمیل نے سر جھکا کر ندامت سے کہا۔
قادری صاحب نے فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ۔۔۔ ’’بے شک تمہاری اولاد اور تمہارا مال تمہارے لیے فتنہ ہے۔۔۔‘‘ اسی لیے تو انسان جب قبر میں جاتا ہے تو خالی ہاتھ جاتا ہے، صرف نیک یا بُرے اعمال اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔۔۔ سکندر دنیا فتح کرنے نکلا اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوا لیکن جب اس کا وقت قریب آیا تو اس نے وصیت کی کہ میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکال کر رکھنا تا کہ دنیا والے دیکھ لیں کہ دنیا کو فتح کرنے والا سکندر بھی خالی ہاتھ جا رہا ہے۔‘‘
سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے!۔

818 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/hzusc66
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *