صحت ایمرجنسی کے دعوے

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:روفان خان، بنوں
ایک با ت ہمارے زہن میں گردش کرنے لگی ہے کہ خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کا نظام کب درست ہوگا؟ کب غربت کے ستائے غریب عوام کو حکومت کی جانب سے سہولیات ملیں گی ویسے بھی خیبرپختونخوا کے عوام وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ محبت کرتے ہیں2018کے عام انتخابات میں دوسری مرتبہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیاہے اس مقصد کی خاطر کہ ہم سب کو گھر کی دہلیز پرحکومت کی جانب سے سہولیات ملیں گی اس مشن کے تحت پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھی نکل آئے تھے اور یہی مشن ان کی پارٹی کابھی تھا انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے دوران بھی عمران خان نے وعدہ اور دعویٰ کیا تھا کہ اگراللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا تو ملک میں تعلیم،صحت اورتھانوں کا نظام درست کروں گا غریب عوام کو وہ سہولیات دوں گا جو سہولیات امیر کو میسر ہے،دیکھئے اللہ تعالیٰ جو بھی فیصلہ کرتا ہے تو وہ انسان کی نیت اور خلوص پر کرتا ہے وزیر اعظم عمران خان کی نیت بھی اچھی تھی اور ہوا بھی وہی جو وہ اللہ سے مانگتا تھا شروع وہ 2013 سے خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار ہیں اور اب 2018 میں وفاق اور خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ان کی حکومتیں بنیں خیبرپختونخوا میں پچھلی حکومت کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں خاطر خواہ تبدیلیاں لائیں تھانے،صحت اور تعلیم کا نظام کافی حد تک درست کردیا اب بھی ہرایک سرکاری ادارے میں شائد کمی بیشی ضرروہوگی لیکن وہ وقت وقت کے ساتھ ختم ہوجائیں گی اورکچھ ایسی کمی بیشیاں بھی ہوں گی جو وزیر اعظم عمران خان اب دور کرسکتے ہیں،قارئین میرے اس کالم مقصدیہ نہیں کہ میں کسی ادارے کے خلاف بولوں یا لکھوں،میں صرف ضلع بنوں اور اس کے مسائل اعلیٰ حکام تک کالم کے ذریعے پہنچانے کی کوشش کررہاہوں بنوں خیبر پختونخواکا ایک بڑا اور پسماندہ ضلعے کے طور پر سمجھا جاتا ہے ایک قومی اور چار صوبائی حلقوں پر مشتمل اس ضلع کی 2002 ؁سے قبل اتنی پہچان نہیں جتنی اب ہے ضلع میں تین بڑے ہسپتال ہیں ایک کا نام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال،دوسرے کا خلیفہ گل نواز ہسپتال اورتیسرے کا نام وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال ہے ا س میں مزے کی بات تویہ ہے کہ یہ تینوں ہسپتال جنوبی اضلاع کے عوام کا بوجھ برداشت کرنے لگے ہیں ان میں بنوں،لکی مروت،کرک اورشمالی وزیرستان شامل ہیں بدقسمتی سے ان تینوں ہسپتال میں مریضوں کو وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جودعوے انصاف پر بنی حکومت کررہی ہیں۔؟ہسپتالوں میں آئے روز مریضوں کا ہسپتال کے عملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں یہ راستہ لوگ جان بوجھ کر نہیں بلکہ تکلیف سے تنگ آکر اختیار کرتے ہیں کیوں کہ ان ہسپتالوں میں صفائی نہ ہونے کے برابر ہے مریضوں کو سو فیصد میں سے صرف پانچ فیصد دوائی مل جاتی ہیں باقی باہر میڈیکل سٹوروں سے خریدنے پر مجبورہوتے ہیں بجلی کا کوئی خاص انتظام نہیں ڈاکٹرز وقت پر ڈیوٹی نہیں کرتے صوبائی حکومت نے ہسپتالوں میں بائیو میٹرک نظام تورائج کیا ہے لیکن ڈاکٹرز صرف حاضری لگا کر رفوں چکر ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مریض سرکاری ہسپتالوں کی بجائے نجی ہسپتالوں کی طرف رخ کرتے ہیں وہاں مریضوں سے بھاری بھرکم فیس وصول کئے جاتے ہیں اب تو سردی کاموسم ہے لیکن گرمی کے موسم سے لے کراب تک خلیفہ گل نوازہسپتال میں اے سی پلانٹ خراب ہے ڈاکٹروں کے دفتروں میں اے سی کام کررہے ہیں اوروارڈوں میں نہیں، جس کے باعث مریض تو ہوتے ہی بیمار ہیں تاہم ان کے ساتھ آئے ہوئے تمیردار بھی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں صرف ہسپتالوں کی چار دیواری نظر آتی ہے لیکن اندر علاج کرنے والے دیکھنے کو نہیں ملتے ہسپتالوں میں سر عام آوارہ کتے پھرتے ہیں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں بھی کلاس فور ملازم سے ڈاکٹر کا کام لیا جاتا ہے اور ایمرجنسی میں ہاؤس جاب ڈاکٹرز اور عام شہری جنہیں تجربہ ہوتا ہیں ان سے کام لئے جاتے ہیں،نئی حکومت کے دعوے سننے میں آتے ہیں کہ ہم نے خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کا نظام درست کیا ہے مریضوں کو مفت دوائی مل رہی ہے ان کو گھر جیسا ماحول میسر ہے؟لیکن ہم نے خود دیکھا ہے کہ ہسپتالوں میں کیا ہورہاہے ہر طرف غریب عوام ذلیل و خوار و دونوں ہاتھوں سے لو ٹ رہے ہیں کوئی ہے پوچھنے والا،کیا کہوں نظام کاجوں کا توں ہے غریب عوام اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

30 total views, 3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y9od7q2a
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *