ظلم وبربریت کے سائے میں سلگتی وادی

Print Friendly, PDF & Email

تحریر : محمد مظہررشید چودھری 
دنیا میں ریاستی دہشت گردی کی بد ترین صورتحال سے دوچار علاقوں میں سے سرفہرست مقبوضہ کشمیر کی وادی ہے بھارتی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں نے گزشتہ تین دہائیوں سے ریاستی جبر وظلم کی جو کہانیاں مقبوضہ کشمیر میں رقم کی ہیں وہ شاید ہی اب تک اکیسویں صدی میں کہیں نظر آئی ہونگی نہتے کشمیری مسلمان نوجوانوں پر ظلم وستم کے ساتھ ہزاروں مسلمان خواتین کی عصمت دری کے واقعات نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبرداروں اوراقوام متحدہ کے ادارہ کی جانب سے مظلوموں کے لئے عملی اقدام نہ کرنے پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے مقبوضہ وادی پر ظلم وستم کی داستان تو اکہتر برس قبل سے جاری وساری ہے لیکن انیس سو اسی کی دہائی کے آخر سے اب تک ظلم وبربریت کے ہزاروں واقعات رونما ہوچکے ہیں ،سانچ کے قارئین کرام !کشمیر کا مسئلہ کب اور کیسے شروع ہوا اپنے سابقہ کالم سانچ سے کچھ نئے پڑھنے والوں کے لئے شامل کرتا چلوں ” پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پرتین بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہیں 1947 میں ریاستوں کے الحاق کے بارے میں بنایا گیا فارمولا جموں وکشمیراور چند دیگر ریاستوں پر لاگو نہ ہوسکنے کا سب سے بڑا سبب انگریز اور ہندوں رہنماؤں کی مکاریاں تھیں وائسرائے ہندوستان لارڈ ماؤنٹ بیٹن ،نہرو اور مہاراجہ کشمیرکے گٹھ جوڑ نے جو غیر منصفانہ فیصلہ کیا اِس کا خمیازہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان گزشتہ اکہترسال سے بھْگت رہے ہیں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر جبر ظلم وزیادتیوں کا لا متناہی سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے تقسیم ہند کے وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مسلم آبادی والے علاقے پاکستان اور ہندو آبادی والے اکثریتی علاقے بھارت میں شامل کیے جائیں گے اور ریاستیں دونوں ملکوں پاکستان اور بھارت سے الحاق کے فیصلہ میں آزاد ہونگی لیکن وائسرائے جو کہ برطانوی حکومت کا نمائندہ اور ہندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا اس نے جموں وکشمیر کے مہاراجہ اور نہرو کے ساتھ ساز باز ہو کر جموں و کشمیر بھارت کی جھولی میں ڈال دیا جبکہ حقیقت میں وہاں مسلمانوں کی اکثریتی آبادی تھی اس بنیادپر کشمیر کی وادی کاپاکستان کے ساتھ الحاق ہونا چاہیے تھا لیکن غیر منصفانہ فیصلہ نے کشمیری مسلمانوں کے لیے آزادی کی تحریک شروع کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہ چھوڑا ،ہری سنگھ 1925تا1949تک حکمران رہا تقسیم ہند کے وقت ڈوگرہ حکمرانوں کی خواہش تھی کہ ریاست کو بھارت کا حصہ بنایا جائے یا اس کی خود مختار حیثیت کو بحال رکھا جائے جبکہ وہاں کے مسلمانوں کا مطالبہ ریاست کو پاکستان کا حصہ بنانا تھا آخر کار ڈوگرہ کے تاخیری حربے کامیاب رہے 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ کشمیر نے بھارتی فوج کو مدد کے لیے پکارااور بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست بھی دے دی بھارت پہلے سے ہی کشمیر پر قبضہ کے لیے موقع کی تلاش میں تھا 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کشمیر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئی، سری نگر پر بھارتی قبضہ ہوگیا جبکہ آزاد کشمیر میں آزاد حکومت قائم ہوگئی یکم نومبر 1947 کو گلگت میں ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے اسلامی جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی گئی جبکہ بلتستان اور وادی گریز(تراگبل، قمری، کلشئی، منی مرگ) اور دیگر علاقوں میں 1948 تک جنگ ہوتی رہی 16 نومبر 1947 کو پاکستان نے اس پر کنٹرول حاصل کیا ،بھارت کی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ 1947سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حق خودارادیت دینے سے انکاری ہے” سانچ کے قارئین کرام ! تایخی حوالوں سے دیکھا جائے تو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو حق خودارادیت دینے کے وعدہ سے بھارت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ماننے کے بعد مکر چکا ہے ،گزشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں مقبوضہ وادی میں حریت پسندوں کے ساتھ معصوم کشمیری نوجوانوں اور خواتین پر ظلم وبربریت کی انتہا کر دی گئی ہے ،23سے 25نومبر 2018میں 18 نہتے کشمیریوں کو بھارتی فوج نے بیدردی سے شہید کر دیا بلکہ 25نومبر 2018کو بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ جنوبی کشمیر کے علاقے سے 8کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیاتھا ،ماہ دسمبر میں قابض فوج نے ضلع پلوامہ میں ایک کو کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا تھاکشمیر میڈیا سروس کے مطابق نوجوان کو کری واس رینزی پورہ کے علاقے میں نام نہاد سرچ آپریشن میں شہید کیا گیا شہید ہونے والے کشمیری نوجوان کی شناخت ایم بی اے ڈگری ہولڈر اشفاق احمد وانی کے نام سے ہوئی ،قابض فوج نے ضلع پلوامہ میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی،کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران 12 کشمیری نوجوانوں کوشہید اور 235 افرادکو زخمی کیا تھا،12 کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے بعد وادی میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا،مسلم ممالک کی تنظیم “او آئی سی” نے بھی نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا،جبکہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ کی باڈی نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ کشمیر میں جاری بربریت کے پیچھے بھارتی ریاست ملوث ہے۔پانچ فروی کو ایسا کیا ہوا کہ گزشتہ اُنتیس سال سے یہ دن پاکستان ،کشمیر سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اِس روز حکومت پاکستان کی جانب سے تعطیل کا اعلان ہوتا ہے، ہوا کچھ یوں کہ 1990کو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی اپیل پر اْس وقت کے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نوازشریف نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اپیل کی کہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا جائے گا لہذا پاکستان میں 5 فروری 1990ء کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ بھر پور طریقے سے کیا گیا ملک بھرخاص طور پر پنجاب میں زبردست ہڑتال ہوئی بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیریوں کو آزادی رائے کا حق دے اورجہاد کشمیر میں کامیابی کے لئے مساجد اور بڑے بڑے اجتماعات میں دعائیں مانگیں گئیں اْس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد تشریف لے گئیں اور آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کیا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کر کے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا،اْس دن سے ہر سال پانچ فروری کو کشمیریوں کو ہر ممکن اخلاقی تعاون کا یقین دلانے کے ساتھ ساتھ اس مسئلہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مکمل اخلاقی سپورٹ بھی کیا جاتا ہے سانچ کے قارئین کرام ! کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے گزشتہ اکہتر سال سے کوششیں جاری ہیں جنوبی ایشیاء کے دو اہم پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت ہیں بھارت کو سمجھ جانا چاہیے کہ پاکستان ایک مسلمہ حقیقت ہے اور دونوں ملکوں کی عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے مسئلہ کشمیر کا فوری حل وقت کی ضرورت ہے پاکستان پہلا اسلامی ایٹمی طاقت رکھنے والا دنیا کا ملک ہے جسکا دفاع ناقابل تسخیر ہے،پاک فوج وطن عزیز کے دفاع کے لئے ہر لمحہ تیار ہے وطن عزیز پاکستان میں دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے پاک فوج کے جوانوں نے بے شمار قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے موجودہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بھی امسال 5فروی کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اس روز کشمیریوں کو ہر ممکن اخلاقی تعاون کا یقین دلانے کے لئے ملک بھر میں سیمینار ،واک اور اقوام متحدہ کو یاداشتیں پیش کی جائیں گی ،ایک اندازے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں اسی ہزار سے زائدکشمیری مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کے واقعات رونما ہو چکے ہیں افسوس اقوام عالم بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں ظلم وبربریت سے روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے اقوام متحدہ کے ادارہ کی خاموش دنیا بھر کے مسلمانوں خاص طور پر کشمیریوں کے لئے اذیت کا سبب بن رہی ہے حالانکہ ادارہ اقوام متحدہ میں بھارت نے اکہترسال قبل کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا بھارت نے ان قراردادوں کو تسلیم کیا پھرجلد ہی منحرف ہو گیا تھاپاکستان آج بھی کشمیر میں رائے شماری کے حق میں ہے بھارت سے انسانی حقوق کے علمبردار ممالک یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ کشمیریوں کو رائے شماری کا حق کیوں نہیں دیا جارہا ؟ بے گناہوں کو شہید کیوں جا رہا ہے؟ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا ہے ؟

126 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y7zsygcf
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *